بائیوسیفٹی اور بائیوسیکیورٹی کے پروٹوکولز کی خلاف ورزی سے درپیش سنگین نتائج کو ..
تازہ ترین : 1

بائیوسیفٹی اور بائیوسیکیورٹی کے پروٹوکولز کی خلاف ورزی سے درپیش سنگین نتائج کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرسکتے،ڈاکٹر اجمل خان

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 اگست2017ء)جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان نے کہا کہ ہمارے معاشرے کو درپیش تمام مسائل کی جڑ عدم برداشت ہے،پوری دنیا عدم برداشت کے مسائل سے دوچار ہے جس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہورہے ہیں۔برصغیر پاک وہند کے افراد کبھی بھی عدم برداشت کے حامل نہیں رہے بلکہ پوری دنیا کے سب زیادہ برداشت رکھنے والے معاشروں میں سے تھے جس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے کبھی دیگر ممالک پر چڑھائی نہیں کی بلکہ دیگر ممالک نے ان کو اپنا محکوم بنائے رکھا ۔

ہمیں اپنے معاشرے کو اس عدم برداشت کے مسئلے سے نکالنے کے لئے متحدہ جدوجہد کرنی ہوگی ۔دنیا کی چند طاقتور قوتوں نے ہمیں عدم برداشت والے معاشرے میں تبدیل کردیا جو ہماری ترقی نہیں چاہتی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈجینیٹک انجینئرنگ کے زیر اہتمام منعقدہ تین روزہ ورکشاپ بعنوان: ’’بائیوسیفٹی اینڈ بائیوسیکیورٹی ‘‘ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ ہم بائیوسیفٹی اور بائیوسیکیورٹی کے پروٹوکولز کی خلاف ورزی سے درپیش سنگین نتائج کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرسکتے ،جس کے لئے ضروری ہے کہ تمام سائنسدان اور ماہرین اس کے سدباب کے لئے ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیں۔پاکستان میں بائیوسیفٹی پروٹوکولز کی خلاف ورزیاں معمول بنتی جارہی ہیں جس کی بڑی وجہ غیر معیاری لیبز کا قیام ، بلڈ بینکس میں کلینکل فضلے کی غیر محتاط ہینڈلنگ اور دیگر شامل ہیں۔

ان مسائل سے لیبز میں کام کرنے والے ریسرچرزاور سائنسدانوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔شیخ الجامعہ نے پروفیسر ڈاکٹر عابد اظہر کو مذکورہ ورکشاپ کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور ان کی سحر انگیز قیادت کو سراہا۔جامعہ کراچی کے ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈجینیٹک انجینئرنگ کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر عابد اظہر نے کہا کہ عصر حاضر میں ہمیں سائنسی ترقی کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے جس سے لائف سائنسز کے مختلف شعبوں میں بڑی مثبت پیش رفت وقوع پذیر ہورہی ہیں۔

ان نئی دریافتوں سے نہ صرف انسانی زندگی کا معیار بہتر ہورہاہے بلکہ ان دریافتوں سے بھرپور معاشی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔دور حاضر میں جہاں دنیا ایک گلوبل ویلج کا منظر پیش کررہی ہے ،انفیکشنز کو جغرافیائی سرحدوں میں محدود رکھنا ناممکن ہوگیاہے،لہذا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے بائیوسیفٹی اور بائیوسیکیورٹی کے اقدامات کو یقینی بنائیں ،کیونکہ اگر مضر پیتھوجن ہمارے ماحول میں پھیل گئے تو یہ ایک بہت بڑا عوامی صحت کا مسئلہ بن سکتے ہیں۔

امریکہ میں 2001 ء میں انتھراکس ٹینٹڈخطوط سے چھ افراد ہلاک ہوئے اور اس کا اثر لاکھوں افراد پر ہوا، علاوہ ازیں کئی مشکوک خطوط اور پیکجز جن میں وائٹ پائوڈر موجود تھا نے ایشیاء میں ایمرجنسی الرٹ کی کیفیت پیداکردی تھی مگر خوش قسمتی سے اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا ۔اس سے ہمیں یہ پتہ چلا کہ کس طرح چھوٹے سے چھوٹے مائیکروب ہماری زندگیوں پر کئی سالوں بعد میں اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ورکشاپ کے اختتام پر تمام شرکاء میں سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے گئے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 07/08/2017 - 18:25:53

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :