پاکستان کے قیام میں اقلیتوں بالخصوص کرسچین برادری کا بھی مرکزی کردار ہے، کامران ..
تازہ ترین : 1

پاکستان کے قیام میں اقلیتوں بالخصوص کرسچین برادری کا بھی مرکزی کردار ہے، کامران مائیکل

بورے والا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 ستمبر2017ء)وفاقی وزیر انسانی حقوق کامران مائیکل نے کہا ہے کہ پاکستان کے قیام میں اقلیتوں بالخصوص کرسچین برادری کا بھی مرکزی کردار ہے پاکستان میں اقلیتوں کو تمام شہری بنیادی حقوق حاصل ہے کسی کو رنگ و نسل اور مذہب کی بنیاد تعصب کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا بورے والا میں مسیحی طالب علم شیرون مسیح کو سکول میں ہونے والے قتل کے تمام محرکات کا جائزہ لیا جا رہا ہے حکومت مقتول کے ورثاء کے غم میں برابر کی شریک ہے انہیں ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے چک 461ای بی میں مقتول طالب علم شیرون مسیح کے ورثاء اور اہل خانہ سے اظہار تعزیت کے موقع پر میڈیا اور شہریوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ڈی پی او وہاڑی عمر سعید ملک ،اقلیتی ممبر پنجاب اسمبلی لاہور شکیل مارکس کھوکھر ،ڈاکٹر عرفان بھٹی ،ضلعی صدر منیارٹی ونگ ساہیوال صائمہ بھٹی ،زیاد بھٹی ،عاشق علی گل ،ممبر ضلع کونسل نذیر مسیح رندھاوا،وائس چیئر مین بلدیہ حاجی محمد افتخار بھٹی،حافظ رضوان عابد ،میاں عمیر سالار ،ملک رحمت علی کونسلر،محمد اسلم جمال ،چوہدری محمد رمضان،پی ایس او ٹو ایم این اے محمد شاہد بھی موجود تھے وفاقی وزیر نے کہا کہ جو لوگ یسوع مسیح کے نام پر اپنی جان قربان کرتے ہیں وہ شہادت کا مرتبہ حاصل کرتے ہیں شیرون مسیح کو ان کے کلاس فیلو نے محض پانی پینے پر مشتعل ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا جو اس کی موت کا باعث بنا پاکستان بالخصوص بورے والا میں یہ واقعہ مذہبی منافرت کا شاخسانہ نہیں ہے محض اتفاقیہ حادثہ ہے پھر بھی ضلعی پولیس اس کیس کا تمام پہلوئوں سے جائزہ لے رہی ہے کرسچین برادری اور مقتول کے ورثاء پولیس تفتیش سے مطمئن ہیں انہوں نے اس علاقے میں شیرون مسیح کے نام سے انٹر نیشنل لیول کے ایک سکول کا قیام کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ یہاں مسلم عیسائی اور دیگر مذاہب کے طلباء اعلیٰ اور معیاری تعلیم حاصل کر سکیں گے اور کسی کے ساتھ معتصبانہ سلوک نہیں کیا جائے گا انہوں نے مقتول شیرون مسیح کے والد الیاسب مسیح کو ذاتی طور پر ایک لاکھ روپے کی نقد امداد بھی دی اور یقین دلایا کہ حکومت بھی اس سلسلہ میں مالی امداد مہیا کرے گی ڈی پی او وہاڑی عمر سعید ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کا کوئی فرد یا انفرادی تعصب کر سکتا ہے مگر ریاست یا ادارے رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر ہر شہری کو آرٹیکل 25کے تحت حقوق مہیا کرتی ہے ہمارا فریضہ ہے کہ ہم مقتول کے والدکی رپورٹ پران کے تحفظات کو دور کریں گے کسی کو بھی مذہب کے نام پر قانون سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے اور انصاف کے تقاضے پورا کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے ۔

انہوں نے ورثاء کو یقین دہانی کروائی کہ وہ اس مقدمہ کی تفتیش کے سلسلہ میں جب چاہیں مجھے مل کر اپنے خدشات سے آگاہ کر سکتے ہیں

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/09/2017 - 21:11:37

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :