پانامہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کو کرنے دیا جائے، عدالت کے باہر عدالتیں لگنے سے ..
تازہ ترین : 1
پانامہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کو کرنے دیا جائے، عدالت کے باہر عدالتیں ..

پانامہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کو کرنے دیا جائے، عدالت کے باہر عدالتیں لگنے سے سیاستدان اپنا منہ خود کالا کر رہے ہیں ،ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال کر سیاست کو گالی بنا دیا گیا ،پانامہ میں کیا صرف سیاست دانوں کے نام تھی جج ،بیوروکریٹس اور کاروباری شخصیات کا نام کوئی کیوں نہیں لیتا احتساب کے نام پر انتقامی کارروائی قبول نہیں ،سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا حصہ نہیں بن سکتے

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماسینیٹرشاہی سید کی پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 جولائی2017ء)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماسینیٹرشاہی سید نے کہا کہ پانامہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کو کرنے دیا جائے، عدالت کے باہر عدالتیں لگنے سے سیاست دان اپنا منہ خود کالا کر رہے ہیں ،ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال کے سیاست کو گالی بنا دیا گیا ،پانامہ میں کیا صرف سیاست دانوں کے نام تھی جج ،بیوروکریٹ اور بزنس مینوں کا نام کوئی کیوں نہیں لیتا احتساب کے نام پر انتقامی کاروائی قبول نہیں ،سیاسی پوائنٹ سکورننگ کا حصہ نہیں بن سکتے۔

پیر کو پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو میں سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ زیر سماعت ہے ،زیر سماعت مقدمے پر استعفی مانگنا سمجھ سے بالاتر ہے ،اے این پی نے ہمیشہ اصولی موقف اپنایا ہے کسی سیاسی پوائنٹ سکورننگ کا حصہ نہیں بن سکتے ،سیاست دانوں نے اپنی داڑھی پہلے ہی کسی دوسرے کے ہاتھ میں دے دی یہی وجہ ہے کہ پوری قوم سیاست دانوں کا تماشا دیکھ رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ اے این پی بلاتفریق احتساب کی حامی ہے ،مگر احتساب کے نام پر انتقام قبول نہیں ،انہوں نے کہا کہ پانامہ انکشافات میں صرف سیاست دانوں کے نام نہیں تھے بلکہ سینکڑوں دیگر لوگ بھی شامل تھے جن میں ججز ،بیوروکرٹیس اور بزنس مینیوں کے نام ہیں مگر سیاست دانوں کی مہربانی سے آج پوری قوم میں سیاست گالی بن چکی ہے عدالتوں کے باہر عدالتیں نہ لگائیں بلکہ عدالتوں کا آزادانہ کام کرنے دیں ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل ہونا چاہیے ہم آئین پاکستان کے ساتھ ہیں کسی کی ذاتی خواہش پوری نہیں کر سکتے ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سینٹ اجلاس میں وزیر اعظم کے استعفے کی قرار داد لائی جاتی ہے تو اے این پی اس کا حصہ نہیں بنے گی ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/07/2017 - 19:25:13

اپنی رائے کا اظہار کریں