سیکیورٹی اور معیشت کا انتہائی اہم تعلق ، سی پیک اہم مثال ہے ، آرمی چیف
تازہ ترین : 1
سیکیورٹی اور معیشت کا انتہائی اہم تعلق ، سی پیک اہم مثال ہے ، آرمی چیف

سیکیورٹی اور معیشت کا انتہائی اہم تعلق ، سی پیک اہم مثال ہے ، آرمی چیف

دنیا کی قومی سلامتی، معاشی استحکام میں توازن کے حصول پر توجہ مرکوز ہے،پاکستان دنیا کے خطرناک ترین خطے میں واقع ہے ،ملک میں داخلی سلامتی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے امیدہے کراچی میں معاشی سرگرمیاں تیزی سے بحال ہوں گی،نان اسٹیٹ ایکٹرہماری سیکیورٹی ترجیحات کوکنٹرول کرناچاہتے ہیں صبح کی شہ سرخیاں پڑھنے کے بعد تجارتی اور اقتصادی صفحہ پڑھتا ہوں،سوویت یونین کمزور اقتصادی حالت کی وجہ سے ٹکڑے ہوا ،بہتر سیکیورٹی نہ ہونے کے باعث امیر ملک بھی جارحیت کا شکار ہوتے ہیں ،عراق کا کویت پر حملہ اس کی بہترین مثال ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ کشکول توڑنا ہے توٹیکس توجی ڈی پی کی شرح میں اضافہ کرناہوگا،معاشی پالیسیوں میں تسلسل اورٹیکس نیٹ بڑھانا ہوگا،بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات کے حامی ہیں لیکن تعلقات یکطرفہ نہیں ہوسکتے۔آج کے دورمیں ملک نہیں بلکہ خطے ترقی کرتے ہیں مدارس میں ایسے اقدامات ہونے چاہئیں طلباء معاشرے کامفیدشہری بنیں،عدلیہ ،پولیس کے ساتھ مدارس کے نظا م میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔حالیہ محرم گزشتہ کے مقابلے میں پرامن ترین رہا،آئی ایس پی آر کے زیر اہتمام معیشت اور سلامتی کے موضوع پر سیمینار سے خطاب

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اکتوبر2017ء) چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ سیکیورٹی اور معیشت کا انتہائی اہم تعلق ہے جس کی پاک چین اقتصادی راہداری اہم مثال ہے،سوویت یونین کمزور اقتصادی حالت کی وجہ سے ٹکڑے ہوا ، معیشت زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوتی ہے ، دنیا کی قومی سلامتی اور معاشی استحکام میں توازن کے حصول پر توجہ مرکوز ہے،،پاکستان دنیا کے خطرناک ترین خطے میں واقع ہے ،ملک میں داخلی سلامتی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے،امیدہے کراچی میں معاشی سرگرمیاں تیزی سے بحال ہوں گی،نان اسٹیٹ ایکٹرہماری سیکیورٹی ترجیحات کوکنٹرول کرناچاہتے ہیں۔

بدھ کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے زیر اہتمام معیشت اور سلامتی کے موضوع پر سیمینار ہوا۔سیمینار سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خطاب کیا۔ آرمی چیف نے کہا کہ اس اہم موضوع پر سیمینار کا انعقاد نہایت قابل تعریف ہے۔سیمینار میں پیش کردہ مقالہ جات نہایت اعلیٰ معیار کے ہیں ،امید کرتا ہوں کہ سیمینار کے نتائج سے متعلقہ فریقین استفادہ حاصل کریں گے۔

انہوں نے کہا معیشیت زندگی کے ہر پہلو پر اثرانداز ہوتی ہے، روس کے پاس ہتھیار کم نہ تھے لیکن کمزور معیشت کے سبب ٹوٹا۔ شروع سے ہی پاکستان کو کئی بحرانوں کا سامنا رہا، ہم دنیا کے سب سے زیادہ غیر مستحکم خطے میں رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہتر سیکیورٹی نہ ہونے کے باعث امیر ملک بھی جارحیت کا شکار ہوتے ہیں اور اس کی مثال عراق کا کویت پر حملہ ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ آج کے دور میں سیکیورٹی ایک وسیع موضوع ہے، سلامتی اور معیشت ایک دوسرے سے جڑ ے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں داخلی سلامتی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، ریاست کی رٹ کو درپیش چیلنجزکو شکست دی گئی ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ مضبوط معیشتوں نے جارحیت کا بھی سامنا کیا ہے، مختلف عالمی نظریات میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تبدیلی آئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قومی لائحہ عمل پرعمل درآمد کیلیے جامع کوششوں کی ضرورت ہے، امید کرتا ہوں سیمینار کے نتائج سے متعلقہ فریقین استفادہ کریں گے۔ انہوں نے کہا میں صبح کی شہ سرخیاں پڑھنے کے بعد تجارتی اور اقتصادی صفحہ پڑھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ معیشت زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوتی ہے ،سیکیورٹی اور معیشت کا انتہائی اہم تعلق ہوتا ہے۔

سوویت یونین کمزور اقتصادی حالت کی وجہ سے ٹکڑے ہوا ،بہتر سیکیورٹی نہ ہونے کے باعث امیر ملک بھی جارحیت کا شکار ہوتے ہیں ،عراق کا کویت پر حملہ اس کی بہترین مثال ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دنیا کی قومی سلامتی اور معاشی استحکام میں توازن کے حصول پر توجہ مرکوز ہے ،پاکستان دنیا کے خطرناک ترین خطے میں واقع ہے۔ پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے کثیر الجہتی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔

ہم نے قیام امن کیلیے بہت محنت کی،امیدہے کراچی میں معاشی سرگرمیاں تیزی سے بحال ہوں گی،پاکستان کو اس وقت اسٹرٹیجک چیلنجزکاسامناہے،پائیدارترقی کیلیے ملک بھرمیں امن وامان قائم کرناہوگا،نان اسٹیٹ ایکٹرہماری سیکیورٹی ترجیحات کوکنٹرول کرناچاہتے ہیں،ہماری سیکیورٹی ترجیحات کامعاشی مستقبل کیساتھ گہراتعلق ہے،اس کی اہم مثال پاک چین اقتصادی راہداری ہے۔

آرمی چیف نے کہا ملک میں داخلی سلامتی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے،قومی سلامتی اورمعاشی استحکام میں توازن کے حصول پرتوجہ مرکوزہے،قومی لائحہ عمل پرعملدرآمدکیلئے جامع کوششوں کی ضرورت ہے انہوں نے کہا معیشت زندگی کیہرپہلوپراثراندازہوتی ہے،پاکستان گزشتہ 4دہائیوں سے کثیرالجہتی چیلنجزسے نبردآزماہے معیشت آپ کی پوری زندگی سے منسلک ہے،اخبارمیں ہیڈ لائنزدیکھنے کے بعدبزنس اورمعیشت کاصفحہ پڑھتاہوں،سیکیورٹی اورمعیشت کا گہراتعلق ہے،کراچی پاکستان کامعاشی حب ہے،جب کراچی رستاہے توپوراپاکستان متاثرہوتاہے،کراچی میں امن ہماری اولین ترجیح ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ مستقبل محفوظ بنانے کیلئے مشکل فیصلے کرناہوں گے۔اکانومی اور سکیورٹی میں مائیکروتعلق میں بہترین مثال کراچی ہے۔آرمی چیف نے کہاکہ کشکول توڑنا ہے توٹیکس توجی ڈی پی کی شرح میں اضافہ کرناہوگا۔معاشی پالیسیوں میں تسلسل اورٹیکس نیٹ بڑھانا ہوگا۔ اکانومی ملے جلے اشارے دے رہی ہے۔گروتھ اوپرجارہی ہے لیکن قرضے آسمان سے باتیں کررہے ہیں۔

انفراسٹرکچر اور توانائی بہتر ہورہی ہے لیکن کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس حق میں نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ دودہائیوں سے سکیورٹی ریاست کامرکزی کام بن گیاہے۔جبکہ پچھلی دودہائیوں سے مختلف عالمی نظریات میں تبدیلی آئی ہے۔مضبوط معیشتوں نے جارحیت کابھی مقابلہ کیاہے۔انہوں نے کہاکہ روس کمزوراقتصادی حالات کے باعث ٹوٹا۔روس کے پاس ہتھیاروں کی کمی نہ تھی بلکہ روس معیشت کمزورہونے سے ٹوٹا۔

کویت اقتصادی قوت ہے لیکن کمزورسکیورٹی کے باعث نشانہ بنا۔عراق کا کویت پرحملہ اس کی مثال ہے۔آج دینامعیشت اور سکیورٹی میں توازن کی جانب گامزن ہے۔آرمی چیف نے کہاکہ ہم نے قیام امن کیلئے بہت محنت کی ہے۔کراچی میں قیام امن ہماری اولین ترجیح ہے۔کراچی پاکستان کامعاشی حب ہے جب کراچی رستاہے توپوراپاکستان متاثرہوتا ہے۔ امید ہے کراچی میں معاشی سرگرمیاں تیزی سے بحال ہوں گی۔

دشمن پاکستان کوناکام بناناچاہتاہے۔دشمن نے کراچی میں خون خراباکرکے عدم استحکام کی کوشش کی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کواسوقت اسٹریٹجک چیلنجزکاسامناہے۔پائیدارترقی کیلئے امن وامان قائم کرناضروری ہے۔آرمی چیف نے کہاکہ نان اسٹیٹ ایکٹرزسکیورٹی ترجیحات کوکنٹرول کرناچاہتے ہیں۔ہماری سکیورٹی ترجیحات کامعاشی مستقبل کے ساتھ گہراتعلق ہے۔

بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات کے حامی ہیں لیکن تعلقات یکطرفہ نہیں ہوسکتے۔آج کے دورمیں ملک نہیں بلکہ خطے ترقی کرتے ہیں۔جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہاکہ ہم دنیاکے غیرمستحکم ترین خطے میں رہ رہے ہیں۔ہمیں مشرقی سرحد پرجارح بھارت اور مغربی سرحد پرغیرمستحکم افغانستان کاسامناہے۔مغربی سرحد کوسفارتی اور عسکری اقداما ت سے محفوظ بنارہے ہیں۔

چاردہائیوں سے مختلف خطرناک چیلنجزسے نمٹ رہے ہیں۔ہم نے ریاستی رٹ کوچیلنج کرنے والے خطرات کوشکست دے دی ہے،پاکستان کی اندرونی سکیورٹی صورتحال بہترہوئی ہے۔مسائل کوخطرہ بننے سے پہلے نمٹناہوگا۔نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمدکی جامع کوششیں ضروری ہیں۔نیشنل ایکشن پلان پرپوری طرح عملدرآمدضروری ہے۔آرمی چیف نے کہاکہ مدارس میں اصلاحات کامعاملہ بھی اہم ہے۔

مدارس میں ایسے اقدامات ہونے چاہئیں کہ طلبائ معاشرے کامفیدشہری بنیں۔عدلیہ ،پولیس کے ساتھ مدارس کے نظا م میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔حالیہ محرم گزشتہ کے مقابلے میں پرامن ترین رہا۔ آرمی چیف نے کہاکہ نان اسٹیٹ ایکٹرزسکیورٹی ترجیحات کوکنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ ہم دنیاکے غیرمستحکم ترین خطے میں رہ رہے ہیں۔

چاردہائیوں سے مختلف خطرناک چیلنجزسے نمٹ رہے ہیں۔ہم نے ریاستی رٹ کوچیلنج کرنے والے خطرات کوشکست دے دی ہے ،اس موقع پرسینیٹرمشاہدحسین سیدنے کہاکہ نیابیانیہ تشکیل دیناآگے بڑھنے کاراستہ ہے ،ہمیں مل کرآگے بڑھناہوگا،کرپشن کیلئے زیروٹارلرننس ہونی چاہئے ،سابق صدرسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹراشتیاق حسین نے پاکستان کی معیشت کے مستقبل اورماضی کے حوالے سے گفتگوکی ،انہوںنے سول وسائل کے ضیاع پرروشنی ڈالی اورکہاکہ نئی چیزیں پرکشش اورشاندارہوتی ہیں لیکن موجودہ پالیسیوں کوبرقرارنہ رکھے جانے اورسردمہری کے اقدامات کی وجہ سے ملک کوبہت سارانقصان اٹھاناپڑتاہے ،سی پیک ترقی کیلئے ایک اچھااسٹریٹجک آپشن ہے ،سابق مشیرخزانہ ڈاکٹرسلمان شاہ نے کہاکہ اقتصادی راہداری عام طورپرانتہائی موزوں اورمناسب اندازمیں علاقائی اقتصادی مراکزکوآپس میں جوڑتی ہے ۔

انہوںنے کہاکہ سی پیک کاسافٹ ویئرہارڈویئرسے زیادہ اہم نوعیت کاہے ،چین اس وقت دنیاکی سب سے بڑی معیشت ہے جوکہ سرمایہ کاری ،ٹیکنالوجی اورپاکستان کی اقتصادی بہتری کے حوالے سے بڑاذریعہ ہوسکتاہے ۔ہمیں چین سے سیکھناچاہئے کہ معیشت کوکس طرح برقراراوراس کے انتظامات کئے جاسکتے ہیں ۔سی پیک پاکستان کے اندراقتصادی وتجارتی ربط پیداکرتی ہے ۔

ڈائریکٹرجنرل فرنٹیئرورکس آرگنائزیشن ایف ڈبلیواولیفٹیننٹ جنرل محمدافضل نے سی پیک کی جیواسٹریٹجک وجیواکنامک اہمیت کواجاگرکیا۔انہوںنے کہاکہ پاکستان قدرتی معدنیات اورکوئلے کے وسائل سے مالامال ملک ہے اورہمیں اس صلاحیت سے فائدہ اٹھاناچاہئے ۔انہوںنے کہاکہ سی پیک کوفعال رکھنے کیلئے پہلی مرتبہ ہم نے گزشتہ موسم سرماکے دوران خنجراب پاس کوکھلارکھاہے ،ایف ڈبلیواونے پاکستان ریلوے کے ساتھ مل کرریلوے کے انفراسٹرکچرکی بہتری کیلئے بھی کام کیاہے اوراس میں سب سے زیادہ اہم چیزفرائیٹ کوریڈورکے ساتھ ساتھ ایم ایل ۔

2بھی شامل ہے ۔ایف ڈبلیواوکے پی کے حکومت کے ساتھ خیبرپختونخواہ میں آئل ریفائنری کی بھی منصوبہ بندی کررہاہے ،جبکہ سیمنٹ کی تیاری کیلئے پلانٹ کامنصوبہ بھی زیرغورہے ۔اس موقع پرڈائریکٹرجنرل آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفور،وزارت خزانہ کے سابق مشیرڈاکٹراشفاق حسن ،ڈاکٹرفرح سلیم اورڈاکٹرعین الحسن نے بھی خطاب کیا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/10/2017 - 22:08:19

اپنی رائے کا اظہار کریں