عمران خان کی سیاست پانی میں بلبلے جیسی ہے اور وہ حکومت کے سب سے بڑے حمایتی ہیں ،جے ..
تازہ ترین : 1
عمران خان کی سیاست پانی میں بلبلے جیسی ہے اور وہ حکومت کے سب سے بڑے حمایتی ..

عمران خان کی سیاست پانی میں بلبلے جیسی ہے اور وہ حکومت کے سب سے بڑے حمایتی ہیں ،جے آئی ٹی ابھی تک شفاف طریقے سے کام کر رہی ہے ، میاں صاحب کو معلوم ہے کہ ان کے پاس کوئی دستاویزات نہیں ہیں ، وزیراعظم کو اب اس بات پر ہی استعفیٰ دے دینا چاہیے کہ ان کے ماتحت ادارے ان کی تحقیقات کر رہے ہیں اس لئے ان کی کوئی عزت نہیں رہی، نوازشریف سے گزارش ہے کہ نیا وزیراعظم نامزد کریں ، پاکستان نے بہترین کھیل کے ذریعے مضبوط ٹیموں کو شکست دی ، پاکستان کرکٹ ٹیم نے دنیا بھر میں قوم کا سر فخر سے بلند کیا

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا نجی ٹی وی کو انٹرویو

سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2017ء)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے بہترین کھیل کے ذریعے مضبوط ٹیموں کو شکست دی ، پاکستان کرکٹ ٹیم نے دنیا بھر میں قوم کا سر فخر سے بلند کیا ، ہماری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ اپوزیشن متحد رہے ، عمران خان حکومت کے سب سے بڑے حمایتی ہیں ۔ پیر کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان کے بیانات متحدہ اپوزیشن کو نقصان پہنچاتے رہے ہیں ، عمران خان خود بھی کٹہرے میں کھڑا ہے ، اس پر بھی قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سیاستدان بننے کیلئے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے ، پیپلزپارٹی کے اوپر پہلے بھی ایسا وقت آیا ہے کہ پنجاب میں لوگ چھوڑ کر چلئے گئے ، عمران خان کی سیاست پانی میں بلبلے جیسی ہے ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان کی سیاست کی حالت خیبرپختونخوا جیسی ہے ، بجٹ اجالس کا بائیکاٹ اصولی فیصلہ تھا، فیصلہ ہوا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقریر براہ راست نشت کی جائے گی ، حکومت نے کوشش کی کہ اپوزیشن بجٹ اجلاس میں موقف نہ دے ، ہم نے بجٹ اجلاس میں حکومت کی بڑھکیں بے نقاب کرنے کی کوشش کی ، ہم کو بجٹ اجلاس میں کئی قراردادیں پیش کرنی تھیں ۔

خورشید شاہ نے کہا کہ نوازشریف وزیراعظم ہیں لیکن ایسے لگتا ہے اپوزیشن لیڈر بات کر رہا ہو، ویزراعظم نے لکھی ہوئی تقریر پڑھی وپ اپنے ذہن سے سچائی بیان نہیں کرتے ، جے آئی ٹی ابھی تک شفاف طریقے سے کام کر رہی ہے ، میاں صاحب کو معلوم ہے کہ ان کے پاس کوئی دستاویزات نہیں ہیں ، وزیراعظم کو اب اس بات پر ہی استعفیٰ دے دینا چاہیے کہ ان کے ماتحت ادارے ان کی تحقیقات کر رہے ہیں اس لئے ان کی کوئی عزت نہیں رہی ، ذوالفقار علی بھٹو نے جب نیشلائزیشن کی پالیسی اپنائی تب نوازشریف کو کوئی نہیں جانتا تھا ، بھٹو صاحب کی نیشلائزیشن کی پالیسی کو یہ احتساب کہتے ہیں تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں ، بے نظیر بھٹو نے ان کو کونسا پھانسی پر چڑھایا۔

خورشید شاہ نے کہا کہ کوئی مقدس گائے نہیں ، پرویز مشرف سمیت سب کا احتساب ہونا چاہیے ، پرویز مشرف کو موجودہ حکومت نے کیوں چھوڑا اس کا احتساب کیوں نہ کیا گیا ، وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان ویسے تو شیر بنتے ہیں ، پرویز مشرف کے معاملے پر کیوں کمزور پڑ گئے ، 1990میں نوازشریف نے ہمیں جیلوں میں ڈالا ، بینظیر کو تکلیف دی، پرویز مشرف نے نوازشریف کا کیا احتساب کیا ، اب نوازشریف کا احتساب ہورہا ہے یا نہیں مگر وہ ہم نے شروع نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے بچوں نے اعتراف کیا ، ہم نے کوئی اسکینڈل نہیں بنایا ، حکومت گھبرائی ہے جانتی تھی کہ مشرف کا احتساب کرے گی تو پھنس جائے گی میں ہمیشہ آخری گیند کا انتظار کرتا ہوں کہ وکٹ گرتی ہے یا چھکا لگتا ہے ۔خورشید شاہ نے کہا کہ نوازشریف سے گزارش ہے کہ نیا وزیراعظم نامزد کریں ، ایسای غیر معمولی فیصلہ ہماری نسلوں پر وزیراعظم کا احتساب ہوگا ، میں ملک وقوم ، جمہوریت اور پارلیمانی نظام کی بہتری کا سوچتا ہوں ، ہم جمہوریت کی خاطر نوازشریف کے ساتھ کھڑے ہوئے ۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو اپنی مدت مکمل کرنی چاہیے ، پاکستان نے بہترین کھیل کے ذریعے مضبوط ٹیموں کو شکست دی ، پاکستان کرکٹ ٹیم نے دنیا بھر میں قوم کا سر فخر سے بلند کیا ، ہماری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ اپوزیشن متحد رہے ، عمران خان حکومت کے سب سے بڑے حمایتی ہیں ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 19/06/2017 - 23:04:41

اپنی رائے کا اظہار کریں