مہاجر قوم مردم شماری میں دھاندلیوں کو تسلیم نہیں کرے گی،ڈاکٹرسیلم حیدر
تازہ ترین : 1

مہاجر قوم مردم شماری میں دھاندلیوں کو تسلیم نہیں کرے گی،ڈاکٹرسیلم حیدر

مردم شماری کے بوگس نتائج شہری سندھ میں بربادی ، خونریریزی اور خانہ جنگی پیدا کریںگے

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 اگست2017ء) مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا ہے کہ نئی مردم شماری کے بوگس نتائج کو مہاجر قوم کسی طورپر بھی تسلیم نہیں کرے گی۔ مہاجر اور کراچی کے ہمدرد عوام ، کارکنان ، جماعتوں ، سیاسی و سماجی علمی اکابرین اور شخصیات کے ساتھ مل کرایم آئی ٹی بوگس نتائج کیخلاف عوامی تحریک چلائے گی۔ یہ کتنی بے شرمی اور متعصبانہ عمل ہے کہ پورے ملک میں آبادی بڑھنے کی رفتار کراچی سے زیادہ ظاہر کی جارہی ہے ۔

1998ء کی آخری مردم شماری کے مقابلے میں پشاور کی آبادی میں 100فیصد اضافہ ، لاہور کی آبادی میں 90فیصد، جبکہ راولپنڈی کی آبادی 93 فیصد اضافہ ظاہر کیا گیا ہے۔ صوبہ سندھ کی آبادی تین کروڑ سے بڑھاکر پانچ کروڑ ظاہر کی گئی ہے جبکہ متعصبانہ طریقے سے کراچی کی آبادی میں صرف 74فیصد اضافہ کیا گیا ہے جو اب ایک کروڑ،70لاکھ بتائی جارہی ہے۔ ایک طرف ملک بھر کے متعصب سیاستدان اور میڈیا کراچی کو منی پاکستان قرار دیتا ہے ۔

کراچی میں پشاور سے زیادہ پختونوں کا دعویٰ کرتا ہے ، کراچی کے علاقے ملیر اور گلستان جوہر کو سندھ میں سندھیوں کو سے زیادہ آبادی کا ضلع ظاہر کرتا ہے لیکن کراچی کے مہاجر علاقوں میں اضافہ آبادی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ مردم شماری کے حالیہ نتائج سے لگتا ہے کہ پورے پاکستان میں جہاں اضافہ آبادی محض پیدائشی عمل سے ہوتا ہے اور وہاں نقل مکانی کا کوئی رجحان ثابت نہیں ہوتا۔

ایسے شہروں اور دیہاتوں میں مصنوعی طریقے سے رات دن بچے پیدا کئے جارہے ہیں۔ جبکہ کراچی جہاں پیدائشی عمل کے ساتھ ساتھ روزانہ لاکھوں لوگ نقل مکانی بھی کرتے ہیں وہاں کے شہری نہ تو بچے پیدا کرپارہے ہیں اور نہ ہی وہاں کسی نقل مکانی اور منی پاکستان کا کوئی وجود ہے۔ یہ سراسر دھاندلی ہے اس کی ہر ذی شعور شہری کو مذمت اور مزاحمت کیلئے باہر آنا ہوگا۔

ایسا منافقانہ طرز عمل پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلاکررہا ہے اور کراچی والوں کا احساس محرومی بڑھتا جارہا ہے۔ کراچی کا سیاسی نقشہ خاکم بدھن اب ’’را‘‘ اور ’’پاکستان مردہ باد ‘‘ والوںسے جوڑا جارہا ہے جس کا منطقی انجام ریاست پاکستان کی بربادی ، خونریزی اور خانہ جنگی کی شکل میں نکل سکتا ہے۔ ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہاکہ مردم شماری کے نتائج کے حوالے سے جاری کردہ اخباری اعدادوشمار کو سراسر فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ درحقیقت آج کراچی ڈویژن کی آبادی تین کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے جس کی بنیاد پر کراچی کی قومی اسمبلی میں 60نشستیں اور صوبائی اسمبلی میں 120نشستیں بنتی ہیں۔

مہاجر مردم شماری کے بوگس ،فراڈ مہاجر دشمن اعدادوشمار کیخلاف متحدہ جدوجہد کی تیاری کریں۔ مہاجروں کو بے بنیاد عدالتوںکے رحم وکرم پر پٹیشن داخل کرنے سے آگے بڑھ کر سوچنا ہوگا۔ مہاجروں کے گھروںسے نکل کر باہر آنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ اگر اب بھی مہاجر اپنے غضب شدہ حقوق اور مسلسل ناانصافی کیخلاف میدان عمل میں آنے سے تاخیر کریںگے تو اس کا نقصان مہاجروں کی نسل کو ہوگا۔ تحریک مہاجر صوبہ قوم کو مصلحت چھوڑ کر آزمائے بازی گروں کے چنگل سے آزاد کرائے گی۔ انہوں نے مزید کہاکہ عیدالاضحی کے فوری بعد مردم شماری کے حساس مسئلے پر مہاجر کنونشن طلب کیا جارہا ہے جس کی رائے اور روشنی میں مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/08/2017 - 18:30:57

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں