سیاسی جماعتیں سپریم کورٹ کے خلاف کوئی قدم برداشت نہیں کریں گی،چودھری شجاعت
تازہ ترین : 1
سیاسی جماعتیں سپریم کورٹ کے خلاف کوئی قدم برداشت نہیں کریں گی،چودھری ..

سیاسی جماعتیں سپریم کورٹ کے خلاف کوئی قدم برداشت نہیں کریں گی،چودھری شجاعت

سپریم کورٹ کا فیصلہ پاکستان کو نئی راہ دے گا، پارلیمنٹ نے اپنا کام نہیں کیا جو سپریم کورٹ کو کرنا پڑ رہا ہے ،نوازشریف کو اب تک استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا۔فاضل عدالت کے باہر گفتگو

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17جولائی2017ء): مسلم لیگ(ق) کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ پوری قوم اور سیاسی جماعتیں سپریم کورٹ کے خلاف یا اس کی توہین و تذلیل کیلئے اٹھایا جانے والا کوئی قدم برداشت کریں گی۔ وہ طارق بشیر چیمہ ایم این اے، محمد بشارت راجہ اور ڈاکٹر عظیم الدین لکھوی کے ہمراہ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آج میں پہلی بار پانامہ کیس کی سماعت پر سپریم کورٹ کی حمایت میں یہاں آیا ہوں، فاضل عدالت کا فیصلہ ایسا ہو گا جو پاکستان کو نئی راہ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ جے آئی ٹی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ سپریم کورٹ کو جے آئی ٹی بنانے کیلئے 600 افراد کی لسٹ موصول ہوئی تھی جن میں سے صرف 6اہل افراد کو منتخب کیا گیا، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ 6افراد کتنے مخلص ہیں۔

چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اب سپریم کورٹ پاکستان کی تقدیر کے اس تاریخی کیس کا جو بھی فیصلہ کرے قبول کریں گے کیونکہ جج صاحبان نے کہا تھا کہ تاریخی فیصلہ دیں گے، پانامہ کیس کا فیصلہ اب سپریم کورٹ تک محدود نہیں بلکہ اب یہ اوپر تک جائے گا۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ جو کام پارلیمنٹ کو کرنا تھا مگر نہیں کیا وہی کام اب سپریم کورٹ کو کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر محب وطن کو ہم ساتھ لے کر چلیں گے اور وزیراعظم کو اب تک استعفیٰ دے د ینا چاہئے تھا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/07/2017 - 14:40:25

اپنی رائے کا اظہار کریں