پشاور، میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹس کا مقصد عوام کو بین الاقوامی معیار کی علاج معالجہ ..
تازہ ترین : 1
پشاور، میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹس کا مقصد عوام کو بین الاقوامی معیار ..

پشاور، میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹس کا مقصد عوام کو بین الاقوامی معیار کی علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنا ہے،پرویز خٹک

70 سالوں سے تباہ حال ہسپتالوں کوٹھیک کر کے اعلیٰ معیار تک لے جانا خوش آئند ہے ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اگست2017ء) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹس) MTI ( کا مقصد عوام کو بین الاقوامی معیار کی علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ 70 سالوں سے تباہ حال ہسپتالوں کوٹھیک کر کے اعلیٰ معیار تک لے جانااگر چہ ایک کٹھن اور صبر آزما مرحلہ ہے مگر یہ بات خوش آئند ہے کہ یہ بہتری کی طرف سفر ہے۔

مطلوبہ معیار تک پہنچنے میںپختہ عزم اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹس اپنی کمزوریاں دور کریں اور بہتری کی طرف یہ سفر رکنا نہیں چاہئے۔ ہم نے ہمت سے آگے بڑھنا ہے اور منزل کے حصول کیلئے ہر چیلنج کو دیدہ دلیری کے ساتھ قبول کرنا ہے وہ وزیراعلیٰ ہائوس پشاور میں محکمہ صحت کے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔سیکرٹری صحت عابدمجید، سٹریٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید،ڈی جی محکمہ صحت، ایم ٹی آئیز کے اعلیٰ حکام اور ڈاکٹرز نے اجلاس میں شرکت کی ۔

اجلاس میں میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹس لیڈی ریڈنگ ہسپتال، خیبر تدریسی ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی کارکردگی پر مشترکہ کمیشن انٹر نیشنل شفاء فائونڈیشن اسلام آباد کی جائزہ رپورٹ پیش کی گئی رپورٹ میں مریض کے تحفظ، علاج تک رسائی، مریضوں کی دیکھ بھال، سرجیکل کیئر، مریض اور فیملی کے حقوق، مریض اور فیملی کی تعلیم، میڈیکیشن مینجمنٹ ، انفیکشن کنٹرول، گورننس اینڈ لیڈرشپ، فیسیلٹی مینجمنٹ، سٹاف کوالیفکیشن اینڈ ایجوکیشن، انفارمیشن مینجمنٹ، میڈیکل پروفیشنل ایجوکیشن اور ہیومن سبجیکٹ ریسرچ پروگرام پر فوکس کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ تینوں میڈیکل انسٹیٹیوٹس میںصوبائی حکومت کے وژن اور مشن کے مطابق پرعزم قیادت موجود ہیں ، وسائل دستیاب ہیں، بہتری کیلئے اوپن کلچر دیکھنے میں آیا ہے جو موجودہ حالات میں خوش آئند ہے تاہم سٹرکچر کے مسائل سمیت مریض اور وزیٹرکی آمد،عملے کی پیشہ وارانہ تربیت اور تجربے اور پراسس کی کمزوریوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے معیار اور اسکے معتمد ہونے کے حوالے سے بتایا گیا کہ رپورٹ بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ معیار کے ہسپتالوں میں موجود سہولیات کو معیار بنا کر پیش کی گئی ہے یہ معیار اتنا بلند ہے کہ شفاء انٹر نیشنل ہسپتال اسلام آباد کو بھی اس معیار تک پہنچنے میں چھ سال مسلسل محنت کرنا پڑی بہتری کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔رپورٹ میں پیش کی گئی کمزوریوں کو دور کرنے اور بہتری کیلئے تجاویز اور سفارشات بھی پیش کی گئی اور بتایا گیا کہ ہر تین ماہ کے بعدایم ٹی آئیز کی کارکردگی کی جائزہ رپورٹ پیش کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے رپورٹ کے طریق کار اور حکمت عملی کو سراہا اور اسے محکمہ صحت کی اہم کاوش قرار دیا وزیراعلیٰ نے کہا ہم صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں کسی غفلت کے مرتکب نہیں ہو سکتے رپورٹ میں دی گئی تجاویز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے یہ بہت ضروری ہے انہوں نے ہدایت کی کہ ہر تین ماہ کے بعد رپورٹ کو سابقہ رپورٹ سے موازنہ کر کے دکھایا جائے ہم نے بتدریج بہتری کی طرف جانا ہے اصلاح کا عمل جب بھی شروع ہوتا ہے تو اس میں مشکلات درپیش ہوتی ہیں رکاوٹیں بھی آتی ہے مگر ہمت، حوصلے اور غیر متزلزل عزم کے ذریعے ان پر قا بو پایا جا سکتا ہے ہماری اصلاحات کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں پر عوام کا اعتماد بحال ہوا ہے جسے ہم نے مسلسل محنت سے دیرپا بنانا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ اس ملک کا المیہ رہا ہے کہ کبھی کسی کو غلطی کی سزا نہیں ملی اور کارکردگی کی قدر نہیں کی گئی جزا و سزا کا تصور موجود نہیں تھا اس لئے ہم 70 سالوں میں بہتری کی طرف نہیں جا سکے۔ دنیا نے اس لئے ترقی کی کہ وہا ں ایک نظام موجود ہے اور جوابدہی کا کلچر ہے کیونکہ اسکے بغیرزمہ داری کا احساس پیدا نہیں ہوتا۔ صوبائی حکومت نے اصلاحات کے ذریعے جس قابل عمل نظام کی بنیادرکھی ہے اس پر اجتماعی کاوشوں کے ذریعے مضبوط پاکستان کی عمارت کھڑی کرنی ہے۔

دریں اثناء وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے سپورٹس جمنازیم پبی کیلئے پبی کالج سے منسلک اراضی کی حد بندی کر کے قابل عمل تبدیل شدہ سٹرکچر وضع کرنے کی ہدایت کی ہے انہوں نے صوبہ بھر میں گرائونڈز کی تعمیر اور وہاں ٹیوب ویلز اور مالی سمیت دیگر اقدامات کی اصل صورت حال سے آگاہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

صوبائی وزیر برائے کھیل و سیاحت محمود خان ، ایم پی ایز خلیق الرحمان، ڈاکٹر حیدر علی خان، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سپورٹس جمنازیم کیلئے پبی کالج سے منسلک اراضی پر کرکٹ اور فٹ بال گرائونڈز سمیت مطلوبہ رقبے کی نشاندہی کریں تاکہ تعمیری کام میں کوئی رکاوٹ نہ آئیں۔

جمنازیم میںمعیاری سہولیات یقینی بنائی جائیں۔ انہوں نے صوبہ بھر میں تعمیر کئے گئے کھیلوں کے میدان میں حکومتی ہدایات کے مطابق سہولیات برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ قبل ازیں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے محکمہ جنگلات کی اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرانے کا عمل تیز کرنے اور اراضی کا مکمل ریکارڈ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ اراضی کی واگزاری کا عمل مرحلہ وار شروع ہی60 ہزار کنال اراضی واگزار کر چکے ہیں وزیراعلیٰ نے طاقتور مافیا سے زمین کی واگزاری کا عمل شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کی جائے وزیراعلیٰ نے کہا کہ قبضہ مافیا اپنی ایک انچ زمین بھی کسی کو نہیں چھوڑتا اور سرکار کی کئی کنال زمین دبا کے بیٹھ جاتا ہے ماضی میں اس طرف توجہ نہیں دی گئی مگر ہم سرکاری اراضی کو غبن کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/08/2017 - 21:06:10

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں