نیب افسران کی جدید خطوط پر تربیت اولین ترجیح ہے ،افسران کا انتخاب میرٹ پر کیا گیا ..
تازہ ترین : 1
نیب افسران کی جدید خطوط پر تربیت اولین ترجیح ہے ،افسران کا انتخاب میرٹ ..

نیب افسران کی جدید خطوط پر تربیت اولین ترجیح ہے ،افسران کا انتخاب میرٹ پر کیا گیا ہے،سفارش پر بھرتی نہیں کی گئی،قمر زمان چوہدری

بد عنوانی کے ترقیاتی کے پروگراموں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں،نیب کو ہر قسم کی بد عنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے امید ہے بھرتی ہونیوالے افسران اپنے فرائض سے انصاف کریں گے ،یہی ہمارے فرائض کا طرہ امتیاز ہے اور رہیگا، چیئرمین نیب کا نیب افسران کی تربیت بارے پیشرفت سے متعلق جائزہ اجلاس سے خطاب

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2017ء)قومی احتساب بیورو (نیب) کے چئیرمین قمر زمان چوہدری نے کہاہے کہ نیب افسران کی جدید خطوط پر تربیت اولین ترجیح ہے ،افسران کا انتخاب میرٹ پر کیا گیا ہے،سفارش پر افسروں کی بھرتی نہیں کی گئی ،بد عنوانی کے ترقیاتی کے پروگراموں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں،نیب کو ہر قسم کی بد عنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے امید ہے بھرتی ہونیوالے افسران اپنے فرائض سے انصاف کریں گے ،یہی ہمارے فرائض کا طرہ امتیاز ہے اور رہیگا۔

جمعہ کو نیب میں بھرتی ہونے والے افسران کی پولیس ٹریننگ کالج سہالہ میں تربیت کے حوالے سے پیشرفت سے متعلق جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ شفافیت اور میرٹ یقینی بنانے کے لئے نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے بھرتی کا عمل مکمل کیا گیا ۔ این ٹی ایس میں تحریری اور سائیکالوجیکل ٹیسٹ لئے ۔ انہوںنے کہاکہ اشتہار کے جواب میں 94165 درخواستیں موصول ہوئیں ، 97پوسٹوں کے لئے 80ہزار 377امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ، اتنی بڑی تعداد سے موزوں امیدواروں کا انتخاب مشکل مرحلہ تھا۔

بھرتیوںکے پورے عمل میں کوئی سفارش نہیں کی گئی کیونکہ نیب کاپیغام ہے "بد عنوانی سے انکار "۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے کسی قسم کے دبائو کے بغیر یہ بھرتیاں کی ہیں ۔ انہوںنے امید ظاہر کی کہ میرٹ پر بھرتی ہونے والے تمام افسران اپنے فرائض سے انصاف کریں گے ،یہی ہمارے فرائض کا طرہ امتیاز ہے اور رہے گا۔انہوںنے کہاکہ نیب کو ہر قسم کی بد عنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے ۔

بد عنوانی کے ترقیاتی کے پروگراموں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ نیب افسران سخت قواعد وضوابط اور بد عنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل کرتے ہیں ۔ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک بد عنوانی کی روک تھام کے لئے قانون پر عملدرآمد کی پالیسی اختیار کی ہے ۔نیب بڑے پیمانے پر لوگوں کو دھوکہ دہی کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوںپر نمٹاتا ہے کیونکہ یہ نیب آرڈیننس کے تحت سنگین جرم ہے ۔

نیب نے لوگوں کی محنت سے کمائی گئی رقم اور بچتوں کو دھوکہ دہی سے لوٹنے کے مالیاتی سکینڈل پر کاروائی کی ہے ۔ لوٹی گئی رقم برآمد کی ہے اور حق داروں تک پہنچائی ہے ، ان میں سے ڈبل شاہ سکینڈل ، کوآپریٹو سوسائٹی سکینڈل ، جعلی ہائوسنگ اتھارٹی سکینڈل اور مضاربہ سکینڈل نمایاں مقدمات ہیں۔ نیب نے عوام کو بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی سے لوٹنے والے مقدمات میں نہ صرف لوٹی گئی رقم برآمد کی ہے بلکہ متعلقہ احتساب عدالتوں کی منظوری سے وہ رقوم اصل حقداروں کو واپس لوٹائی گئی ہیں ،انہوںنے کہاکہ نیب کے تمام شعبوں کی محنت اور جانفشانی کے باعث یہ نتائج آئے ہیں جس کا عالمی اداروں نے بھی اعتراف کیا ہے۔

برلن میں قائم کرپشن واچ ڈاگ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان کے سی پی آئی میں گزشتہ تین سال میں بہتری آئی ہے ۔2013میں پاکستان کا 113واں نمبر تھا جبکہ 2016 کی رپورٹ میں پاکستان کا 176ممالک میں سی116واں نمبر ہے ۔ انہوںنے کہاکہ مشکل کورس ہے اور اس کے لئے اعلیٰ معیار کے نظم و ضبط کی ضرورت ہے ۔مجھے امید ہے کہ آپ لوگ مطلوبہ معیار پر پورا اتریں گے۔کور س مکمل ہونے پر ہمیں آپ لوگوں سے سرکاری اداروں کے کردار ، آئین ، قانون اور نیب کے ایس او پیز کے متعلق اعلیٰ معیار کے نظم و ضبط اور معلومات کی توقع ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس ٹریننگ کی تکمیل کے بعد آپریشنل ذمہ داریوںکو پورا کرنے کے لئے آپ کو مطلوبہ پیشہ وارانہ علم اور مہارتیں حاصل ہو جائیں گی۔
وقت اشاعت : 19/05/2017 - 22:17:17

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں