زرداری اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں قابل قبول بننے کے لئے سرگرداں
تازہ ترین : 1
زرداری اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں قابل قبول بننے کے لئے سرگرداں

زرداری اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں قابل قبول بننے کے لئے سرگرداں

مستقبل میں وزارت عظمی کی خواہش،پی پی نے ریاستی اداروں کے ساتھ مفاہمت کے پالیسی اپنا لی

اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 13ستمبر 2017ء ):سابق صدر آصف علی زرداری نے ریاستی اداروں کے ساتھ کسی بھی قسم کی محاز آرائی سے گریز کرتے ہوئے اہم قومی سیاسی معاملات پر لچک دکھانے اور مفاہمانہ رویہ اختیار کرنے کا عندیہ دے دیا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین کی جانب سے منظورر کردہ احتساب پر نظر ثانی کا فیصلہ ان کی اسی پالیسی کا نتیجہ ہے ۔

سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی وزارت عظمی کی برطرفی کے فیصلے کے بعد ملک کے بڑے سیاسی منظر نامے میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے ۔ اس سے آصف علی زرداری کو مستقبل میں اپنے اور اپنی جماعت کے لئے نئے سیاسی امکانات کے حوالے سے زیادہ پر امید بنا دیا ہے ۔ آصف علی زرداری اس وقت بری محتاط انداز میں اپنے سیاسی پتے چل رہے ہیں ۔

اور ان کی نگاہ2018ء میں ہونے والے الیکشن اور اس کے بعدملک کی وزارت عظمی پر مرکوز ہے ۔ پیپلزپارٹی کے معاملات سے سے باخبرکئی قابل اعتماد ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز کی معزولی کے بعد مسلم لیگ ن جس سیاسی کشمکش اور گو مگو کیفیت سے دو چار ہے، آصف علی زرداری اس صورتحال سے بھر پور سیاسی فائدہ اٹھانے کے خواہاں ہیں اور ان کا خیال ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات میں شاید مسلم لیگ ن پھر سے انتخابی سیاسی معاملات حاصل کرنے اور دوبارہ وفاق میں حکومت بنانے کے قابل نہ ہو سکے ،سابق صدرآصف علی زرداری جنہیں جوڑ توڑ کی سیاست کا ایک ماہر کھلاڑی تصور کیا جاتا ہے اور انہیں اس بات کا اچھی طرح ادراک ہے کہ اگلے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ساتھ ساتھ شاید ان کی اپنی جماعت پیپلز پارٹی اور عمران خان کی پاکستان کی تحریک انصاف کے لئے بھی یہ بات اتنی اسان نہ ہو کہ وہ تن تنہا وفاق میں حکومت سازی کر سکیں ،اگر یہ تجزیہ درست ثابت ہوا تو پھراگلے عام انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنے اور قومی اسمبلی میں منقسم منڈیٹ کے امکانات زیادہ روشن ہوں گے ۔

حوصلہ بحش امکانی صورتحال ہے جس سے اس وقت آصف علی زرداری کو سیاسی طور پر بہت زیادہ متحرک کر رکھا ہے ،آصف علی زرداری کی تعبیر میں مولانا فضل الرحمن ،ایم کیو ایم پاکستان جاسفند یار ولی او کچھ دیگر سیاسی رہنما بھی معاون مدد گار ثابت ہو گے لیکن آصف علی زرداری کے لئے فی الوقت اصل مسئلہ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے خود کو قابل قبول بنانے کا ہے ۔ اس کے لئے پیپلز پارٹی نے پہلے ہی پس پردہ کوششوں کا آغاز کر دیا ہے، آصف علی زرداری کی مستقبل کی سیاسی پیش بندی کی غرض سے ریاستی اداروں کے ساتھتعلقات کو بہتر بنانے ان سے ہر قسم کی محاز آرائی سے گریز کرنے اور اعتمادسازی کے لئے ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنانے کے حوالے سے عملی طور پر کوشاں ہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/09/2017 - 12:18:13

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں