سکھر بیراج کی نہروں کے پشتوں پر آباد افراد کو انسانی ہمدردی کے طور پر متبادل سرکاری ..
تازہ ترین : 1
سکھر بیراج کی نہروں کے پشتوں پر آباد افراد کو انسانی ہمدردی کے طور ..

سکھر بیراج کی نہروں کے پشتوں پر آباد افراد کو انسانی ہمدردی کے طور پر متبادل سرکاری اراضی مالکانہ حقوق کے ساتھ روہڑی،

فراش اور باگڑجی میں فراہم کی جائے گی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ کا اجلاس سے خطاب

سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 جولائی2017ء) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ سکھر بیراج کی نہروں کے پشتوں پر آباد افراد کو انسانی ہمدردی کے طور پر متبادل سرکاری اراضی مالکانہ حقوق کے ساتھ روہڑی، فراش اور باگڑجی میں فراہم کی جائے گی ۔ وہ گزشتہ روز کمشنر ہائوس میں سکھر بیراج سے متصل نہروں کے پشتوں پر آباد افراد کے نمائندہ وفد کے ساتھ منعقدہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔

اجلاس میں رکن قومی اسمبلی نعمان اسلام شیخ، ڈپٹی کمشنر رحیم بخش میتلوسمیت محکمہ آبپاشی کے افسران نے شرکت کی ۔ سید خورشید احمد شاہ نے کمشنر سکھر کو ہدایت کی کہ نہروں کے پشتوں پر آباد گھروں کا سروے اور نشاندہی کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے اور بنا تفریق تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے ، انسپکشن پاتھ فوری خالی کرایا جائے تاکہ نہروں کے پشتوں کو اونچا اور محفوظ بنانے کا کام شروع کیا جائے ۔

انہوں نے بتایا کہ نہروں کے پشتوں پر آباد افراد کو معاوضہ دلانے کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کی جائے گی ۔ سید خورشید احمد شاہ نے کمشنر سکھر کو مزید ہدایت دی کہ آئندہ حفاظتی بندوں پر قبضے ، تجاوزات کرنے والے آبپاشی افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے ۔ رکن قومی اسمبلی نعمان اسلام شیخ نے کہا کہ بندوں پر آباد افراد سے مرحلہ وار خالی کرایا جائے انہوں نے نمائندہ وفد سے اپیل کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر حفاظتی بند خالی کردیں جن کو متبادل سرکاری زمین فراہم کی جائے گی ۔

اجلاس میں ایگزیکٹو انجینئر سکھر بیراج نے بتایا کہ سکھر بیراج تا آرائیں تک 23 آرڈی ہیں جسکا فاصلہ 24 کلو میٹر بنتا ہے جس کے تینوں پشتوں پر ہزاروں افراد آباد ہیں ،تجاوزات کے خلاف اعلیٰ عدلیہ کے حکم پر آپریشن کیا جارہا ہے اس سے قبل کمشنر سکھر محمد عباس بلوچ نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نہروں پر آباد افراد سے انسپکشن پاتھ خالی کرایا جائے گا تاکہ ممکنہ سیلاب کی ہنگامی صورتحال میں مشنری اور دیگر سامان پہنچانے میں مدد مل سکے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/07/2017 - 19:25:18

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں