انسانی زندگی انتہائی قیمتی ہے انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوند کاری انسانیت کیخلاف ..
تازہ ترین : 1

انسانی زندگی انتہائی قیمتی ہے انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوند کاری انسانیت کیخلاف گھناونا فعل اور قابل تعزیر جرم ہے

ڈپٹی کمشنر لیاقت علی چٹھہ کا آگاہی سیمنارسے خطاب

سرگودھا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 جولائی2017ء)ڈپٹی کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے کہا ہے کہ انسانی زندگی انتہائی قیمتی ہے انسانی اعضاء کی خرید و فروخت اور غیر قانونی پیوند کاری انسانیت کے خلاف گھناونا فعل اور قابل تعزیر جرم ہے، حکومت پنجاب کے منظور کردہ قانونPHOTA-2010کے تحت اس جرم کی سزا دس سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہے ۔ وہ بروز پیر کوٹمومن میں گردوں کی غیر قانونی خریدو فروخت کے بارے آگاہی پیدا کرنے کیلئے منعقدہ سیمنارسے خطاب کررہے تھے،سیمنار میں ممبر صوبائی اسمبلی مناظر علی رانجھا ، صدر مسلم لیگ )ن( چوہدری شاہنواز رانجھا ، چیئر مین ضلع کونسل سردار عاصم شیر میکن، چیف ایگزیکٹو ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر نصرت ریاض ،پرنسپل سرگودہا میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر حمیرااکرام، کواڈینیٹرڈاکٹر رانا محمد عبداللہ ، عرفان بٹ ، ندیم خان ،حاجی عبدالر حمن ، اسسٹنٹ کمشنر کوٹمومن ڈاکٹر عفت النساء اور ڈی ایس پی عزیزاللہ خان کے علاوہ بلدیاتی نمائندوں ویجیلنس کمیٹی کے ممبران میڈیا نما ئند گا ن اور عام شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ خادم پنجاب نے انسانی اعضا کی غیر قانونی منتقلی کے قبیح فعل کو جڑ سے اکھاڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جہاں سادہ لوح اور غریب افراد ومعمولی پیسوں کا لالچ دے کر گردے نکال لئے جاتے ہیں۔ حکومت نے ایسے دھندے میں ملوث ایجنٹوں کی صحیح نشاندہی کرنے والوں کیلئے دس لاکھ روپے کا بھی اعلان کیا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اگرکسی نے گردہ دینا ہے تو قانون موجود ہے ۔

عزیز و اقارب میں ماں باپ ،بہن بھائی اور قریبی عزیز کے علا وہ کسی کو گردہ نہیں دیا جا سکتا ۔ ڈی سی نے کہا کہ گردہ دینے والے کو اتنے پیسے نہیں ملتے جتنے وہ ساری زندگی اپنی ادویات پر خرچ کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صرف غریبوں کی بات نہیں کرتی بلکہ عملی اقدام اٹھا رہی ہے اور غریب افراد کو گردہ مافیا سے بچانے کیلئے میدان عمل میں آچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے لاہور اور راولپنڈی میں کامیاب گرینڈ آپریشن کے زریعے گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کے سنٹر پکڑے ہیں۔ اب ہم سب کی زمہ داری ہے کہ ہم ایسے ہسپتالوں ،سنٹر زیا ایجنٹ مافیا کی نشاندہی کریں جو اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں تاکہ انہیں کیفر قرار تک پہنچایاجا سکے۔ انہوں نے انسانی عضاء کی پیوند کاری کے بارے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کیلئے یونین کونسل کو سطح پر بینرز ،پینا فلکس لگانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔

سیمنیار سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے مناظر علی رانجھا نے کہا کہ ہمیں گردوں کے بڑھتے ہوئے امراض کے اسباب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ جب کوئی گردہ خریدنے والا نہیں ہو گا تو بیچنے والے کہاں سے آئیں گے۔ انہوں نے غریب افراد کی مالی اعانت کیلئے ضلع کی سطح پر فنڈزقائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے اپنی طرف سے پانچ لاکھ روپے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی عضا کی خرید و فروخت کے بارے عوام ا لناس میں شعور اجاگر کرنے کیلئے ہمیں ذات پات سے ہٹ کر ملکر کام کرنا ہو گا۔

سردار عاصم شیر میکن نے کہا کہ وزیر اعلی نے جو اقدام اٹھا یا ہے اس کے مثبت نتائج اور اچھے اثرات آنے والوں دنوں میں ظاہر ہونگے۔پرنسپل سرگودہا میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر حمیرا اکرام نے گردہ دینے والے شخص کیلئے بعد میں پیدا ہونے والے مسائل کے بارے میںتفصیل سے بتایا ۔ چیف ایگزیکٹو ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر نصرت ریاض نے کہا کہ غریب لوگوں کا استحصال ہو رہا ہے۔

آج کی کاوش ایک ایک گھر اور محلے میں پھیلے گی۔ڈائریکٹر لیگل پنجاب ہویمن آرگنائزر اتھارٹی محمد عمران نے کہا کہ انسانی عضا اپنے قریبی رشتہ دار کے علاوہ کسی اور شخص کو فروخت کرنا قانون کے زمرے میں آتا ہے۔ پیوند کاری قانون مو جو د ہے۔ محکمہ صحت کے پاس رجسٹر ہسپتال اور ڈاکٹر ز موجود ہیں اور ان کے علاوہ کسی اور جگہ سے پیوند کاری کروانا قانونا جرم ہے ۔

ڈی ایس پی کوٹمومن عزیزاللہ نے کہا کہ یہ لوگ بطور ایجنٹ کام کرتے ہیں۔ آپ لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کہ انہوں نے آپ کا گردہ کتنے میں فروخت کیا۔ انہوں نے بتایاکہ کوٹمومن میں اس ضمن میں دو ایف آئیا آر درج کروائی گئی ہیں لیکن کوئی مدعی بننے کو تیار نہیں۔ کوئی گواہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اب تک تین سو لوگوں نے گردے فروخت کئے ہیں۔پولیس عوام کے تعاون کے بغیر کچھ نہیں کر سکتی آپ لوگوں کو آگے آنا ہو گا۔ سیمنار سے ڈاکٹر رانا عبداللہ اور چوہدری شااہنواز رانجھا نے بھی خطاب کیا۔
وقت اشاعت : 17/07/2017 - 19:27:19

اپنی رائے کا اظہار کریں