روہنگیا کے مسلمان نوجوان کی بوڑھے والدین کو ٹوکری میں بٹھا کر کندھوں پر اُٹھانے ..
تازہ ترین : 1

روہنگیا کے مسلمان نوجوان کی بوڑھے والدین کو ٹوکری میں بٹھا کر کندھوں پر اُٹھانے کی تصویر وائرل

روہنگیا کے مسلمان نوجوان کی بوڑھے والدین کو ٹوکری میں بٹھا کر کندھوں ..
روہنگیا (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 ستمبر 2017ء): روہنگیا میں مسلمانوں پر برمی فوج اور برما کے بدھ مت رہائشیوں کے مظالم کی انتہا ہوئی تو مسلمانوں نے جان بچا کر بنگلہ دیش کا رُخ کر لیا ۔ برما میں مسلمانوں کے قتل عام اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تصاویر اور ویڈیوز تو پوری دنیا میں دیکھی گئیں جنہیں سوشل میڈیا پر شئیر بھی کیا گیا لیکن سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک تصویر نے نہ صرف صارفین نے آنکھیں نم کر دیں بلکہ ان کے دلوں کو بھی خون کے آنسو رُلا دیا۔

سوشل میڈیا ویب سائٹس پر روہنگیا کے ایک نوجوان مسلمان کی تصویر بھی وائرل ہوئی ۔ اس تصویر میں دیکھا گیا کہ اس مسلم جوان نے اپنی بوڑھے والدین کو ٹوکریوں میں بٹھا کر اپنے کندھوں پر اُٹھا رکھا ہے۔ نوجوان نے اپنے والدین کو رخائن میں مسلمانوں کے خلاف جاری مظالم سے بچانے کے لیے ایسا کیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس تصویر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس عمر میں ، جب بچے اسکولوں میں زیر تعلیم ہوتے ہیں اور ان کے کندھوں پر کتابوں اور بستے کا بوجھ ہوتا ہے اس نوجوان نے اپنے بوڑھے والدین کا بوجھ اپنے کندھوں پر ڈال لیا ہے۔

نوجوان نے بتایا کہ میں اپنے بوڑھے والدین کو رخائن میں نہیں چھوڑنا چاہتا تھا اسی لیے میں انہیں تشدد اور ظلم سے بچانے کے لیے 7 دن ننگے پاؤں مسلسل سفر کر کے اس طرح اُٹھا کر بنگلہ دیش بارڈر پہنچ گیا۔اس نوجوان کی وائرل ہوتی اس تصویر نے سوشل میڈیا صارفین کے دل دہلا دئے ۔ صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی حکومت کو بھی روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے فی الفور اقدامات کرنے چاہئیں اور برمی فوج کے مسلمانوں پر کیے جانے والے مظالم کے خلاف عالمی سطح پر آواز بھی اُٹھانی چاہئیے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/09/2017 - 13:50:07

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں