جتنی جنگ خطے میں پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف لڑی ہے اس کی مثال نہیں ملتی، پاکستان ..
تازہ ترین : 1
جتنی جنگ خطے میں پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف لڑی ہے اس کی مثال نہیں ..

جتنی جنگ خطے میں پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف لڑی ہے اس کی مثال نہیں ملتی، پاکستان کی پہلی فلم اینڈ براڈ کاسٹنگ پالیسی مرتب کی جا رہی ہے ،

فلم ساز اداروں کو پاکستان آکر فلم بنانے کی دعوت دیتی ہوں ، فیسٹیول کے ذریعے ہم ملک میں امن لانے کے خواہاں ہیں ، کھیلوں کے میدان اور سینما گھر دوبارہ آباد کر رہے ہیں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا ایشیاء پیس فلم فیسٹیول سے خطاب

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 ستمبر2017ء) وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ جتنی جنگ خطے میں پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف لڑی ہے اس کی مثال نہیں ملتی، پاکستان کی پہلی فلم اینڈ براڈ کاسٹنگ پالیسی مرتب کی جا رہی ہے ، فلم ساز اداروں کو پاکستان آکر فلم بنانے کی دعوت دیتی ہوں ، فیسٹیول کے ذریعے ہم ملک میں امن لانے کے خواہاں ہیں ، کھیلوں کے میدان اور سینما گھر دوبارہ آباد کر رہے ہیں ۔

بدھ کو وزارت اطلاعات کے زیر اہتمام پی این سی اے میں ایشیاء پیس فلم فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے پچھلے 35 سے 40 سال دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی ہے ۔ افواج پاکستان اور تمام شعبہ سے متعلق افراد جنہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی ہیں وہ مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جتنی جنگ خطے میں پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف لڑی ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔

آج معاشرے میں جتنی عدم برداشت دیکھ رہے ہیں اس کی وجہ دہشتگردی ہے ۔ 1960 اور 1970 کی دہائی میں یہ وہ ملک تھا جو پی آئی اے ، آرٹسٹ اور گلو کاروں کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا ۔ پاکستان ہاکی ، فٹبال اور کرکٹ کے میدان میں چمپئن تھا ۔ پاکستان 1960 کی دہائی میں دنیا کا تیسرا بڑا فلم بنانے والا ملک تھا ۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ ہم اس فیسٹیول کے ذریعے امن لانے کے خوہاں ہیں ہم پر امن پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں ۔

موجودہ نسل آگے آنے والی نسلوں کی بقاء کے لئے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ ہی ہے ۔ تقریب میں موجود تمام افراد پاکستان کی فلاح اور بہتری کے لئے اقدامات کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پہلی فلم اینڈ براڈ کاسٹنگ پالیسی اگلے ماہ مرتب کی جا رہی ہے جس میں فلم کی تیاری کے تمام شعبوں کو مد نظر رکھا جا رہا ہے ۔ ہم فلمی صنعت سے منسلک ہنر مند افراد کو سہولیات مہیا کریں گے ۔

ہم پاکستان کا کلچر اور ثقافت کو اجاگر کریں گے ۔ اس وقت فلم میکر کے پاس فلم بنانے کے وسائل نہیں ہیں ۔ اس لیے ہم فلمی صنعت سے منسلک آلات پر سہولیات فراہم کر رہے ہیں ۔ اور غیرملکی فلمساز اداروں کو پاکستان آکر فلم بنانے کی دعوت دیتی ہوں ۔ یہ سہولیات صوبائی سطح پر بھی فراہم کی جائیں گی ۔ حالات کی وجہ سے سینما ہال شادی ہال میں بدل گئے اور کھیل کے میدان ویران ہوتے چلے گئے ۔

ملکہ ترنم میڈم نور جہاں اس قوم کا فخر ہیں ۔ ہم کھیلوں کے میدان اور سینما ہائوسز کو دوبارہ آباد کر رہے ہیں ۔ ہم فلمی صنعت کو دوبارہ اپنے پائوں پرکھڑا کر رہے ہیں ۔ اس کاوش میں میں ان تمام لوگوں کی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس مقصد کے لئے کوششوں کا آغاز کیا ۔ فنکار انقلابی تبدیلی کا باعث ہوتے ہیں ۔ فلم فیسٹیول قومی تشخص اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا ۔ …

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/09/2017 - 22:11:13

اپنی رائے کا اظہار کریں