کراچی میں ناجائز اور غیر قانونی تعمیرات کی ذمہ داری حکومت اور سندھ بلڈنگ کنٹرول ..
تازہ ترین : 1
کراچی میں ناجائز اور غیر قانونی تعمیرات کی ذمہ داری حکومت اور سندھ ..

کراچی میں ناجائز اور غیر قانونی تعمیرات کی ذمہ داری حکومت اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی پر عائد ہو تی ہے،حافظ نعیم الرحمن

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اگست2017ء) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کراچی میں بڑے پیمانے پر ناجائز اور غیر قانونی تعمیرات کی ذمہ داری حکومت اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی پر عائد ہو تی ہے ۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے برسوں ناجائز تعمیرات پر نہ صرف آنکھیں بند کیے رکھیں اورمجرمانہ خاموشی اختیار کی بلکہ اس غیر قانونی فعل کا تحفظ کیا اور رشوت کے عوض کروڑوں روپے کھائے گئے ۔

پہلے رشوت لے کر خود اجازت دی اوراب عمارتیں گرائی جارہی ہیں ۔آج ناجائز تعمیرات کے خلاف کاروائی کر نے کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اعلی افسران اور اہلکاروں کے خلاف بھی سخت کاروائی کی جائے ۔اگر ماضی میں اس غیر قانونی عمل کو روک لیا جاتا تو آج کراچی میں جس بڑے پیمانے پر ناجائز تعمیرات موجود ہیں وہ نہ ہوتیں ۔حافظ نعیم الرحمن نے کراچی میں ناجائز اور غیر قانونی تعمیرات کو گرائے جانے کے حوالے سے کہا کہ کسی بھی غیر قانونی عمل کی کسی طرح بھی حمایت نہیں کی جاسکتی لیکن آج جس طرح لاکھوں اور کروڑوں روپے مالیت کی عمارتیں ڈھائی جارہی ہیں اس میں لوگوں کی سالوں کی جمع پونجی ختم ہو رہی ہے اور سر مائے کا ضیاع ہو رہا ہے اور جس طریقے سے یہ کام کیا جارہا ہے اس سے بھی بے چینی اور اضطراب پیدا ہو رہا ہے اور عمارت گرانے کے دوران ایک افسوس ناک واقعے میں 2افراد جاں بحق بھی ہو گئے ہیں جو کسی طرح بھی مناسب نہیں ۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور کے ڈی اے کے محکمے رشوت اور کرپشن کے گڑھ بن گئے ہیں ۔شہر کے کسی بھی حصے اور گوشے میں ان سرکاری اداروں کے این او سی کے بغیر کوئی عمارت تعمیر نہیں ہو سکتی ۔کجا کہ کئی مرتبہ غیر قانونی اور ناجائز عمارتیں تعمیر ہو جائیں ۔یہ ساری تعمیرات راشی افسران اور اہلکاروں کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں اور آج یہ ادارے بھی اس عمل کے براہِ راست ذمہ دارہیں اور یہ خود کو بری الزمہ نہیں کر سکتے ۔

انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ سینکڑوں جاری تعمیرات کے متعلق اخبارات میں خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں لیکن اس وقت تک کوئی کاروائی نہیں کی جاتی جب تک بلڈر معصوم خریداروں سے پیسے وصول کر کے غائب نہیں ہوجاتا ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس طرح کی فریب کارانہ کاروائی کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جاری غیر قانونی تعمیرات کو روکا جائے اور اس طرح کاروائی کی جائے کہ خریدار کی جمع پونجی ضائع نہ ہو ۔#

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/08/2017 - 23:18:29

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں