قومی سلامتی کوغیر معمولی چیلنج درپیش ہیں، بہتر سفارتکاری کی ضرورت ہے، ماہرین
تازہ ترین : 1

قومی سلامتی کوغیر معمولی چیلنج درپیش ہیں، بہتر سفارتکاری کی ضرورت ہے، ماہرین

حکومت خارجہ پالیسی میں رہنما کردار ادا کرے، پالیسیوں پر نظر ثانی ہونی چاہئے، سیمینار سے خطاب

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 ستمبر2017ء) علاقائی سلامتی کے حوالے سے سینئر ماہرین اور تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ سلامتی سے متعلق درپیش قومی تقاضوں کے پیش نظر ملک کی منتخب جمہوری حکومت کو خارجہ پالیسی کے امور آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہئے۔ مقررین نے زور دیا کہ اس وقت ملک کی سول اور فوجی قیادت کو خارجہ پالیسی کے معامالت پر کامل اتفاق رائے کا اظہار کرنا چاہئے تاکہ اہم معاملات پر باقی دنیا کے ساتھ با مقصد بات چیت کی جا سکے۔

مقررین نے اس امر کا کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی ) کے زیر اہتمام’سلامتی سے متعلق تبدیل شدہ منظر نامہ اور پاکستان کو درپیش چیلنج ‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ لیفٹینیٹ جنرل (ر) اسد درانی نے صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت افغانستان میں اپنے مقاصد آگے بڑھانے میں کامیاب رہا جبکہ اس کے برعکس پاکستان نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران شدید نقصانات برداشت کیے مگر دنیا کو اپنے مسائل کے بارے میں باور کرانے میں ناکام رہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جن حالات کا شکار ہے ایسے میں وہ ان گروپوں کے ساتھ نئے محاذ کیونکر کھول سکتا ہے جو پاکستان کے ساتھ کبھی نہیں لڑے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے اصولی موقف پر پیچھے ہٹنے کی بجائے اس کا بہتر دفاع کرنا چاہئے۔لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود نے اپنی گفتگو میں کہا کہ چین کی پاکستان سے متعلق پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور برکس سربراہ اجلاس میں سامنے آنے والے موقف ا اظہار پہلے بھی کیا جا چکا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ حقانی گروپ اور بعض دوسرے طالبان کی حمایت سے پاکستان کو فائدہ زیادہ ہوا یا نقصان۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دنیا سے بہتر سفارتکاری کے ساتھ ساتھ اپنی پالسییوں پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے۔ سینئر تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا کہ امریکہ کی افغان پالیسی ابہامات کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا افغان پالیسی کو جنوبی ایشیا کے معاملات سے نتھی کرنا خطرناک ہے۔

انہوں نے کہ صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد پاکستان کے امریکہ کے لیے سفارتی مشن کا دورہ ملتوی کرنا دانشمندانہ فیصلہ تھا اور توقع کی جانی چاہئے کہ معاملات میں بتدریج بہتری آئے گی۔ بریگئڈئر (ر) شوکت قادر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ ہی غیر موثر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین سی پیک کے حوالے سے بالادست حیثیت حاصل کرنے کا خویش مند دکھائی دے رہا ہے تاہم ہمیں ماضی کی غلطیاں دوہرانے سے اجتناب کرنا چاہئے جو کسی نہ کسی عالمی طقات کے مفادات کے لیے اپنے مفادات قربان کرنے پر مشتمل رہی ہے۔

سابق سفیر شفقت کاکا خیل نے کہا کہ علاقائی سلامتی میں دل چپسی رکھنے والی تمام قوتوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ افغانستان کی صورت حال کا جنگ سے کوئی حل نہیں نکالا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے آخر کار ہمٰن کوئی سیاسی حل ہی تلاش کرنا پڑے گا۔ اس سے قبل ایس ڈی پی آئی کے ڈاکٹر عمران خالد نے سلامتی سے متعلق خطے کی مجموعی صورت حال اور پاکستان کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا حکومت کو اس معاملے پر قومی مکالمہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ تجزیہ کار اور ماہر تدریس قمر چیمہ نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں بھارت کو زیادہ بڑا کردار دینے کا خواہش مند لگتا ہے جس کے نتائج منفی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں ملک کی سیاسی قیادت کو خارجہ پالیسی سنبھالنی چاہئے۔
وقت اشاعت : 11/09/2017 - 21:02:45

اس خبر پر آپ کی رائے‎