دونوں فیصلوں میں نواز شریف کو نااہل کیا گیا -دوججوں کا 20 اپریل کا فیصلہ کہیں چیلنج ..
تازہ ترین : 1

دونوں فیصلوں میں نواز شریف کو نااہل کیا گیا -دوججوں کا 20 اپریل کا فیصلہ کہیں چیلنج نہیں کیا-سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلے پر نواز شریف اور ان کے بچوں کی نظر ثانی اپیلوں کی سماعت ملتوی ‘درخواست گزارکو فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا۔خواجہ حارث

دونوں فیصلوں میں نواز شریف کو نااہل کیا گیا -دوججوں کا 20 اپریل کا فیصلہ ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔13 ستمبر۔2017ء)سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلے پر نظر ثانی اپیلوں کی سماعت جاری ہے -بنچ کے سربراہ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ دونوں فیصلوں میں نواز شریف کو نااہل کیا گیا جبکہ ، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے جے آئی ٹی رپورٹ کی تعریف کی تھی لیکن ٹرائل کورٹ میں اسکروٹنی ہوگی۔سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلے پر نواز شریف اور ان کے بچوں کی نظر ثانی اپیلوں کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ کر رہا ہے، جس میں جسٹس گلزاراحمد ، جسٹس اعجاز افضل خان جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں۔

جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ تحقیقات کا جائزہ لیا جاسکتاہے ، آپ کے پاس موقع ہوگا گواہان اور جے آئی ٹی ارکان سے جرح کرسکیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ان کے وکیل خواجہ حارث اور حسن، حسین اور مریم نواز کی جانب سے سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پانچ رکنی بنچ نے جو حتمی حکم دیا وہ بنچ صحیح نہیں بنایا گیا، 20اپریل کے فیصلے کو حتمی فیصلے کا حصہ بھی نہیں بنایا گیا، فیصلے دینے والے دو ججز پاناما عملدر آمد بنچ میں نہیں بیٹھ سکتے تھے کیونکہ دو معزز ممبران پہلے فیصلہ دے چکے تھے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ دوججوں کا 20 اپریل کا فیصلہ آپ نے کہیں چیلنج نہیں کیا، جس پرخواجہ حارث نے کہا کہ دو ججوں کے فیصلے کی قانونی حیثیت نہیں تھی اکثریتی فیصلے کو تسلیم کیا گیا تھا اس لئے چیلنج نہیں کیا۔نواز شریف کے وکیل نے سوال اٹھایا کہ نگراں جج کے ہوتے ہوئے شفاف ٹرائل کیسے ہوگا، مانیٹرنگ جج لگانے کی کوئی مثال نہیں ملتی، جب کہ ریفرنس کا معاملہ اپیل میں سپریم کورٹ میں ہی آنا ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت نے جے آئی ٹی ارکان کے فیصلے میں تعریفیں بھی کیں اور اس معاملے میں سپریم کورٹ شکایت کنندہ بن گئی ہے جس پر جسٹس عظمت سعید نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعریفیں تو ہم نے آپ کی بھی کافی کی ہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میری تعریف بے شک فیصلے میں حذف کردیں۔قبل ازیں خواجہ حارث نے دلائل میں یہ نقطہ اٹھایا کہ نوازشریف کو ایف زیڈ ای کمپنی کے معاملے پر نااہل کیا گیا، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کیلئے باقاعدہ سماعت کی ضرورت ہے جب کہ شوکاز نوٹس دینا اورمتاثرہ فریق کو سننا ضروری ہے، آرٹیکل62 ون ایف کا طریقہ نااہلی سے متعلق مختلف ہے قانون کے مطابق اثاثے نہ بتانے پر انتخاب کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اثاثے نہ بتانے پر کامیاب امیدوار کو نااہل نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے اعتراض کیا کہ پاناما لیکس کیس میں نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دینا بھی قانون کے مطابق نہیں ہے۔عدالت نے کہا کہ نوازشریف کی نا اہلی کا فیصلہ متفقہ ہے تاہم نااہلی کے لئے بنیاد مختلف ہو سکتی ہے- جس کے بعد سپریم کورٹ میں نوازشریف کی نااہلی فیصلے پر نظر ثانی اپیل کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 28 جولائی کو پاناما کیس کے فیصلے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے نیب کو نواز شریف، ان کے بچوں اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/09/2017 - 11:32:26

اپنی رائے کا اظہار کریں