نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے منتخب وزیر اعظم کی نااہلی کے فیصلے مطالبہ کیا تھا کہ ..
تازہ ترین : 1
نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے منتخب وزیر اعظم کی نااہلی کے فیصلے مطالبہ ..

نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے منتخب وزیر اعظم کی نااہلی کے فیصلے مطالبہ کیا تھا کہ یوسف رضا گیلانی فوراً استعفیٰ دیں اور گھر چلے جائیں ،

آج اُس فیصلے کو غلط فیصلہ قرار دے رہے ہیں ، مرکزی نائب صدر پیپلز پارٹی پنجاب میاں منظور احمد وٹو کابیان

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اگست2017ء)پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو نے میاں نواز شریف کے یوسف رضا گیلانی کی نااہلی سے متعلق بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میاں نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے منتخب وزیر اعظم کی نااہلی کے فیصلے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ یوسف رضا گیلانی فوراً استعفیٰ دیں اور گھر چلے جائیں آج اُس فیصلے کو غلط فیصلہ قرار دے رہے ہیں اُن کے اس بیان پر یہ شعر صادق آتا ہے " کی میرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا" انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کو سپریم کورٹ کے پانچ معزز ججوں نے کرپشن میں نااہل کیا ہے اور ریفرنسز بھیجنے کا نوٹس دیا ہے تو اب انہیں عوامی مینڈیٹ یاد آیا ہے جو آئین، قانون اور عوام کے ساتھ مذاق ہے میاں نواز شریف کی طرف سے اُن کی نااہلی کو عوام کے مینڈیٹ کی توہین قرار دینے پر انہیں یاد دلایا ہے کہ جب وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی حکومت کو صدر ضیا الحق نے گھر بھیجا تھا تو محمد خان جونیجو مسلم لیگ کے مرکزی صدر اور میاں نواز شریف صوبائی صدر تھے اُس وقت میاں نواز شریف نے اپنے مرکزی صدر کی حکومت برخاست کرنے اور وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کے صدارتی فیصلے پر خوشی اظہار کیا تھا اور پنجاب میں نگران وزیر اعلیٰ کا عہدہ قبول کر لیا تھا اسی طرح 1990 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی منتخب حکومت کو غلام اسحاق خان نے اسمبلیاں توڑ کر ختم کر دیا تھا تو نواز شریف نے بغلیں بجائی تھیں اس لئے کہ اُس وقت انہیں اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ تھی اور وزارتِ عظمیٰ کا اشارہ ملا تھا انہوں نے مزید کہا کہ آمر ضیاء الحق کی محمد خان جونیجو کی اور غلام اسحاق خان کا 58-II-B سے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومتوں کو برخاست کرنے پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرنے والے آج اپنی نااہلی پر عدالت کے فیصلے کو ماننے سے انکاری ہیں اور مینڈیٹ کی توہین قرار دے رہے ہیں حالانکہ میاں نواز شریف کو کرپشن پر سپریم کورٹ کے پانچ معزز ججز صاحبان نے متفقہ فیصلے میں نااہل قرار دیا ہے اور اُن کے خلاف ریفرنس بھیجنے کا کہا گیا ہے جبکہ محمد خان جونیجو، محترمہ بے نظیر بھٹو اور یوسف رضا گیلانی کو کرپشن پر عدالتی فیصلوں سے نہیں ہٹایا گیا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/08/2017 - 22:46:08

اپنی رائے کا اظہار کریں