پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے 2ججزنے نوازشریف کونااہل قراردیا، اب باقی 3بھی نااہل ..
تازہ ترین : 1
پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے 2ججزنے نوازشریف کونااہل قراردیا، اب باقی ..

پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے 2ججزنے نوازشریف کونااہل قراردیا، اب باقی 3بھی نااہل قرار دینگے ، افتخار چوہدری

اگرمیں ہو تا توپہلے ہی 22ججزکے ساتھ ہوتا،پانامہ جے آئی ٹی ،جے آئی ٹیزسے مختلف ہے کیوں کہ یہ سپریم کورٹ نے خودبنائی ہے ،آف شور کمپنیزرکھنے والے دیگرافرادکے ساتھ بھی وہی سلوک ہوناچاہئے جونوازشریف کے ساتھ ہورہاہے، سابق چیف جسٹس نوازشریف کے ساتھ ہورہاہے ،پاکستان کی لوٹی دولت پاکستان واپس آنی چاہئے،عمران خان سے میری لڑائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وہ مجھ پرلگائے گئے الزامات واپس نہیں لیتے،انٹرویو

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 جولائی2017ء)سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ افتخارچوہدری نے کہاہے کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے 2ججزنے نوازشریف کونااہل قراردیا،اب باقی 3ججزبھی نااہل قراردیں گے ،اگرمیں ہو تا توپہلے ہی 22ججزکے ساتھ ہوتا،پانامہ جے آئی ٹی ،جے آئی ٹیزسے مختلف ہے کیوں کہ یہ سپریم کورٹ نے خودبنائی ہے ،آف شور کمپنیزرکھنے والے دیگرافرادکے ساتھ بھی وہی سلوک ہوناچاہئے جونوازشریف کے ساتھ ہورہاہے ،پاکستان کی لوٹی دولت پاکستان واپس آنی چاہئے ۔

اتوارکے روزنجی ٹی وی کودیئے گئے انٹرویومیں انہوںنے کہاکہ عدالتوں میں فیصلے آئین اورقانون کے مطابق ہوتے ہیں ،سپریم کورٹ کے 2ججزنے وزیراعظم اوران کے خاندان کوصادق اورامین نہیں کہااورنااہل قراردیا،میں اگراس بنچ میں شامل ہوتاتوسپریم کورٹ کے ان دوججزکے ساتھ شامل ہوتا،افتخارچوہدری نے کہاکہ سپریم کورٹ کے 3ججزنے معاملے کی مزیدتفتیش کیلئے جے آئی ٹی بنائی تھی ،شریف خاندان نے جے آئی ٹی میں اپنی بے گناہی ثابت نہیں کی ،پانامہ جے آئی ٹی حیثیت دوسری جے آئی ٹی سے مختلف ہے ،کیوں کہ یہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے خودبنائی ہے ۔

میرے خیال میں سپریم کورٹ کیس کومزیدلمبانہیں کریگی ،اورشریف برادران کونااہل قراردے گی ۔انہوںنے کہاکہ قانون موجودہے آئی ایس آئی کوجے آئی ٹی میں شامل کرنااچھنبے کی بات نہیں ،حکومت کاپانامہ کیس کے ساتھ تعلق نہیں ہے ،پانامہ کیس نوازشریف اوران کے خاندان کے خلاف ہے ،جے آئی ٹی کے کام کرنے کامعیارسپریم کورٹ ہے ،جے آئی ٹی کے متنازعہ بنانے سے شریف خاندان کوکچھ حاصل نہیں ہوگا،کیس کولمباکرنے کے حیلے بہانے بنائے جارہے ہیں ۔

انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ کے تمام ججزبرابرہوتے ہیں ،ارسلان افتخارچوہدری کیس میں جے آئی ٹی میں شامل نہیں تھا،سپریم کورٹ کاآزادبنچ تھاجس نے کیس کی سماعت کی ۔انہوںنے کہاکہ آئین کاآرٹیکل62,63سپریم کورٹ کے جج پرلاگونہیں ہوتا،62,63پارلیمنٹ کے ارکان اسمبلی کے لئے ،بہت سے ممبران اسمبلی آئین کے آرٹیکل62,63پرپوراترتے ہیں سابق چیف جسٹس نے کہاکہ جے آئی ٹی نے نوازشریف کے خلاف اپنے ثبوت دیئے ہیں کہ نوازشریف 62,63پرپورانہیں اترتے نوازشریف نااہلی سے نہیں بچ سکیں گے ،عمران خان کے خلاف نااہلی کاکیس چل رہاہے ۔

عمران خان سے میری لڑائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وہ مجھ پرلگائے گئے الزامات واپس نہیں لیتے یامجھے میرے 20ارب ہرجانے کی ڈگری نہیں مل جاتی ،عمران خان نے مجھ پرنہایت سنگین الزامات لگائے جن کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔انہوںنے کہاکہ مجھے نکالنے میں کوئی ادارہ شامل نہیں تھا،ایک انفرادی شخص نے مجھے نکالا،آج کے دورمیں عدلیہ آزادہے ۔

پرویزمشرف اتنادلیرنہیں تھاجتناوہ کہتاہے ،پرویزمشرف کی تمام جائیدادضبط ہے ۔ان کے بلائے جانے کے وارنٹ جاری ہوچکے ہیں ،عمران خان خان کوگرفتارنہ کرناموجودہ حکومت کی ناکامی ہے ،قانون سب کیلئے برابرہے ،اگرمشرف کاٹرائل ہوسکتاہے ،نوازشریف کاٹرائل ہوسکتاہے ،ذوالفقارعلی بھٹوکوعدالتی پھانسی کی سزاسنائی جاسکتی ہے توعمران خان اورطاہرالقادری کوسزاکیوں نہیں ہوسکتی اورانہیں گرفتارکیوں نہیں کیاجاسکتا۔

انہوںنے کہاکہ اصغرخان کیس اس لئے آگے نہیں بڑھ رہاکہ نوازشریف کرسی پربیٹھے ہوئے ہیں ۔میری بحالی میں نوازشریف اورعمران خان کاکوئی کردارنہیں تھا،میرے بحالی میں وکلاء ،سول سوسائٹی اورمیڈیاکے علاوہ دیگرلوگوںنے حصہ لیا۔کریڈٹ ان کوجاتاہے ۔انہوںنے کہاکہ سانحہ12مئی کیس ایم کیوایم کے دباؤکی وجہ سے تاخیرکاشکاررہا۔کیس کافیصلہ ضرورآئے گا،خداکے ہاں دیرہے اندھیرنہیں ۔

انہوںنے کہاکہ اشتہارات پربے پناہ پیسہ خرچ کیاجارہاہے آف شورکمپنیاں رکھنے والوں کے ساتھ وہی سلوک ہوناچاہئے جونوازشریف کے خلاف ہورہاہے ۔نوازشریف کاکیس ماڈل سیٹ ہورہاہے ۔ان تمام لوگوں کی دولت پاکستان واپس آنی چاہئے ،پاکستان میں اس وقت پلوترکریسی ہے ،نوازشریف دولت کے بل بوتے پرحکومت میں آتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ یہ تاثرغلط ہے کہ ججزاورجرنیلوں کااحتساب نہیں ہورہاہے ،ماضی میں ججزکے خلاف کارروائی میں راحیل شریف دورمیں پاک فوج کے اٹھارہ افسران کے خلاف کارروائی ہوئی ۔ملک میں اب مارشل لاء کاامکان نہیں ،سستم ڈی ریل نہیں ہوگا،سیاستدان آئین وقانون کے سامنے سرجھکائیں اورجمہوری سسٹم کوچلنے دیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 16/07/2017 - 23:50:07

اپنی رائے کا اظہار کریں