عوامی سنٹر میں لگنے والی آگ شارٹ سرکٹ سے ہوئی، سی پیک کا تمام ریکارڈ پلاننگ کمیشن ..
تازہ ترین : 1
عوامی سنٹر میں لگنے والی آگ شارٹ سرکٹ سے ہوئی، سی پیک کا تمام ریکارڈ ..

عوامی سنٹر میں لگنے والی آگ شارٹ سرکٹ سے ہوئی، سی پیک کا تمام ریکارڈ پلاننگ کمیشن کے پاس محفوظ ہے ، حتمی رپورٹ آنے کے بعد کارروائی کی جائے گی،بھارت کی قیادت تنگ نظر ی کا مظاہرہ کر رہی ہے،

وہ پورے خطے کیلئے تشویشناک ہے، معاملات بات چیت سے حل ہونے چاہئیں، پہلی ترجیح نیشنل ایکشن پلان ہے، وزارت داخلہ نہیں لینا چاہتا تھا مگر مجھے زبردستی دی گئی ، چوہدری نثار کے بیانات سے سٹاک مارکیٹ تو نہیں گرتی اس لئے میں ان کے بیان کو جھٹکا قرار نہیں دے سکتا،مشرف افغانستان کی جنگ پاکستان میں لے کر آئے، مشرف کی وجہ سے فوج اس نہج پر پہنچی کہ ان کو شرمندگی کا سامنا ہے، انہوں نے صرف ملک کا نہیں جمہوریت کا نقصان بھی کیا ،مشرف انشاء اللہ قانون کا سامنا کریں گے، انکے خلاف کارروائی کا مطلب یہ نہیں کہ فوج کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے ، نواز شریف کے ٹرائل سے صرف کراچی سٹاک مارکیٹ میں 14 سے 16 ارب ڈالر کا جھٹکا لگا ، ہماری عدلیہ نے ایک فیصلہ ایسا کیا جس کے بعد 4دن ملک میں کوئی حکومت نہیں تھی ، لوگ کہتے تھے کہ نواز شریف جائیں گے تو پارٹی کے 50 ٹکڑے ہو جائیں گے ،سیاسی مخالفین کی سوچ خاک میں جا ملی، ہمیں گولیاں برسانے والے نوجوانوں کی نہیں بلکہ نوبل انعام جیتنے والے نوجوانوں کی ضرورت ہے، ہم پاکستان کی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے،تمام اداروں کا فرض ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام نہ ہونے دیں، وفاقی وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال کی نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو

,اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 ستمبر2017ء) وفاقی وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ عوامی سنٹر میں لگنے والی آگ شارٹ سرکٹ سے ہوئی، سی پیک کا تمام ریکارڈ پلاننگ کمیشن کے پاس محفوظ ہے ، حتمی رپورٹ آنے کے بعد کارروائی کی جائے گی،بھارت کی قیادت تنگ نظر ی کا مظاہرہ کر رہی ہے، وہ پورے خطے کیلئے تشویشناک ہے، معاملات بات چیت سے حل ہونے چاہئیں، میری پہلی ترجیح نیشنل ایکشن پلان ہے،میں وزارت داخلہ نہیں لینا چاہتا تھا مگر مجھے زبردستی دی گئی ، چوہدری نثار کے بیانات سے سٹاک مارکیٹ تو نہیں گرتی اس لئے میں ان کے بیان کو جھٹکا قرار نہیں دے سکتا،مشرف افغانستان کی جنگ پاکستان میں لے کر آئے، مشرف کی وجہ سے فوج اس نہج پر پہنچی کہ ان کو شرمندگی کا سامنا ہے، انہوں نے صرف ملک کا نہیں جمہوریت کا نقصان بھی کیا ،مشرف انشاء اللہ قانون کا سامنا کریں گے، انکے خلاف کارروائی کا مطلب یہ نہیں کہ فوج کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، ملک کے ساتھ اتنا بڑا جھٹکاکیا گیا جس کی ہمیں معاشی سزا ملی، نواز شریف کے ٹرائل سے صرف کراچی سٹاک مارکیٹ میں 14 سے 16 ارب ڈالر کا جھٹکا لگا ، ہماری عدلیہ نے ایک فیصلہ ایسا کیا جس کے بعد 4دن ملک میں کوئی حکومت نہیں تھی اور لوگ کہتے تھے کہ نواز شریف جائیں گے تو پارٹی کے 50 ٹکڑے ہو جائیں گے ،سیاسی مخالفین کی سوچ خاک میں جا ملی، ہمیں گولیاں برسانے والے نوجوانوں کی نہیں بلکہ نوبل انعام جیتنے والے نوجوانوں کی ضرورت ہے، افغان جہاد کے اثرات ہمارے ملک اور تعلیمی اداروں پر بھی پڑے، مدرسے یہاں صدیوں سے تھے کبھی انہوں نے شدت پسندی نہیں پھیلائی ،اگر ہم اقوام متحدہ کی بین کردہ تنظیموں کے خلاف کارروائی نہیں کرتے تو پاکستان مخالف لوگ پاکستان کے خلاف پابندیوں کو ہوا دینے کیلئے اقدامات کر سکتے ہیں، کچھ دنوں میں مذہبی جماعتوں سیمیٹنگ کر کے دہشت گردی کی طرف راغب نوجوانوں کو دوبارہ قومی دھارے میں لانے کی کوشش کریں گے، ہم پاکستان کی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے،تمام اداروں کا فرض ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام نہ ہونے دیں۔

وہ بدھ کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کررہے تھے۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ کراچی میں میچز کیلئے بین الاقوامی سیکیورٹی اداروں سے کلیئرنس حاصل کریں، کسی بھی زندہ قوم کیلئے خود احتسابی ایک مسلسل عمل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1980کی دہائی میں سوویت یونین کی افغانستان میں آمد کے بعد پاکستان میں ایک مخصوص حکمت عملی بنائی گئی، مدرسے یہاں صدیوں سے تھے کبھی انہوں نے شدت پسندی نہیں پھیلائی مگر جب افغانستان کا جہاد ہوا تو مغربی ایجنسیوں نے مشرق وسطیٰ اور برما وغیرہ سے لوگوں کو لا کر پاکستان میں یکجا کیا اور امریکہ کی یونیورسٹیوں سے بنایا گیانصاب ان لوگوں کو پڑھایا گیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ افغان جہاد کے اثرات ہمارے ملک اور تعلیمی اداروں پر بھی پڑے، اب ہمیں گولیاں برسانے والے نوجوانوں کی نہیں بلکہ نوبل انعام جیتنے والے نوجوانوں کی ضرورت ہے، اگر ہم اقوام متحدہ کی بین کردہ تنظیموں کے خلاف کارروائی نہیں کرتے تو پاکستان مخالف لوگ پاکستان کے خلاف پابندیوں کو ہوا دینے کیلئے اقدامات کر سکتے ہیں، ہم نے پاکستان کو بہتر رکھنے کیلئے بہت اقدامات کئے ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ کچھ دنوں میں مذہبی جماعتوں کے ساتھ میٹنگ کر رہے جس سے ہم دہشت گردی کی طرف راغب نوجوانوں کو دوبارہ قومی دھارے میں لانے کی کوشش کریں گے، ہم پاکستان کی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، اب ہم معاشی ترقی کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام اداروں کا فرض ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام نہ ہونے دیں، یہ مسلم لیگ (ن) کی سیاسی بصیرت ہے کہ انہوں نے پر امن انتقال اقتدار کیا، چوہدری نثار کے بیانات سے سٹاک مارکیٹ تو نہیں گرتی اس لئے میں ان کے بیان کو جھٹکا قرار نہیں دے سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ملک کے اندر انتشار پیدا نہ ہونے دیں کیونکہ ملک کو اتنے بڑے چیلنجز درپیش ہیں جن کا احاطہ ہونا مشکل ہے، تمام اداروں کا فرض ہے کہ ملک کو متحد رکھیں کیونکہ ہمیں اندرونی اتحاد کی ضرورت ہے، ملک کے ساتھ اتنا بڑا جھٹکاکیا گیا جس کی ہمیں معاشی سزا ملی، نواز شریف کے ٹرائل سے صرف کراچی سٹاک مارکیٹ میں 14 سے 16 ارب ڈالر کا جھٹکا لگا ہے، خدانخواستہ اس سے بھی کوئی بڑا نقصان ہو سکتا تھا، ہماری عدلیہ ایک ایسا فیصلہ کیا جس کے بعد 4دن کیلئے ملک میں کوئی حکومت نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے تھے کہ جس دن نواز شریف جائیں گے تو پارٹی کے 50 ٹکڑے ہو جائیں گے مگر سیاسی مخالفین کی سوچ خاک میں جا ملی، میں وزارت داخلہ نہیں لینا چاہتا تھا مگر مجھے زبردستی دی گئی کیونکہ چوہدری نثار صاحب کابینہ میں شامل ہونے کو تیار نہیں تھے، 2010 کے بعد میں پہلا وزیر داخلہ ہوں جس نے نیکٹا کا دورہ کیا۔وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف کے متعلق فیصلے پر نظرثانی کی اپیل دائر کی ہے اس لئے ہمارا موقف ہے کہ تب تک نیب میں کیس کو روکنا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ کہا تھا کہ اگر مشرف عدالتوں کا سامنا کئے بغیر ملک سے باہر چلا گیا تو پھر میں سیاست چھوڑ دوں گامگر اب تو یہ بات واضح ہے کہ ان کو خود عدلیہ نے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی ہے، مشرف افغانستان کی جنگ پاکستان میں لے کر آئے، مشرف انشاء اللہ قانون کا سامنا کریں گے، مشرف کے خلاف کارروائی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فوج کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے بلکہ مشرف کی وجہ سے فوج اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ ان کو شرمندگی کا سامنا ہے، اور افسران وردی پہن کر شہروں میں نہیں جا سکتے تھے، مشرف نے صرف ملک کا نہیں بلکہ جمہوریت کا نقصان بھی کیا تھا۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہم قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں گے، ہم مربوط انداز میں پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوامی سنٹر میں لگنے والی آگ ابتدائی رپورٹ کے مطابق شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوئی مگر ابھی حتمی رپورٹ آنا باقی ہے، سی پیک کا تمام ریکارڈ پلاننگ کمیشن کے پاس ہے اور محفوظ ہے جبکہ دیگر ریکارڈ بھی محفوظ ہے، حتمی رپورٹ آنے کے بعد کارروائی کی جائے گی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارت کی قیادت تنگ نظر ی کا مظاہرہ کر رہی ہے، وہ پورے خطے کیلئے تشویشناک ہے، معاملات بات چیت سے حل ہونے چاہئیں، میری پہلی ترجیح نیشنل ایکشن پلان ہے، ماں باپ، ہمسائے، غازی، اساتذہ اور پوری کمیونٹی مل کر اس پلان کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سول آرمڈ فورسز کی حالت بہت خراب ہے ان کی بہتری کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، تیسری ترجیح اسلام آباد پولی سکو ماڈرن ٹیکنالوجی سے آراستہ کریں۔ احسن اقبال نے کہا کہ قانون ہے مگر اس کو نافذ نہیں کیا جاتا، ہم نے امیگریشن کو اپ گریڈ کرنے کیلئے اقدامات کئے ہیں تا کہ عوام کو تکلیف سے بچایا جا سکے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/09/2017 - 23:19:48

اپنی رائے کا اظہار کریں