بدعنوانی معاشرے کیلئے سرطان ہے، بدعنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے، قمرزمان ..
تازہ ترین : 1

بدعنوانی معاشرے کیلئے سرطان ہے، بدعنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے، قمرزمان چوہدری

نیب کے افسران اوراہلکاربدعنوانی کے خاتمے کو قومی فرض سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں،نیب نے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے ایک جامع،موثر اورانتہائی فعال حکمت عملی وضع کرلی ہے حکمت عملی میں ملک کے تمام اداروں سے بدعنوانی کے خاتمے کو ترجیح دی گئی ہے،نیب نے تین سال میں احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے حوالے سے 150ریفرنس دائر کئے ،بدعنوان عناصر سے 50 ارب روپے لوٹی ہوئی رقوم ریکورکرتے ہوئے قومی خزانہ میں جمع کرائی گئی، چیئرمین نیب

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 اگست2017ء) قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین قمرزمان چوہدری نے کہاہے کہ بدعنوانی معاشرے کیلئے سرطان ہے، بدعنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے، نیب کے افسران اوراہلکاربدعنوانی کے خاتمے کو قومی فرض سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں،نیب نے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے ایک جامع،موثر اورانتہائی فعال حکمت عملی وضع کرلی ہے جس میں ملک کے تمام اداروں سے بدعنوانی کے خاتمے کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ یہ ادار ہ آزادانہ طور پر قوم اور ملک کی خدمت کرسکے،نیب کی موجودہ انتظامیہ نے تین سال کے عرصہ میں احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے حوالے سے 150ریفرنس دائر کئے اوربدعنوان عناصر سے 50 ارب روپے لوٹی ہوئی رقوم ریکورکرتے ہوئے قومی خزانہ میں جمع کرائی گئی۔

اتوار کو یہاں جاری بیان کے مطابق چئیرمین نیب کہاکہ نیب نے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کیلئے شکایات کی جانچ پڑتال ،انکوائریوں اور انوسٹی گیشن سے احتساب عدالتوں میں ریفرنس دائر کرنے تک کیلئے معیاری طریقہ کار اپنایا ہے اوراس سارے عمل کیلئے 10 ماہ کا عرصہ مقرر کیاگیاہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی موجودہ انتظامیہ نے مشترکہ تحقیقاتی کا ٹیم کا نظام وضع کیا ہے، عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ایس او پیز کا جائزہ لیا گیا، انکوائریوں اور انوسٹی گیشن کو نمٹانے کیلئے عرصہ مقرر کیا گیا ہے، موجودہ نیب انتظامیہ کے دور میں احتساب سے متعلق مقدمات میں سزائوں کی شرح 76فیصد ہے جس سے نیب کی پاکستان میں انسداد بدعنوانی کے کسی بھی ادارے سے اچھی اوربہتر کارگردگی کی عکاسی ہوتی ہے۔

چیئرمین نیب نے کہاکہ نیب نے راولپنڈی میں اپنی فرینزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جومعاشرے سے بدعنوانی کی لعنت کے خاتمہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے نیب کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے مقاصد کیلئے فعال کردی گئی ہے،فرینزک لیبارٹری کے مؤثر انداز میں کام کرنے سے تفتیشی افسران کو بدعنوانی کے مختلف بڑے پیمانے کے مقدمات اور شکایتوں کی تصدیق ، تحقیق اور تفتیش کو میرٹ اور شفافیت پرمبنی بنانے میںمدد ملی ہے، فورینزک سا ئنس لیبارٹری ڈیجیٹل فورینزک ، فنگر پرنٹ فورینزک اور سوالیہ دستاویزات کی سہولیات سے لیس ہے۔

فورینزک سائنس لیبارٹری کے قیام سے موبائل فون ، کمپیوٹرز ، آئی پیڈز اور نیٹ ورکس جیسے برقی آلات سے دستاویزات کے حصول اور ہاتھ سے لکھی تحریروں اور ٹائپ کردہ اور شائع شدہ دستاویزات کو محفوظ کر کے جعلسازی کوپکڑنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہاکہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رینکنگ میں کرپشن پرسیپشن انڈکس میں پاکستان کے 9 پوائنٹس بڑھ گئے ہیں اورپاکستان جنوبی ایشیاء کے ممالک میں انسداد بدعنوانی کی کوششوں میں ایک رول ماڈل ملک کی حیثیت رکھتاہے جو نیب کی کوششوں کی بدولت ممکن ہوا۔

اس کے علاوہ عالمی اقتصادی فورم سمیت کئی بین الاقوامی اداروں نے بھی پاکستان میں بدعنوانی کے خاتمے کی کوششوں اوراس ضمن میں نیب کے کردار کا اعتراف کیاہے۔انہوں نے کہاکہ نوجوان نسل میں بدعنوانی کے خلاف شعور اجاگرکرنے کیلئے نیب نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن(ایچ ای سی ) کے ساتھ مفاہمت کی ایک دستاویز پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت تین سالوں کے عرصہ میں مختلف یونیورسٹیوں، کالجوں،سکولوں اورتعلیمی اداروں میں کردار سازی کی سوسائٹیز قائم کی گئیں۔

چیئرمین نیب نے کہاکہ نیب نے اپنے افسران کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے جامع جزوی مقداری گریڈنگ نظام وضع کیا ہے، اس نظام کے تحت گذشتہ تین سال کے دوران نیب کے تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگی کا یکساں معیار پر جائزہ لیا جاتا ہے، باقاعدہ مانیٹرنگ اور انسپکشن کے باعث نیب کے علاقائی بیوروز کی کارکردگی روز بروز بہتر ہو رہی ہے، نیب ہیڈکوارٹرز میں ڈائریکٹرجنرلز کانفرنس کا ہرسال باقاعدگی سے انعقاد ہوتا ہے جس میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کیا جاتاہے اورکمزوریوں اورخامیوں کو دورکرنے میں بھی مدد ملتی ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ اندرونی احتساب کا نظام(آئی اے ایم) بھی قائم کیا گیاہے جس میں غلط کاموں میں ملوث ادارے کے اہلکاروں کا محاسبہ کیا جاتاہے اس نظام کے تحت اب تک 23ملازمین کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے برخاست کیا گیا، 34اہلکاروں کو معمولی سزائیں دی گئیں ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/08/2017 - 19:41:05

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں