جنوبی کوریا بیجنگ سیئول تعلقات میں کانٹا نکالے ، چینی وزیر خارجہ
تازہ ترین : 1

جنوبی کوریا بیجنگ سیئول تعلقات میں کانٹا نکالے ، چینی وزیر خارجہ

جنوبی کوریا کے صدر کا چین کیساتھ اپنے ملک کے تعلقات کی اہمیت پر زور دینا قابل قدر ہے

عابد جان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2017ء) چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے گذشتہ روز یہاں کہا کہ جنوبی کوریا کے صدر مون جائی ۔ان نے چین کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات کی اہمیت پر زور دیا ہے اور انہوں نے سیئول پر زور دیا کہ بیجنگ کے ساتھ اپنے تعلقات سے’’ کانٹا‘‘ نکالنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار مغربی افریقی ملک کوٹ ڈی ،لووری کے دورے کے دوران ایک پریس ریلیز میں کیا ہے ،صدر منتخب ہونے کے فوری بعد مون نے قومی اسمبلی کے رکن اور سابق وزیر اعظم لی ہائی چانگ کو اپنے خصوصی ایلچی کے طورپر ماہ رواں کے اوائل میں چین کے دورے پر بھیجا ۔

وانگ نے کہا کہ سینئر اہلکار کا دورہ ان کے صدر کا چین پر زور اور دوطرفہ تعلقات بہتر بنانے کی ان کی آمادگی کا مظہر ہے، ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ جنوبی کوریا کی نئی حکومت نے ملک کی چین پالیسی نے نئی تبدیلیاں کی ہیں اور چین کے بارے میں اس کارویہ اس کے پیشروئوں سے مختلف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مون حکومت میں ان مسائل کا سامنا کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے جو چین اور جنوبی کوریا کے تعلقات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس کسی نے بھی شیر کے گلے میں گھنٹی باندھی ہے وہی اسے اتارے گا ۔انہوں نے کہا کہ چین چاہتا ہے کہ جنوبی کوریا دوطرفہ تعلقات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے ۔ انہوں نے مون حکومت کے اس موقف کو سراہا جس نے پابندیاں عائد کرنے پر زور دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ مذاکرات کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے اور جزیرہ کوریا کے مسئلے کو پرامن ذرائع سے حل کرنے پر ڈٹا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ موقف معقول اور قابل فہم ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے وکالت کی جانیوالی سمت کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ بات بھی نوٹ کی ہے کہ امریکہ نے حال ہی میں ٹیان یان کے مطمع نظر کے بارے میں اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نئی حکومت کے ابھرنے کے پیش نظر جزیرے کی صورتحال تا حال غیر مستحکم ہے ۔

انہوں نے ٹیان یانگ پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہوں ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین مستحکم رہیں گے اور اکادکا واقعات سے متاثر نہیں ہوں گے اور جزیرے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرارد ینے ، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کرنے اور مسئلے کو پر امن ذرائع کے ذریعے باہمی افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر ڈٹے رہیں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 23/05/2017 - 18:24:10

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :