سرینگر ، ’’کشمیر سینٹر فار سوشل اینڈ ڈیویلپمنٹ سٹیڈیز ‘‘کے زیر اہتمام آرٹیکل35 ..
تازہ ترین : 1

سرینگر ، ’’کشمیر سینٹر فار سوشل اینڈ ڈیویلپمنٹ سٹیڈیز ‘‘کے زیر اہتمام آرٹیکل35 اے کو ختم کرنے کے مذموم بھارتی منصوبے کے حوالے سے کانفرنس کا انعقاد

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اگست2017ء)مقبوضہ کشمیر میں ’’کشمیر سینٹر فار سوشل اینڈ ڈیویلپمنٹ سٹیڈیز ‘‘کے زیر اہتمام آرٹیکل35A کو ختم کیے جانے کے مذموم بھارتی منصوبے کے حوالے سرینگر میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ ’’ آرٹیکل35 اے پر عدالتی حملے کے نتائج اور ہماری شناخت‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں سول سوسائٹی کے ارکان نے بھارتیہ جنتاپارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی طرف سے آرٹیکل 35اے کی منسوخی کے لیے سپریم کورٹ میں دائر عرضداشت کی پیروی کیلئے کشمیر سے وکلا کی ٹیم بھیجنے کا فیصلہ کیا ۔

میز کانفرنس کی صدارت کے فرائض معروف قانون دان ظفر شاہ اور پروفیسر حمیدہ نعیم نے انجام دیئے جبکہ کانفرنس میں پروفیسر نثار علی، ماہر قانون اور کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ لاء کے پروفیسر شیخ شوکت، ایڈوکیٹ جی ایم شاہین ، محمد شفیع پنڈت، ظریف احمد ظریف ، خرم پرویز ، جی ایم صوفی،صحافی گوہر گیلانی ، رائزنگ کشمیر کے مدیر اعلیٰ شجاعت بخاری، مبین شاہ کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

ماہر قانون ایڈووکیٹ ظفر شاہ اپنے صدارتی خطے میں 35اے کو ہٹانے سے جموں و کشمیر پر مرتب ہونے والے اثرات اور قانونی پیچیدگیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشمیری دفعہ 35اے کی حفاظت کیلئے آگے نہیں آئے تو انہیں انتہائی مشکلات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ایڈوکیٹ ظفر شاہ نے کہا کہ کشمیری عوام کی جانب سے بھارتی سپریم کورٹ میں کیس کی پیروی لازمی بن گئی ہے اور اگر ہم نے 35اے کے تحفظ کے لیے اپنی پوری طاقت نہیں لگائی تو یہ ہمارے لیے انتہائی تباہ کن ہو گا۔

کشمیر یونیوسٹی میں شعبہ لاء کے پروفیسر شیخ شوکت نے کہا کہ موجودہ بھارتی حکومت کی دو پالیسیاں ہیں، ایک نرم اور دوسری سخت گیر۔ انہوں نے کہا کہ نرم پالیسی بین الاقوامی برادری اور دوست ممالک کو دکھانے کیلئے ہے جبکہ دوسری پالیسی وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے غنڈوں اور کارکنوں کے ذریعے چلاتی ہے جو بھارتی مسلمانوں اور کشمیری عوام کے مخالف ہیں۔

پروفیسر شیخ شوکت نے کہا کہ کشمیر کی نوجوان نسل کو دفعہ 35اے کے بارے میں معلومات دینا لازمی بن گیا ہے اور اسلئے طلبہ ، اساتذہ اور مختلف انجمنوں کو بھی اس مہم میں شامل کرنا چاہئے ۔ایڈوکیٹ جی این شاہین نے کہا کہ بھارت نواز جماعتوں پیپلز ڈیمورکریٹک پارٹی ، نیشنل کانفرنس وغیرہ نے بھی لوگوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ دفعہ 370کو کچھ نہیں ہونے دیں گے لہذا یہ انکی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اسکے دفاع کے لیے آگئے آئے۔

کانفرنس میں سول سو سائٹی ارکان نے تقاریر کرتے ہوئے آرٹیکل35اے کو بچانے کیلئے اپنی بھر پور حمایت دینے کااعلان کیا۔ کانفرنس سے مبین شاہ ، پروفیسر حمیدہ نعیم پروفیسر نثار علی اور وادی کے مختلف علاقوں سے آنے والے مختلف تجارتی انجمنوں کے نمائندوں نے بھی تقریر یںکیں۔کانفرنس کے اختتام پر ایک قراردار منظور کی گئی جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، سلامتی کونسل کے ارکان اور اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں سے اپیل کی گئی کہ وہ آرٹیکل 35اے کو ختم کرنے کی بھارتی کوششوں کا نوٹس لیں اور اسکے تحفظ کے لیے کردار ادا کریں۔

کانفرنس میں عالمی اداروںکو اس حوالے سے خطوط لکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیاجبکہ سپریم کورٹ میں معاملے کی پیروی کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی جائے گی ۔ کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس حوالے سے سرینگر کے لال چوک میں ایک احتجاجی دھرنا بھی دیا جائے گا جس کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/08/2017 - 15:40:28

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں