ْراول ڈیم سے آلودہ اور زہریلہ پانی سپلائی کرنے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے، ..
تازہ ترین : 1

ْراول ڈیم سے آلودہ اور زہریلہ پانی سپلائی کرنے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے، اجمل بلوچ

آلودگی کے خاتمہ کیلئے سپریم کورٹ کے احکامات نظر انداز کئے گئے ہیں، خالد چوہدری

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 جولائی2017ء) مرکزی انجمن تاجران پاکستان اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ انور نے کہا ہے کہ راول ڈیم سے راولپنڈی کے شہریوں کو آلودہ اور زہریلہ پانی سپلائی کیا جاتاہے جس کا سب سے زیادہ ذمہ دار ادارہ انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی ، سی ڈی اے ، واپڈا اور واسا ہے کچھ عرسہ قبل سپریم کورٹ نے راول ڈیم کی آلودگی کے خاتمہ کے لئے احکامات جاری کئے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ملحقہ آبادیوں کے سیوریج پر ٹرٹمنٹ پلانٹ لگائے جائیں جس میں بھارہ کہو، بنی گالا شامل ہیں۔

وہ بروز اتوار سیکرٹری خالد چوہدری کے ہمراہ اپنے مشترکہ بیان میں کہہ رہے تھے کہ ان احکامات کو نظر انداز کردیا گیا اور آئی پی اے نے بھی آنکھیں بند کرلیں ، آئی پی اے کی سربراہ کو شاپرز کے استعمال پر نوٹس جاری کرنے کی جلدی ہے لیکن راول ڈیم کی آلودگی نظر نہیں آتی ۔ پولی کلینک کی توسیع پر عملدرآمد روک دیا لیکن اسے راول ڈیم کا زہریلہ پانی نظر نہیں آتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ رراول لیک پر ایک پبلک پارک تعمیر کردیا گیا جہاں روزانہ لاکھوں افراد وزٹ کرتے ہیں جس کا فضلہ اور سیوریج بغیر کسی ٹرٹمنٹ کے راول ڈیم میں جاتا ہے۔ مچھلیاں تو ہزاروں کی تعداد میں مرگئی ہیں لیکن انسانوں کو ایسی پانی کی سپلائی نظر نہیں آئی جبکہ واٹر سپلائی کی کوئی ٹرٹمنٹ بھی نہیں ہوتی انھوں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ، چیئرمین سی ڈی اے عنصر عزیز شیخ ، چیئرمین واپڈا اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر راول ڈیم سے زہریلہ اور آلودہ پانی شہریوں کو سپلائی کرنے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے کی جوڈیشل انکوائری کرائیں اور راول ڈیم میں داخل ہونے والے فضلہ اور سیوریج کی ٹرٹمنٹ کے لئے پلانٹ لگانے اور تاوقتیکہ پانی کی سپلائی روکنے کے احکامات جاری کئے جائیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تو صرف آبی حیات خطرے میں ہے لیکن یہی حالات رہے تو انسانی جانوں کو بھی خطرہ ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 16/07/2017 - 20:30:37

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں