وطن عزیز میں فساد پھیلانے اور بد امنی کی بنیاد رکھنے والے ملک و قوم کے ساتھ مخلص ..
تازہ ترین : 1

وطن عزیز میں فساد پھیلانے اور بد امنی کی بنیاد رکھنے والے ملک و قوم کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے،مولانا محمد اکرم اعوان

دھشت گردی اور بد امنی کا مستقل اور واحد علاج یہ ہے کہ عدل کا قیام عمل میں لایا جائے،تنظیم الاخوان کے سربراہ کا خطاب

چکوال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 اگست2017ء) تنظیم الاخوان کے سربراہ مولانا محمد اکرم اعوان نے کہا ہے کہ وطن عزیز میں فساد پھیلانے اور بد امنی کی بنیاد رکھنے والے ملک و قوم کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے ۔دھشت گردی اور بد امنی کا مستقل اور واحد علاج یہ ہے کہ عدل کا قیام عمل میں لایا جائے ۔وہ دارالعرفان منارہ کے سالانہ اجتماع میں شریک ہزاروں افراد سے خطاب کر رہے تھے۔

اس موقع پر صاحبزادہ عبدالقدیر اعوان بھی مو جود تھے۔انہوں نے کہا کہ الحمدللہ پورا ملک من حیث القوم اس وقت جو حالات ہیں بنیادی طور پر امن کی تلاش میں ہیں سب سے اہم اور پہلی ضرورت ملک میں امن کا قیام ہے اور اس کے لیے کوششیں ہورہی ہیں۔ہرادارہ اپنی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے اللہ کریم ہمارے شہدا کی قربانیاں قبول فرمائے۔فوج بھی جانیں دے رہی ہے ،پولیس بھی شہادتیں دے رہی ہے۔

پولیس کی شہادتیں پہلے ایسے نہیں ہوا کرتی تھیں جیسے اب محکمہ پولیس اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں دیگر ملکی ادارے بھی جان توڑ کوشش کر رہے ہیں لیکن ا من کا حصول عد ل سے ممکن ہے یہ ساری کوشش اور محنت بہت ضروری ہے لیکن اس کا فائدہ وقتی ہے وقتی مرہم پٹی ہے یہ مستقل علاج نہیں ۔مستقل علاج عدل میںہے اور عدل اللہ جل شانہ کے قانون میں ہے ۔

کیونکہ وہ کائنات کا خالق ہے ان کی ضروریات سے واقف ہے ان کے کردار سے واقف ہے ان کی خامیوں سے بھی آگاہ ہے۔اور اس کا علاج بھی وہی جانتا ہے ۔انسانی ضرورتیں،ان کے ذرائع انکی تکمیل انکی مساوی تقسیم اس سارے فلسفے کا نام اسلام ہے ۔اور اس کی بنیاد عقیدے سے شروع ہو تی ہے اور عقیدہ بنیاد ہوتا ہے کہ جس پر عمارت کھڑی ہوتی ہے اور عمارت یہی ساری ضروریات زندگی ہیں۔

اگر ہم اس طرف نہیں آئیں گے تو مستقل علاج نہیںہو گاجہاں پر قومی ادارے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں وہاں ملک کے ہر فرد کو قیام امن ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔لیکن میری گزارش ہے کہ ہم من حیث القوم تو اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ اسلام نافذ ہو جائے اس میں دینی سیاسی جماعتیں بھی* کوشش کر رہی ہیںاللہ ان کی کوشش قبول فرمائے۔

علماء حضرات بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں لیکن اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہر فرد اپنے ساڑھے چار ہاتھ کے بدن پر اسلام نافذ کرے تو یہ بہت آسان ہے اور اگر ہم فرد کی حیثیت سے شروع کر دیں تو قومیں افراد سے ہی بنتی ہیں۔افراد کے اختیار کرنے سے قوم پر خود بخود اسلام نافذ ہو جائے گا اور ہماری تمام مصیبتوں کا علاج اور مداو ہ بھی ہو گا امن وتحفظ اور سکون بھی نصیب ہو جائے گا۔

اس عظیم الشان اجتماع کے موقع پر دارالعرفان منارہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی شدید گرمی اور حبس کے باوجود اس بہت بڑے جم غفیر نے اپنے شیخ المکرم کا بیان انتہائی انہماک اور توجہ سے سنا ۔آج حضرت امیر محمد اکرم اعوان کے بیان سے پہلے ناظم اعلی صاحبزادہ عبدالقدیر اعوان نے خطاب کرتے ہوئے کہابحیثیت مسلمان جب آزادی کا اصل مفہوم بیان کیا جائے گا وہ اس کے علاوہ کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا کہ مسلمان اللہ تعالی اور نبی کریم ﷺ کے تابع ہو کر غیر اللہ کی غلامی سے آزاد ہو اور جب یہ آشنائی نصیب ہو تو یوم آزادی کی حقیقت پائی جا سکتی ہے ۔

اور ہم حقیقی آزادی تب ہی حاصل کر سکتے ہیں جب ہم اس کی اصل روح کو سمجھتے ہوئے فکری طور پر آزاد ہوں گیآخرمیں حضرت امیر محمد اکرم اعوان نے ملک کی سلامتی اور شہداء کے درجات کی بلندی اور غازیان کے ثابت قدم رہنے کے لیے خصوصی دعا کروائی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/08/2017 - 19:40:56

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں