صنعتی انجمنوں کی مشاورت سے صوبائی لیبر قوانین کو سہل اور موثر بنایا جائے گا،سید ..
تازہ ترین : 1
صنعتی انجمنوں کی مشاورت سے صوبائی لیبر قوانین کو سہل اور موثر بنایا ..

صنعتی انجمنوں کی مشاورت سے صوبائی لیبر قوانین کو سہل اور موثر بنایا جائے گا،سید ناصر حسین شاہ

ٹرانسپورٹ کا سنگین عوامی مسئلہ حل کرنے کیلئے صوبائی حکومت 637بسیں پرائیویٹ سیکٹر کو15فیصد سرمایہ کاری پر فراہم کریگی،وزیر محنت سندھ بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پرکراچی سمیت سندھ کے صنعتکاروں کوہرممکن سہولیات اور مراعات فراہم کی جائیں گی،سائٹ ایسوسی ایشن میں خطاب

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 ستمبر2017ء)صوبائی وزیرمحنت،ٹرانسپورٹ واطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ صنعتی انجمنوں کی مشاورت سے صوبائی لیبر قوانین کو سہل اور موثر بنایا جائے گا اور اگر صنعتکاروں نے جامع تجاویز پیش کیں تورائج لیبر قوانین میں ترامیم بھی کی جائیں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری میں صنعتکاروں سے خطاب کے دوران کیا۔

اس موقع پر سراج قاسم تیلی،اسدنثار برخورداریہ،زبیرموتی والا اور جاوید بلوانی نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر سیکریٹری لیبر عبدالرشید سولنگی،سابق چیئرمینزمجیدعزیز، سلیم پاریکھ،یونس بشیر،جنیدماکڈا اور دیگر صنعتکار بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کا سنگین عوامی مسئلہ حل کرنے کیلئے صوبائی حکومت 637بسیں پرائیویٹ سیکٹر کو15فیصد سرمایہ کاری پر فراہم کریگی جس کی 70فیصد فنانسنگ سندھ مضاربہ کے ذریعہ3سی5فیصد مارک اپ پر فراہم کی جائے گی جبکہ15فیصد سرمایہ کاری حکومت سندھ کی ہوگی اورمارک اپ5فیصد سے زیادہ ہونے کی صورت میں حکومت سندھ اس کی ادائیگی کریگی۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پرکراچی سمیت سندھ کے صنعتکاروں کوہرممکن سہولیات اور مراعات فراہم کی جائیں گی تاکہ مقامی سطح پر سرمایہ کاری بڑھنے سے وسیع پیمانے پر عوام کو روزگارکے مواقع میسر آسکیں۔انکا کہنا تھا کہ چین پاکستان اقتصادی راہدای(سی پیک) میں شامل کراچی سرکلر ریلوے کی 25دسمبر2017کوسنگ بنیاد رکھا جائے گا،سرکلر ریلوے کی تکمیل سے کراچی کے لاکھوں مزدوروں کے ساتھ عوام کو بھی سستی اور تیزرفتار ٹرانسپورٹ کی سہولت دستیاب ہوگی۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ سانحہ بلدیہ سمیت آتشزدگی کے بڑے واقعات کے تناظر میں فائربریگیڈکو جدید ترین گاڑیاں،اسنارکل اور آلات فراہم کئے جارہے ہیں جس کے آرڈرز دیئے جاچکے ہیں اور عنقریب یہ سامان کراچی پہنچ جائے گا۔ انہوں نے صنعتکاروں کو یقین دلایا کہ سائٹ کیلئے پانی کی علیحدہ پائپ لائن سمیت انفرااسٹرکچر کے تمام مسائل ترجیحی بنیاد پر حل کئے جائیں گے۔

ناصر حسین شاہ نے صنعتکاروں سے کہا کہ وہ اپنی اپنی فیکٹری کے ملازمین کی درست رجسٹریشن کرائیں تاکہ مزدوروں کے بنیادی مسائل حل کئے جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ اگر صنعتی انجمنیں نئی لیبر کالونیوں کے قیام کے سلسلے میں تجاویز دیں گی تو ان پرعملدرآمد کیا جائے گا،اس سلسلے م،یں پہلے سے موجود لیبرکالونیوں،ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو بہتر بنایا جارہا ہے۔

میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ برمی،بنگالی،افغانی اور دیگر تارکین وطن کی رجسٹریشن انتہائی ضروری ہے اور اس سلسلے میں جو اقدامات کئے جارہے ہیں ہم اسکی تائیدکرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ورلڈ الیون کے میچز کا انعقاد خوش آئیند ہے اور یہ میچز کراچی میں بھی ہونے چاہئیں ،اس سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ نے پی سی بی سے بھی رابطہ کیا ہے کہ کراچی ایک پر امن شہر ہے جہاں دنیا کے بڑے فٹبالر بھی آچکے ہیں۔

قبل ازیں سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے سرپرست اعلیٰ سراج قاسم تیلی نے سائٹ کے صنعتکاروں کو درپیش مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے سائٹ لمٹیڈ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایااور کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ سائٹ لمٹیڈ کے افسران وعملہ کو کسی پول میں ڈال کراسکی نجکاری کردی جائے کیونکہ نجی شعبے کی کمپنیوں اور آئوٹ سورسنگ کے بغیر صنعتی علاقوں کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے قصیدہ خوانی کرنے والی صنعتی وتجارتی انجمنوں کو خطیر فنڈز فراہم کردیئے جاتے ہیں جبکہ تنقید کرنے والوں کو بری طرح نظرانداز کیا جاتا ہے۔ سائٹ ایسوی ایشن کے صدر اسد نثار برخورداریہ نے علاقے کے صنعتکاروں کے مسائل بیان کرتے ہوئے کہا کہ تمام سرکاری محکمے بزنس فرینڈلی ہوجائیں توکرپشن کا خاتمہ ممکن ہے۔ جاوید بلوانی نے کہا کہ لیبر قوانین کی ازسرنو تشکیل میں آجر اور اجیردونوں کاخیال رکھا جانا چاہیئے جبکہ مزدوروں کے ٹرانسپورٹ مسائل ترجیحی بنیاد پر حل کئے جانے چاہئیں تاکہ وہ یکسوئی سے صنعتی پیداوار بڑھانے کیلئے کام کرسکیں۔

زبیرموتی والا نے کہا کہ سائٹ کے صنعتکاروں کی گیس کنکشنز کی 300سے زائددرخواستیں وفاقی حکومت کی جانب سے عائدکردہ پابندی کی وجہ سے التواء کا شکار ہیں جس سے سرمایہ کاری کا عمل رک گیا ہے،اگرصنعتکاروں کو گیس فراہم کردی جائے تو ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کو روزگار کے مواقع میسر آسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے صنعتکار آر ایل این جی لینا نہیں چاہتے کیونکہ ہماری اپنی سندھ کی قدرتی گیس موجود ہے جس کے کنکشنز ملنے چاہئیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/09/2017 - 20:53:19

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں