سینٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کی ملتان میٹرو بس منصوبے میں مبینہ کرپشن کا فرانزک آڈٹ ..
تازہ ترین : 1

سینٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کی ملتان میٹرو بس منصوبے میں مبینہ کرپشن کا فرانزک آڈٹ کرانے کی سفارش

مختلف سرکاری اداروں میں 387ارب سے زائد کی کرپشن پر اداروں کے سربراہوں کو بلانے کا فیصلہ قائمہ کمیٹی کا ایس ای سی پی کی جانب سے معلومات فراہم نہ کرنے پر برہمی کا اظہار، اگلے اجلاس میں تمام معلومات تحریری طور پر فراہم کرنے کی ہدایت

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 ستمبر2017ء) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ملتان میٹرو بس منصوبے میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کا فرانزک آڈٹ کرانے کی سفارش کی ہے ،کمیٹی نے مختلف سرکاری اداروں میں 387ارب روپے سے زائد کی کرپشن پر اداروں کے سربراہوں کو بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے ،کمیٹی نے ایس ای سی پی کی جانب سے معلومات فراہم نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اگلے اجلاس میں تمام معلومات تحریری طور پر فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی صدارت میںپارلیمنٹ ہائوس میںمنعقد ہوا ۔اجلاس میں سولر پاور جنرنیٹر سسٹم ایمپورٹ ایکسپورٹ کرنے والوں کو درپیش مسائل ، مختلف وفاقی اداروں میں 387 ارب کی کرپشن ، فراڈ ، غیر قانونی ادائیگیوں کے علاوہ ملتان میٹرو بس منصوبے کے حوالے سے سامنے آنے والے کرپشن کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ حال ہی میں سرکاری اداروں کی آڈٹ رپورٹ تیار کی گئی ہے جس میں 293 کیسزمیں سے 387 ارب روپے کی غیر قانونی ادائیگیاں ، کرپشن ، فراڈ کے معاملات سامنے آئے ہیں ۔جس پر قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مختلف اداروں کے سربراہوں کو بلا کر ان کیسز کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے گااور ہدایت کی کہ ادارے آڈیٹر جنرل آف پاکستان آفس کے ساتھ میٹنگ کر کے اپنی چیزوں کو واضح کر کے کمیٹی میں شرکت کریں کمیٹی کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی تنظیم برائے آئیسکو ایک بین الاقوامی باڈی جو تمام سیکورٹیز ریگولیٹرز کو اکھٹا کرتی ہے گلوبل معیار بھی قائم کر رکھے ہیں ۔

اس کے 217 ممبران دنیا کی تقریباً95 فیصد سیکورٹیز مارکیٹ کو ریگولیٹ کرتے ہیں ۔پاکستان آئیسکو کا ممبر1998 میںبنا اور 2002 میںمعلومات کے تبادلے کا معاہدہ بھی کیا گیا ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ چین کی سیکورٹیز ریگولیٹری کمیشن (CSRC)نے دسمبر2016 میں ایس ای سی پی سے معلومات حاصل کرنے کی درخواست کی جو یابیت ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹیڈ کے خلاف تحقیقات کر رہی تھی یابیت کمپنی نے 29 جنوری2015 کو انکشاف کیا تھا کہ ملتان میٹرو بس منصوبے میں 32.5 ملین ڈالر کا منافع ہوا ہے اور19.5 ملین ڈالرز کی ادائیگی بھی ہو چکی ہے ایس ای سی پی حکام نے بتایاکہ تحقیقات کے مطابق کیپٹل انجینئرنگ نے بیرون ملک سے یابیت کو ادائیگیاں کی تھی انہوں نے بتایاکہ ملتان میٹرو بس کا منصوبہ حبیب رفیق پرائیوٹ لمیٹیڈ کمپنی کو دیا گیا تھا جس نے یہ ٹھیکہ کیپٹل انجینئرنگ کنسٹرکشن نامی کمپنی کو لیز پر دیا تھا اور اس کمپنی نے یہ ٹھیکہ یابیت نامی کمپنی کو دے دیا انہوں نے بتایاکہ کیپٹل انجینئرنگ کنسٹرکشن کمپنی پاکستان میں رجسٹرڈ بھی نہیں ہے اور جو پتہ اس کمپنی نے لکھوایا تھا وہ اس پتے پر موجود نہیں ہے کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ یابیت نامی ایک کمپنی چین میںرجسٹرڈ ہے جس کے سی ای او کے پاکستان میں قائم یابیت کمپنی میں 70 فیصدشیئرز ہیں اس کمپنی کو وزیرا علیٰ پنجاب ، سینیٹر کلثوم پروین اور سینیٹر مشاہد حسین سید کی طرف سے تعریفی خطوط بھی لکھے گئے ہیں جن کی دفتر خارجہ سے تصدیق بھی ہوئی ہے کمیٹی کو یہ بتایا گیا کہ سینیٹر ز نے ان خطوط کے حوالے سے تردید کی ہے اس موقع پر چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ چین اس فراڈ کی تفتیش کر رہے ہیں جو فراڈ پاکستان میں ہوا ہمارے ادارے اس حوالے سے بروقت پر اقدامات کیوں نہیں کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی کا کام تھا کہ ملک کو بدنامی سے بچاتے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ ملکر اس کی تفتیش کرتے مگربدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا انہوں نے کہاکہ ایس ای سی پی کی بدولت ملک کی پہلے ہی بہت بدنامی ہو چکی ہے کمیٹی سمیت کوئی بھی ایس ای سی پی کی کارکردگی سے میں مطمئن نہیں ہیں انہوں نے ایس ای سی پی حکام کی جانب سے ملتان میٹرو بس کے حوالے سے درست معلومات فراہم نہ کرنے پر برہمی کا آظہار کرتے ہوئے کہاکہ اگر ایس ای سی پی کے افسران کو یہی رویہ رہا تو ہم ادارے کے تمام کمشنروں کو طلب کر لیں گے کمیٹی نے اگلے اجلاس میں ایس ای سی پی حکام کو ملتان میٹرو بس پراجیکٹ کے حوالے سے تحریری جوابات فراہم کرنے کی ہدایت کی ۔

۔۔۔۔۔اعجاز خان

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/09/2017 - 20:51:31

اپنی رائے کا اظہار کریں