پاکستان بدلے گا یا نہیں بدلے گا، سابق وزیر اعظم کا لاہور پہنچنے پر عوام سے سوال
تازہ ترین : 1

پاکستان بدلے گا یا نہیں بدلے گا، سابق وزیر اعظم کا لاہور پہنچنے پر عوام سے سوال

خطے میں ہمارا جیسا کوئی دوسرا ملک نہیں جہاں ووٹ کی قدر نہ کی جاتی ہو ‘ کون ہے جو پاکستان کی ترقی کو سبوتاژ کرتا ہے، آپ ان کو پہچانتے ہیں یا نہیں‘ یہاں چند لوگوں کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہئے،محمد نواز شریف

لاہور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 اگست2017ء)پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد و سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے یہاں ریلی کے شرکاء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ لاہور کے غیور باسیوآپ نے مجھے اپنے ووٹ کی طاقت سے وزیر اعظم بنایا مگر مجھے نااہل قرا ردیکر گھر بھیج دیا گیا ، آپ کو یہ فیصلہ منظور ہی ۔مجھے اسلام آباد سے لاہور کا سفر کرتے ہوئے چار روز ہو گئے ہیں لیکن پاکستان کا بچہ بچہ سراپا احتجاج ہے کہ نواز شریف کو کیسے نا اہل کر دیا گیا ۔

ایک دن کہتے ہیں کہ وزیراعظم نواز شریف پر سرکاری خرد برد کا کوئی الزام نہیں، کوئی کرپشن نہیں کی، کوئی کمیشن یا کک بیک نہیں لی، رشوت نہیں لی لیکن دوسرے دن کہتے ہیں کہ نا اہل کرتے ہیں کیونکہ آپ نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، کیوں نہیں لی یہ نا اہل کرنے کی وجہ ہے،آپ دیکھ لو آپ کو یہ وجہ سمجھ آتی ہے کہ بیٹے سے تنخواہ کیوں نہیں لی ، نہیں لی تو نہیں لی آپ کو کیا ہے ، آپ کون ہیں ،بتائیں کیا حرج ہے ،نہیں لی تو اس میں کیا حرج ہے یہ کوئی معقول وجہ ہے ۔

یہاں وزرائے اعظموں کے ساتھ یہ سلوک ہوتا ہے ، 70سال سے یہ سلوک ہوتا ہوا آیا ہے ، پاکستان بدلے گا یا نہیں بدلے گا ۔ وہ ہفتہ کی رات داتا صاحب دربار میں ریلی کے اختتام پر خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ2013ء میں آپ نے مجھے ووٹ دیا اور کہا کہ نواز شریف بجلی نہیں آتی، پنکھا نہیں چلتا چولہا نہیں جلتا ،میں نے کہا کہ انشا اللہ اللہ کے فضل سے پنکھا بھی چلے گا اور چولہا بھی جلے گا ، گائوں گائوں روشنی آئے گی ۔

چوتھا سال ہے بجلی آنا شروع ہو گئی ہے ،گیس بھی آنا شروع ہو گئی ہے ،یہاں میٹرو بس چل رہی ہے ، اورنج لائن تقریباً تیار ہو چکی ہے غریبوں کو کتنی سہولت ملی ہے ،غریب کی بیٹی میٹرو بس میں بیٹھ کر سکول اور کالج جاتی ہے ، غریب آدمی بیس سے پچیس روپے میں پورے شہر کا سفر کرتا ہے جبکہ پہلے سینکڑوںروپے لگتے تھے ، میں صحیح بات کر رہا ہوں یا نہیں ۔

آج اللہ کے فضل سے سڑکیں بن رہی ہیں،ملک خوشحال ہو رہا ہے ترقی عروج پر ہے ،امن قائم ہو چکا ہے اتنے اچھے کام ہو رہے تھے پھر وزیراعظم کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے ۔ہمیں یہ منظور نہیں ۔ 1947سے آج تک وزرائے اعظموں کے ساتھ یہی سلوک ہوتا رہا ہے ،اوسطاً ہر وزیر اعظم نے صرف ڈیڑ ھ سال کا عرصہ گزارا جبکہ تین ڈکٹیٹرملک کے تیس سال کھا گئے،لیکن اب یہ نہیں چلے گا ، پاکستان کو بدلنا ہوگا ۔

اسلام آباد سے یہاں پہنچا ہوں میں نے جو جذبات دیکھے ہیں جو جذبہ یہاں دیکھ رہا ہوں یہ وہ جذبہ ہے جو ایک انقلاب کا پیشہ خیمہ ہے ۔ انقلاب نہ آیا تو غریب ہمیشہ غریب ہی رہے گا اگر یہ انقلاب نہ آیا تو کسی کو انصاف نہیں ملے گا ،انقلاب نہ آیا تو انکے گھروں میں خوشحالی دستک نہیں دے گی ، بیروزگار بیروزگار ہی رہیں گے ، پاکستانی قوم پست قوم بن جائے گی ، ہمیں دوسروں سے سبق سیکھنا چاہیے ۔

خطے میں ہمارا جیسا کوئی دوسرا ملک نہیں جہاں ووٹ کی قدر نہ کی جاتی ہو ۔ یہاں کروڑوں عوام کے ووٹ لے کر آنے والوںکو چند لوگ گھر بھیج دیتے ہیں کیا سارے سارے کے سارے وزرائے اعظم غلط تھے جوانہیں مدت پوری نہیں کرنے دی جاتی ۔ کیا آج پاکستان کا بھلا نہیں ہو رہا تھا بہتری نہیں آرہی تھی ، آرہی تھی یا نہیں پاکستان ترقی کر رہا تھا یا نہیں ۔ کون ہیں جو پاکستان کے ساتھ ظلم کرتے ہیں ، بتائو کون ہے انہیں احساس ہونا چاہیے ۔

لاہور والوں آپ ہمیشہ سچی بات کرتے ہو جنہوں نے پاکستان کے ساتھ ستر سال سے کھیل کھیلا ہے تماشہ کیا ہے کیا ان کا احتساب ہونا چاہیے یا نہیں اللہ کے فضل و کرم سے محنت سے کام کیا چار سالوں میں پاکستان کی تعمیر ہو رہی تھی ، شہباز شریف کا کام سب کے سامنے ہے ، بیس بیس گھنٹے کام ہو رہا ہے بجلی کے کارخانے لگ رہے ہیںاس کے لئے خون اور پسینہ بہایا ہے ، آج نہ صرف بجلی آرہی ہے بلکہ سستی بھی ہو رہی ہے ہم چاہتے ہیں کہ کاشتکار کو بھی سستی بجلی ملے عوا م کو بل کم آئیں لیکن کون ہے جو پاکستان کی ترقی کو سبوتاژ کرتا ہے آپ ان کو پہچانتے ہیں یا نہیں ۔

آپ کو جرات کے ساتھ سٹینڈ لینا ہوگا ورنہ پاکستان ادھورا رہ جائے گا ۔ 1971ء میں پاکستان حادثے کا شکار ہوا اور دولخت ہوا ،اللہ نہ کرے پاکستان کو دوبارہ کوئی حادثہ پیش آجائے مجھے اس سے ڈرلگتا ہے ۔ میں آپ سے سوال پوچھنا چاہتا ہوں سوال کا جواب دیں گے کہ آج کون سا سال ہے ہم کب آئے تھے 2013ء اور آج 2017ء کے پاکستان میں فرق ہے آج کا پاکستان 2013ء سے بہتر ہے یا نہیں پھر نواز شریف کو شاباش ملنی چاہیے تھی یا سزا ملنی چاہیے تھی ،کیا نواز شریف کو نا اہل ہونا چاہیے تھا ۔

20کروڑ عوام پاکستان کے مالک ہیں یہاں چند لوگوں کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے یہ 20کروڑ پر حاوی ہونے چاہئیںیہ سلسلہ ختم ہوجانا چاہیے ، بیس کروڑ عوام کی عزت اور حرمت ہے یا نہیں ۔انہوں نے کہا کہ آپ نے بجلی کا کہا وہ لایا ، گیس کا کہا اسے لایا امن کا کہا وہ بھی آیا عوام اگر کہیں گے کہ نواز شریف ہمارے ووٹ کے عزت اور حرمت ہونی چاہیے وہ بھی کر کے دکھائوں گا ، نواز شریف جو کہتا ہے وہ کرتا ہے آپ نے حکم دیا تو مجھے اپنی جان کی پرواہ نہیں ہے ،مجھے اپنے اقتدار کی پرواہ نہیں ہے میری جان آپ ہیں ، نواز شریف نے کبھی دھوکہ نہیں کیا، بولوکبھی کیا ہے یہاں بڑے بڑے دھوکہ دینے والے آتے رہے ہیں ۔

چار سالوں میں کیا ہوتا رہا ہے ۔ دھرنے دئیے گئے سازشیں ہوتی رہیں اس کے باوجود بجلی آجائے ،گیس آجائے ،میٹرو آ جائے ، اورنج لائن آجائے ،روزگار آ جائے ،ترقی خوشحالی آجائے چا رسالوں میں تماشے نہ ہوتا تو ہم اس سے زیادہ ترقی کی منازل طے کر رہے ہوتے ۔ مجھے اقتدار کی قطعاًلالچ نہیں،مجھے لالچ ہے تو آپ کی لالچ ہے آپ کے بچوں کے مفاد آپ کے خاندان کے مفاد کی لالچ ہے ۔

پاکستان جس رفتار سے چل پڑا تھا مجھے امید تھی کہ دو تین سالوں میں پاکستان میں کوئی بیروزگار نہیں رہے گا ، میں ڈرتا نہیں ہوں نہ گھر میںبیٹھوں گا اورمیں اس وقت تک گھر نہیں بیٹھوں گا جب تک پاکستان اور عوام کی تقدیر نہیں بدل جاتی ۔ ایک خواہش ہے میرے ملک کی تقدیر بدلے اس کے باسیوں کی تقدیر بدلے آج تقدیر کو بدلنے کے لئے نظام کو بدلنا ہوگا ، ہمارے نظام کو وائرس لا حق ہو گیا ہے اسے ٹھیک کرنا ہے ، ملک کی عزت قائم کرنا ہو گی ، پاکستان کی حرمت مقام وقار بے حد عزیز ہے ۔

پاکستان اوپر کی طرف جارہا تھا یہ نیچے کی طرف لے آئے ہیں ۔ ہم دنیا میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ۔ انشا اللہ ملک بدلے گا آپ کی تقدیر بدلے گی ،سستا انصاف آئے گا ۔آج عدالتوں میں تیس ‘ تیس سال سے مقدمات لٹکے ہوئے ہیں ، دادے کا مقدمہ پوتا بھگت رہا ہے اور فیصلے نہیں ہو رہے ۔ سماجی ‘ عدالتی ‘ معاشرتی انصاف نہیں مل رہا ہے یہ ظلم کی بات ہے ایسا نظام لائیں گے جس کے تحت نوے دنوں میں انصاف ملے گا اس کے لئے قانون لانا ہوں گے آئین بدلنا ہوگا نظام بدلنا ہوگا جو غریب عدالتوں کی فیس نہیں دے سکتے اس کی ادائیگی انشا اللہ مملکت کرے گی ، اللہ کے فضل و کرم سے ہم یہ کریں گے او رمیں اس کا وعدہ کر رہا ہوں ،نواز شریف جھوٹا وعدہ نہیں کرتا ۔

انہوں نے کہا کہ آپ نیا پاکستان چاہتے ہو یا نہیں آپ کے ووٹ کی عزت اور حرمت ہو گی آپ کو منطور ہے آپ نے نواز شریف کا ساتھ دینے کے وعدہ کرنا ہے،دو روز بعد 14اگست ہے ۔ ہمارے بزرگوں نے جس پاکستان کے لئے قربانیاں دی تھیں وہ نہیں بن سکا ۔ ہم 70سالوں کے سے بھٹک رہے ہیں کبھی سامنے جاتے ہیں او رکبھی پیچھے جاتے ہیں ۔ پاکستان لڑھک رہا ہے کیا ہمسایہ ممالک میں اس طرح کے حالات ہیں ۔

آپ کو نواز شریف کا ساتھ دینا ہوگا ۔ میں دعوے سے کہہ رہا ہوں کل تک میں وزیر اعظم آج نہیں ہوں لیکن میں انصاف کے لئے نکلا ہوں میں اقتدار کے لئے نہیں نکلا نواز شریف کی نہیں عوام کی حکمرانی کے لئے نکلا ہو ں۔آپ کی حکمرانی کے لئے عوام کی حکمرانی کے لئے نکلا ہو ں ۔ مجھے حکمرانی سے غرض نہیں میں سمجھتا ہوں صاف گوئی سے کام لوں ۔ عہد کرنا لیکن پکا عہد کرنا دل سے پوچھ کر عہد کرنا ورنہ نہ کرنا کیا، اس عہد کو نبھائو گے ۔

جب تک ملک میں بنیادی نظام ٹھیک نہیں ہوتا یہ آگے نہیں بڑھ سکتا اور پاکستان تماشہ بنا رہے گا ۔ہمیں پاکستان کو ٹھوکروں سے بچانا ہے تماشے اور مذاق سے بچانا ہے ا س کے لئے آپ کو سچا وعدہ کرنا ہے ۔ آپ پاکستان میںانقلاب برپا کرنے کے لئے نواز شریف کا ساتھ دو گے ۔ 14اگست کا دن آرہا ہے ، ہزاروں لاکھوں لوگ شہید ہوئے تھے لیکن اس کی لاج نہیں رکھی گئی قبروں کے اندر بھی ان شہیدوں کی روح بے چین ہو گی ۔

1970ء میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا ،بلوچستان اور دوسرے صوبوں کے ساتھ کیا سلوک ہوا،میرا دل روتا ہے اب ہم ایسی کسی چیز کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ آج 80فیصد آبادی بے گھر ہے میں سو چ رہا تھا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے ،میرا یہ ایجنڈا تھا کہ ہم معاشی طو رپر مستحکم ہو رہے ہیں اب نئی سکیم کا اعلان کریں گے ، ریاست سستے داموں گھروں کا اعلان کرے گی ، یہ پاکستان 20کروڑ عوام کی ملکیت ہے ، سر زمین پاکستان کے مالک 20کروڑ ہیں چند لوگ نہیں ، کیا بیس کروڑ عوام کو حق ملنا چاہیے حقوق ملنے چاہئیں ۔

میں وعدہ کر رہا ہوں موقع دیا تو وہ انقلاب لے کر آئیں گے جس میں تیز ترین اور سستاانصاف ملے گا ، ریاست آسان شرائط پر گھر دے گی ۔ پاکستان میں ترقی کے سفر کو مزید تیز کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے چیئرمین نے جو بیان دیا ہے میں ان کی تجاویز سے اتفاق کرتا ہوں،مسلم لیگ ( ن) سینیٹ میں ان کا ساتھ دے گی اگر وہ نیا آئین و قانون بنانا چاہتے ہیں ان کا ساتھ دیں گے ان کے ساتھ بیٹھیں گے تاکہ یہ کام ابھی شروع کیا جا سکے ۔

انہوں نے کہا کہ ایک وزیراعظم کو نکال دیا ہے لیکن آزاد کشمیر کا وزیر اعظم ابھی بھی ہے ۔ انشا اللہ مقبوضہ کشمیر آزاد ہوگا اور پاکستان کا حصہ بنے گا ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اسلام آباد سے لاہور تک جو پیار ملا ہے اسے ساری زندگی نہیں بھلائوں گا ۔ میں اپنا پروگرام دوں گا مجھے یقین ہے کہ آپ نواز شریف کا بھرپور ساتھ دیں گے ۔ آپ بلند آواز میں بتائیں کیا انقلابی پروگرام کو سپورٹ کرتے ہیں کیا میرے ساتھ ہیں ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/08/2017 - 01:00:07

اپنی رائے کا اظہار کریں