مقبوضہ کشمیر : شہید ہونے والے 25بے گناہ کشمیریوںکے اہلخانہ 27برس گزرنے کے باوجود ..
تازہ ترین : 1

مقبوضہ کشمیر : شہید ہونے والے 25بے گناہ کشمیریوںکے اہلخانہ 27برس گزرنے کے باوجود تاحال انصاف کے منتظر

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 اگست2017ء)مقبوضہ کشمیر میں ضلع کپواڑہ کے علاقے پازی پورہ رامحال کے رہائشی آج بھی اس دن کو نہیں بھول پائے ہیںجب 12اگست1990کو قابض بھارتی فوجیوں بندوقوں کے دھانے کھول کر 25بے گناہ افراد کو ابدی نیند سلا دیاتھا۔ میڈیارپو رٹ کے مطابق12اگست1990کو پازی پورہ رامحال کے لوگ کھیتو ں میں گھاس کا ٹنے میں مصروف تھے کہ اس دوران بھارتی فوجی دستے بستی میں داخل ہوئے اور لوگو ں کو ایک ہی جگہ جمع ہونے کی ہدایت دی۔

علاقے کے لوگو ں نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ فوجیوں کی ہدایت کے مطابق لوگ ایک جمع ہونے کی تیاری ہی کر رہے تھے کہ قابض اہلکاروں نے ان پر بندوقوں کے دہانے کھول دیے اور 25بے گناہ افراد کو خون میں نہلا دیا۔ لوگوں نے کہا کہ جب بھی بارہ اگست کا دن آتا ہے تو علاقے کے لوگوں کے زخم تازہ ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دلدوز واقعے میں شہید ہونے والے افراد کے اہلخانہ کو ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود انصاف نہیں مل سکاہے۔

دریں اثنا ضلع باندی پورہ کے علاقے آلوسہ کے رہائشیوں کووہ قیامت خیز دن آج بھی کل کی طرح یاد ہے جب بھارتی فوجیوں نے نو برس قبل پر امن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کر کے چار نوجوانوں کو شہید جبکہ خواتین اور بچوں سمیت47افراد کو زخمی کر دیا تھا۔13اگست 2008کو آلوسہ کے رہائشی ممتاز حریت رہنما شیخ عبدالعزیز کی شہادت کے سلسلے میں ’’پامپور چلوکال‘‘ کے سلسلے میں گھروں سے باہر نکل آئے تھے ۔ بھارتی فوج کی15راشٹریہ رائفلز کے اہلکاروں نے آلوسہ چوک میں جمع لوگوں کو اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنایا ۔ شہید ہونے والوں میں ممتاز احمد بٹ، علی محمد ، محمد شفیع گنائی اور معراج الدین گنائی شامل تھے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/08/2017 - 14:30:33

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں