سندھ نیب آرڈیننس کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر،اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کو نوٹس جاری

سندھ حکومت کو یہ اختیار نہیں تھا نیب کے قانون کو ختم کرے،سندھ حکومت نیب کے قانون کو ختم کرکے کرپٹ لوگوں کو بچانا چاہتی ہے، فاروق ستار سندھ حکومت کی اصلیت کو عوام پہچان چکے ہیں،نیب کیخلاف قرارداد پیش کرنیوالے پر خود نیب میں ریفرنس چل رہا ہے،نصرت سحرعباسی کی میڈیا سے گفتگو

جمعہ 11 اگست 2017 16:00

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 اگست2017ء) سندھ اسمبلی میںاپوزیشن جماعتوں نے سندھ نیب آرڈیننس کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ چیف جسٹس نے درخواستوں کی فوری سماعت کی استدعا منظور کر تے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کر کے 16 اگست کو جواب طلب کر لیاہے۔تفصیلات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور مسلم لیگ فنکشنل کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں نیب آرڈیننس کے خلاف مشترکہ پٹیشن دائر کی گئی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ اسمبلی میں ارکان کو سندھ نیب آرڈیننس پر بحث کا موقع نہیں دیا گیا اور اگر اس پر بحث کرائی جاتی تو یہ بل کبھی منظور نہیں ہوسکتا تھا۔درخواست کے متن کے مطابق پیپلزپارٹی کے وزراء اور مشیر کرپشن میں ملوث ہیں اور سندھ نیب آرڈیننس پیپلزپارٹی کے وزراء و مشیروں کو بچانے کے لئے منظور کرایا گیا ہے۔

(جاری ہے)

درخواست میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ گورنر سندھ بھی سندھ نیب آرڈیننس کو اعتراضات لگا کر مسترد کرچکے ہیں۔اپوزیشن جماعتوں نے درخواست میں عدالت سے استدعا کی کہ متنازع سندھ نیب آرڈیننس کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ ایک وفاقی قانون کو ختم کرکے صوبائی قانون لانا آئین کی بنیادی اساس کے خلاف ہے۔

نئے قانون کامقصد برسراقتدار جماعت کی کرپشن کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد فوجداری قوانین کا معاملہ وفاق اور صوبے دونوں کے دائرہ کار میں آتا ہے لہذا نیب قوانین کی منسوخی کے ایکٹ کو غیرقانونی اور غیر آئینی قرار دیا جائے جب کہ درخواست کا فیصلہ آنے تک نیب کے مقدمات اور تحقیقات کو منتقل ہونے سے روکا جائے۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمدعلی شیخ نے صوبائی نیب قانون کیخلاف درخواستوں کی فوری سماعت کی استدعا منظور کرتے ہوئے درخوست پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں،اٹارنی جنرل، ایڈوکیٹ جنرل سندھ اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کو16اگست کے لیے نوٹس جاری کر تے ہوئے جواب داخل کرانے کا حکم دیا ہے ۔ تمام درخواست گزاروں کی طرف سے بیرسٹر فروغ نسیم پیش ہوں گے۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹرفاروق ستار نے کہا کہ سندھ نیب آرڈیننس کے خلاف درخواست فنکشنل لیگ نے ہمارے ساتھ مل کر دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ اس قانون کو کالعدم قرار دیا جائے کیوں کہ نیب آرڈیننس 1999 کا اطلاق ختم کرنا سندھ حکومت اور سندھ اسمبلی کے اختیار میں نہیں آتا۔ پیپلزپارٹی کرپٹ لوگوں کو قانونی طور پر بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس کا یہ اقدام نیب کے سامنے بند باندھنے کی کوشش کی ہے۔ پیپلزپارٹی احتساب سے بھاگ رہی ہے۔پاناما کیس کے بعد 179 کیسز ایسے ہیں جو نیب کے زیر تفتیش ہیں اور بیشترمقدمات سندھ حکومت، پیپلز پارٹی کے وزرا اور نمائندوں کے خلاف ہیں۔پاناماکیس کے فیصلے کے بعد ان مقدمات میں تیزی آنے والی ہے۔ حکومت سندھ بادشاہت کا اعلان کر رہی ہے اور اس طرح کے قوانین سندھ کو خودمختار ملک بنانے کی کوشش کی ہے۔

اس موقع پر فنکشنل لیگ کی نصرت سحر عباسی نے کہا کہ سندھ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اس بل کے ذریعے لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو اچھا بنارہی ہے، تو یہ ان کی بھول ہے، سندھ کے عوام ان کی اصلیت پہنچان چکے ہیں۔ فکنشنل لیگ کی رکن اسمبلی نے کہا کہ نیب کے خلاف قرارداد پیش کرنے والے پر خود نیب میں ریفرنس چل رہا ہے۔مسلم لیگ (فنکشنل)کے شہریار مہر نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے اسمبلی کو اپنے مفاد میں استعمال کیا ہے۔ ہم سندھ ہائیکورٹ میں انصاف کیلئے آئے ہیں۔