ایبٹ آباد کے 30 ہزار 5 سو 21 خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ کے ذریعے مفت علاج معالجہ کی سہولیات ..
تازہ ترین : 1

ایبٹ آباد کے 30 ہزار 5 سو 21 خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ کے ذریعے مفت علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، سائرہ افضل تارڑ

جودہ مالی سال میں پروگرام میں 26اضلاع کا اضافہ کیا گیا ہے جس سے مزید 18ملین خاندانوں کو فائدہ پہنچے گا، وزیر مملکت برائے ہیلتھ سروسز سوشل میڈیا پر کھوکھلے نعرے لگانے اور بلاجواز تنقید کرنے والوں سے کہتی ہوں کہ وہ سوشل میڈیا اور فیس بک سے نکل کر عوام کی طرف دھیان دیں اور عوام کی خدمت کریں ، نیشنل ہیلتھ پروگرام کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب

ایبٹ آباد کے 30 ہزار 5 سو 21 خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ کے ذریعے مفت علاج معالجہ ..
سلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2017ء)وزیر مملکت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ، ریگولیشنر اینڈ کوآرڈنیشن سائرہ افضل تارڑ نے ضلع ایبٹ آباد میں وزیر اعظم نیشنل ہیلتھ پروگرام کے اجراء کے موقع پر کہا ہے کہ ایبٹ آباد کے 30 ہزار 5 سو 21 خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ کے ذریعے مفت علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نیشنل ہیلتھ پروگرام پر مرحلہ وار عمل درآمد کیا جا رہا ہے ،پہلے مرحلے میں اس پروگرام پر 60 اضلاع پر عملدرآمد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا جس سے 3.1ملین خاندانوں کو طبی سہولیات کی مفت فراہم کی جا رہی ہیں،موجودہ مالی سال میں پروگرام میں 26اضلاع کا اضافہ کیا گیا ہے جس سے مزید 18ملین خاندانوں کو فائدہ پہنچے گا،انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نیشنل ہیلتھ سروسز پروگرام کے تحت اسلام آباد سمیت دیامیر،باجوڑ ایجنسی،خانیوال،نارووال،کوہاٹ،ٹھٹھہ،سجاول اور سرگودھا وغیرہ میں عوام کو علاج معالجہ کی مفت سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

انہوں نے مختلف شہروں کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب تک 21اضلاع اور شہروں میں کل 188296خاندانوں نے رجسٹریشن کروائی ہے جن میں سے 110,2.259خاندانوں کا پروگرام میں اندراج مکمل ہو گیا ہے۔ اس موقع پر وزیر قومی صحت سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کھوکھلے نعرے لگانے اور بلاجواز تنقید کرنے والوں سے کہتی ہوں کہ وہ سوشل میڈیا اور فیس بک سے نکل کر عوام کی طرف دھیان دیں اور عوام کی خدمت کریں جس طرح وز یر اعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن کی حکومت عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی قیادت میں ملک ترقی کی طرف گامزن ہے او ر معاشی طور پر مضبوط ہو چکا ہے۔ جبکہ یہ سازشی عناصر اپنے اوچھے ہتھکنڈوں میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ یہ سازشی عناصر جو ملک کی ترقی کا راستہ روک رہے ہیں ان کے ارادے ناکام ہوں گے، ہماری حکومت عملی کام اور کارکردگی پر یقین رکھتی ہے جو سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے وہ میاں نواز شریف سے بے حد پیار کرتے ہیں۔

آئیندہ الیکشن میں ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر انشااللہ خیبر پختونخواہ میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کریں گے۔ وزیر قومی صحت نے کہا کہ آج اللہ کے فضل و کرم سے ملک میں امن و امان اور معیشت کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ پاکستان کی تقدیر کو بدلنا ہے تو میاں نواز شریف کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے۔سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ وزیر اعظم نیشنل ہیلتھپروگرام عام بیماریوں کے داخلی علاج بشمول بچوں کی بیماریاں ، زچگی ، سرجیکل اور دیگر بیماریوں کو کور (Cover) کرے گا جن کی لاگت 50,000روپے فی خاندان سالانہ ہو گی۔

اس پروگرام کے تحت داخلی امراض کے علاج جن میں بائی پاس، انجیو پلاسٹی، جل جانے والے افراد، کینسر اور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انسولین شامل ہے ان افراد کیلئے 250,000روپے فی خاندان سالانہ خرچ کئے جائیں گے۔ ان جملہ بیماریوں کیلئے فنڈ وفاقی حکومت ادا کرے گی۔وزیر قومی صحت نے کہا کہ پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام کا بنیادی مقصد کم آمدنی والے عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے اور ان کو مزید غربت کے اندھیروں میں جانے سے بچانا ہے جس کی وجہ علاج معالجہ پر آنے والے اخراجات ہیں۔

انہوںنے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے منشور میں کئے گئے ایک اور وعدے کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے اور یہ یقینا غریب اور نادار مریضوں کے لیے ایک خوشی کا لمحہ ہے۔ اس کے تحت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے گھرانوں کو علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی جس سے وہ جان لیوا اور خطرناک بیماریوں کا علاج بغیر کسی معاوضے کے کرا سکیں گے۔ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے گھرانوں سے مراد ایسے گھرانے ہیںجن کی یومیہ آمدن دوسو پاکستانی روپے سے بھی کم ہے۔

ان حالات میں اگر کوئی بیمار پڑ جائے تو ان کو گھریلو اشیاء ، اپنی جمع پونجی یہاں تک کہ زمین اور جائیداد تک بیچنا پڑتی ہے۔لیکن اب اللہ کے فضل و کرم سے اب ملک میں ایسا نہیں ہو گا پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام کے تحت یہ اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہمارا عزم ہے کہ اس منصوبہ کے نفاذ میں کسی بھی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔

وزیر اعظم ہیلتھ پروگرام کو کامیاب بنانا ہمارا اولین مقصد ہے تاکہ عوام کو اس کے تمام ممکنہ فوائد پہنچ سکیں اور وہ ایک صحتمند زندگی گزار سکیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس پروگرام کی بھر پور انداز میں مانیٹرنگ کر رہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہر وہ سہولت جس کا اس پروگرام کے تحت وعدہ کیا گیاتھا beneficiary کو میسر ہو۔ اس پروگرام سے استفادہ حاصل کرنے والوں کی رائے معلوم کرنے کے لیے ایک نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے تاکہ ہمیں یہ پتا چل سکے کے وہ علاج معالجے کی سہولیات سے مطمئن ہیں یا نہیں۔

مجھے بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ beneficiaries کی feedack کے مطابق مریض علاج معالجے سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام کے تحت مستحق اور غریب عوام کو رقوم دیئے بغیر مفت معیاری علاج کو یقینی بنایا گیا ہے اور نادرا کے اشتراک سے اس پروگرام کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے اور ہیلتھ انشورنس سکیم سے استفادہ کرنیوالے 90فیصد سے زائدافراد اس پروگرام کو تسلی بخش قرار دے رہے ہیں،جبکہ عالمی ادارہ صحت،ایشیائی ترقیاتی بینک اور بین الاقوامی اداروں نے وزیر اعظم کے نیشنل ہیلتھ پروگرام کی تعریف کی ہے،انہوں نے کہا کہ اب تک 12لاکھ خاندانوں کا وزیر اعظم کے قومی صحت پروگرام میں اندراج ہوچکا ہے اور پینل پر موجودہسپتال آج تک تقریباً15ہزار افراد کا مفت علاج کرچکے ہیں۔

جن سے بہترین ہسپتالوں نے کوئی رقم لئے بغیر انہیں علاج معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کیں۔دیگر اضلاع میں کامیابی سے چلنے والے یہ پروگرام اب ایبٹ آباد میں شروع کیا جا رہا ہے ۔سائرہ افضل تارڑ نے کہاکہ موجودہ حکومت ملک کے دورداز علاقوں میں بلا امتیاز صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے گیاور اس مقصد کے لئے صحت کے بجٹ میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے سماجی خدمت کے شعبہ میں بہتری لانے کے حکومتی عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔

سائرہ افضل تارڑ نے مزید کہا ہمارا یقین ہے کہ صحت کی مساوی سہولیات کی فراہمی کیے بغیر کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ لہذا وزیر اعظم کے Vision کے تحت توانائی اور انفراسٹرکچر کے بڑے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ صحت عامہ اوتعلیم کے شعبوں میں بھی اہم اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ہم انشااللہ مل کر اس پروگرام کے ثمرات عوام تک پہنچائیں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 19/06/2017 - 18:36:40

اپنی رائے کا اظہار کریں