پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے تعمیراتی صنعت کا ہمیشہ ساتھ دیا اور ٹیکسز کم کئے
تازہ ترین : 1
پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے تعمیراتی صنعت کا ہمیشہ ساتھ دیا اور ٹیکسز ..

پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے تعمیراتی صنعت کا ہمیشہ ساتھ دیا اور ٹیکسز کم کئے

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کا آباد کی 3 روزہ انٹرنیشنل ایکسپو کے افتتاح کے موقع پر خطاب

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اگست2017ء) اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے تعمیراتی صنعت کا ہمیشہ ساتھ دیا اور ٹیکسز کم کئے تاکہ غریب عوام کو مکان کی خریداری کیلئے دبائو نہ پڑ ے،ہمیں کراچی شہر کو ترقی یافتہ بنانا ہے اور اس شہر کی ترقی اور تعمیراتی صنعت کے فوائد کیلئے ہم کوئی قانون اسمبلی سے منظور کراسکتے ہیں ۔

انہوں نے یہ بات ہفتہ کو ایکسپو سینٹر کراچی میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کی 3 روزہ " انٹرنیشنل ایکسپو 2017 کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔افتتاحی تقریب میں سابق گورنر پنجاب اور تحریک انصاف کے رہنما چوہدر ی محمد سرور ،پیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی،ڈی ایم سی ( سینٹرل ) کے چیئرمین ریحان ہاشمی، چیئرمین آباد محسن شیخانی،سینئروائس چیئرمین حسن بخشی،وائس چیئرمین محمدایوب اور عبدالکریم آڈھیا نے بھی خطاب کیا جبکہ تعمیراتی شعبے کی معروف شخصیات عارف جیوا،حنیف گوہر،آصف سم سم،کراچی پریس کلب کے سیکریٹری مقصود یوسفی،شاہد خیری،جنیداشرف تالو،اویس تھانوی،انورگاگائیسمیت اہم شخصیات نے شرکت کی ۔

آباد نمائش میں مقامی اور 23 ممالک کی 155 کمپنیاں ہزاروں تعمیراتی مصنوعات،ٹیکنالوجیزاور جدید کنسٹرکشن مشینریزپیش کریں گی جن میں کنسٹرکشن ٹولز،میٹل،اسٹیل،کنکریٹ،سیمنٹ،کنسٹرکشن مشینریزو ایکوپمنٹس،بلڈنگ انفارمیشن، ماڈلنگ،اسمارٹ بلڈنگ & آٹومیشن،کچن،باتھ رومز،فلورنگ ،سیلنگ،لائٹنگ اور دیگر شامل ہیں۔ میگا ایونٹ میں پاکستان سمیت پوری دنیا سے آرکیٹیکٹس،سول انجینئرز،ڈیزائنرز،ڈیولپرز،بلڈرز،کنٹریکٹرز، پراپرٹی منیجرز اور تعمیراتی ایسوسی ایشنوں کے نامور ممبران شامل ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے کہا کہ کراچی میں اس طرح کے میگا ایونٹس کا ہونا خوش آئند ہے ،کراچی کا تعمیراتی صنعت میں ایک بڑا نام ہے،کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ماہرین کودنیابھرمیں جانا جاتا تھا اور انہوں نے ایشیا میں کئی بستیاں آباد کیں ۔انہوںنے کہا کہ میری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ آباد کو تمام سہولتیں فراہم کی جائیں،صوبائی حکومت بھی اس سلسلے میں اقدامات کررہی ہے،شہر کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

انہوںنے کہا کہ تعمیراتی صنعت کے حوالے سے متعدد کیسز عدالتوں میں موجود ہیں ،معززعدالتیں تعمیراتی صنعت کے کیسز جلداز جلد نمٹائیں تاکہ غریب کیلئے اس کی چھت کے مسائل حل ہوں ۔ رکن سندھ اسمبلی سعید غنی نے کہا کہ کراچی شہر کا امیج دنیا میں بحال کرنے میں ایسی نمائشوں کا انعقاد انتہائی ضروری ہے ، جس طرح کھانا ضروری ہے اسی طرح گھربھی ضروری ہے،اس شہرمیں ہرطبقے کے لوگ رہتے ہیں،ملک کے غریبوں کے لیئے بلڈرزاسستے مکانات بنانے کا سلسلہ تیز کریں۔

انہوںنے کہا کہ ماضی میں لوگ کراچی آنے سے گھبراتے تھے،کراچی کوکھنڈربنانے کی سازش کی گئی لیکن اب حالات یکسر مختلف ہیں اور شہر میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے کے باعث اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی آرہی ہے ۔ چیئرمین آباد محسن شیخانی نے کہا کہ اس نمائش میں 23 ممالک کی کمپنیاں شرکت کررہی ہیں،آباد ایکسپو میں سندھ کے شہریوں کے لیئے بڑی خوشخبری ہوگی، آباد ایکسپو سے مقامی صنعت کو جدید رجحانات سے آگاہی ملے گی۔

ملک میں ایک کروڑ 20 لاکھ گھروں کی کمی کا سامنا ہے۔ مکانات کی کمی دور کرنے کے لیے 180 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوسکتی ہے،حکومت ساتھ دے تو ہم ایسے لاکھوں گھر بناکر دے سکتے،سستی رہائشی اسکیم کے لیے نادرن بائی پاس کے قریب 500 ایکڑ اراضی خرید لی ہے،120 گز کے مکان کی قیمت 15 سے 21 لاکھ روپے ہوگی،آباد کی چاہت عوام کی چاہت ہے جسے پورا کرینگے۔انہوںنے کہا کہ تعمیراتی صنعت کی بقاکے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے، حکومت عوامی مفادکے لئے واضح پالیسیاں اپنائے،ہرصوبے میں تعمیراتی صنعت کے لیئے وزیراعلی کا فوکل پرسن تعینات کیا جائے۔

محسن شیخانی نے کہا کہ شہرمیں کاروباری سرگرمیاں بحال ہیں، کوشش ہے کہ ہرشہری کی اپنی رہائش ہو ، بلڈرز پاکستانی تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں۔ انہوںنے کہا کہ عمارتیں پانی نہیں پیتیں بلکہ آبادیاں پانی پیتی ہیں،بلندوبالا عمارتوں پرپابندی واٹرکمیشن کی فرسودہ رپورٹ پرلگائی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کم قیمت مکانات کا سلسلہ اسلام آباد سے شروع کیا اور اب یہ مہم کراچی میں بھی جاری ہے،کچی آبادیاں ختم ہونگی تو دہشت گردی بھی ختم ہوگی،حکومت100 سالہ ماسٹر پلان بنائے اور جو ادارے کمزور ہوگئے ہیں اور کام ہی نہیں کررہے انہیں مضبوط بنایا جائے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/08/2017 - 23:08:38

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں