ْ شعبہ اعلیٰ تعلیم اور شعبہ صحت دونوں کیلئے مشترکہ آزاد مانیٹرنگ یونٹ قائم کرنے ..
تازہ ترین : 1
ْ شعبہ اعلیٰ تعلیم اور شعبہ صحت دونوں کیلئے مشترکہ آزاد مانیٹرنگ یونٹ ..

ْ شعبہ اعلیٰ تعلیم اور شعبہ صحت دونوں کیلئے مشترکہ آزاد مانیٹرنگ یونٹ قائم کرنے کی ہدایت

موجودہ حالات میں طلباء کو صرف ڈگری دینے پر اکتفاء کرنا ایک بہت بڑا مذاق ہے،پرانے تعلیمی نظام کا کوئی مقصد اور استعمال نہیں ہے،پرویزخٹک

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اکتوبر2017ء)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے شعبہ اعلیٰ تعلیم اور شعبہ صحت دونوں کیلئے مشترکہ آزاد مانیٹرنگ یونٹ قائم کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ تعلیم اور صحت کے اداروں میںموثر مانیٹرنگ کے ذریعے عملہ کی حاضری یقینی بنائی جا سکے انہوں نے ہدایت کی کہ اس ضمن میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے مانیٹرنگ سسٹم کو اختیار کیا جائے وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں شعبہ اعلیٰ تعلیم میں صوبائی حکومت کے اصلاحاتی اقدامات پر چوتھے سٹاک ٹیک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم مشتاق غنی، سٹریٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید ، سیکرٹری اعلیٰ تعلیم ظفر علی شاہ اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی اجلاس میںتیسرے سٹاک ٹیک اجلاس کے فیصلوں کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ویمن یونیورسٹی مردان کیلئے اراضی کے حصول کی تجویز اور اسکے لئے مختلف جگہوں کی نشاندہی سے اتفاق کیا۔

انہوں نے سرکاری کالجوں میں بی ایس کلاسوں کے نئے پروگرام کے تحت پیش کی گئی مختلف تجاویز سے بھی اتفاق کیا اور کہا کہ ان کی حکومت صوبے میں تعلیمی نظام کو اپگریڈ کرنے کیلئے بھرپور اقدامات اٹھائیگی۔ انہوں نے کالجز کی عدم مرکزیت) decentralization ) کو بھرپور طریقے سے مشتہر کرنے اور اس سلسلے میںمعاشرے کے تمام طبقات سے سفارشات حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے انہوں نے کہا کہ سرکاری کالجوں کی عدم مرکزیت اور ان کو بااختیار بنانے کے حوالے سے حکومت کی نیک نیتی کو مخالفین نے اپنے سیاسی مقاصد کیلئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یہ بے بنیاد الزامات ان قوتوں کی طرف سے طے کئے جا رہے ہیںجو تعلیم کے پرانے ناکارہ نظام کے ذریعے ذاتی مفادات حاصل کرتے رہے یہی مفادپرست عناصر آج بھی عوام کو گمراہ کر رہے ہیںیہی وجہ ہے کہ آج تک تعلیمی نظام کو اس سطح تک اپ گریڈ نہیں کیا گیا جو ہونا چاہئے تھا۔ موجودہ حالات میں طلباء کو صرف ڈگری دینے پر اکتفاء کرنا ایک بہت بڑا مذاق ہے۔

پرانے تعلیمی نظام کا کوئی مقصد اور استعمال نہیں ہے۔ اس لئے ان کی حکومت نے تعلیمی نظام کو اپ گریڈ کرنے ، تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ اور ایوالویشن کا فیصلہ کیا ہے ۔وزیراعلیٰ نے صوبے کے تمام کالجوں میں عملے کی حاضری یقینی بنانے کیلئے بائیومیٹرک سسٹم کی ہدایت کی اور کہا کہ غیر حاضری کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے۔ وہ اساتذہ جو بغیر کسی وجہ کے عادتاً اور ارادتاً غیر حاضر رہتے ہیںوہ ان غیر حاضر ایام کی تنخواہ لینے کے حقدار نہیں ہیںاسلئے غیرحاضری پر تنخواہوں کی کٹوتی کا سسٹم موجود ہونا چاہئے ہم ایک ایسا تعلیمی نظام دینا چاہتے ہیں جس میں ہر شخص اپنے فرائض ایمانداری اور بہترین طریقے سے سرانجام دے کالجز میں کلاسوں کو سٹریم لائن کیا جائے اور بی ایس پروگرام کو فروغ دیا جائے وہ طلباء جو اپنی سٹڈی میں کمزور ہیں ان کے لئے شام کے اوقات میں ٹیوشن کا بندوبست بھی ہونا چاہئے پرویز خٹک نے کہا کہ وہ طلباء کے مستقبل کی قیمت پر کسی شخص کو بھی رعایت دینے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

تعلیم کے اپگریڈڈ نظام کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہے حکومت کالجز کو مضبوط کرنے، لیبارٹریز کو بہتر کرنے، اساتذہ کی موثر تربیت پر خرچہ کریگی تاکہ بی ایس پروگرام کا نفاذ ممکن ہو سکے ۔ معیاری تعلیم ہمارا ہدف ہے کیونکہ ہم اپنے بچوں کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ تعلیم کے معیار کو متاثر کرنے کیلئے اوپر کی سطح سے یا دائیں بائیں سے کسی قسم کی غیر ضروری مداخلت اور سفارش کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ حکومت ہر کالج کیلئے مطلوبہ وسائل پہلے سے مختص کر چکی ہے اور تعلیم کے مجموعی نظام کو فعال و معیاری بنانے کیلئے اختیارات منتقل کئے گئے ہیںجس کا مقصد یہی ہے کہ تمام تر رکاوٹوں اور کمزوریوں کو دور کرکے تعلیمی نظام کو پنپنے کا موقع دیا جائے کیونکہ اپنے تعلیمی نظام کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کا یہی واحد اور آخری طریقہ ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/10/2017 - 20:25:31

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں