پاکستان کوعالمی عدالت کےبنچ کی تشکیل پراعتراض اٹھاناچاہیےتھا،افتخارمحمدچودھری ..
تازہ ترین : 1
پاکستان کوعالمی عدالت کےبنچ کی تشکیل پراعتراض اٹھاناچاہیےتھا،افتخارمحمدچودھری

پاکستان کوعالمی عدالت کےبنچ کی تشکیل پراعتراض اٹھاناچاہیےتھا،افتخارمحمدچودھری

عالمی عدالت کوکلبھوشن کیس سننےکااختیارنہیں تھا،10رکنی بنچ میں بھارتی شہریت رکھنےوالاجج بھی شامل تھا،کلبھوشن نےدہشتگردی کی اورایسےکورٹ مارشل کیاگیا،جیسے پوری دنیامیں کیاجاتاہے۔سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کی میڈیاسے گفتگو

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔آئی پی اے۔19مئی2017ء): سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ افتخارمحمدچوہدری نے کہاہے کہ عالمی عدالت کوکلبھوشن کیس سننے کااختیارنہیں تھا،10رکنی بنچ میں بھارتی شہریت رکھنے والاجج بھی شامل تھا۔انہوں نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن راکاایجنٹ تھا۔ کلبھوشن نے پاکستان میں دہشتگردی کااعتراف کیا۔کلبھوشن نے دہشتگردی کی اور ایسے کورٹ مارشل کیاگیا،جیسے پوری دنیامیں کیاجاتاہے۔پاکستان کی جانب سے مقدمے کودرست اندازمیں نہیں لڑاگیا۔اگرعدالت کااختیارنہیں تھاتوعدالت کومقدمہ سنناہی نہیں چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ10رکنی بنچ میں بھارتی شہریت رکھنے والاجج بھی شامل تھا۔پاکستان کوبنچ کی تشکیل پراعتراض اٹھاناچاہیے تھا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 19/05/2017 - 20:06:34

قارئین کی رائے :

  • خرم شہزاد کی رائے : 19/05/2017 - 23:55:34

    کوئی صاحب کو بتائے کہ پاکستان کو بھی وہاں جج بھیجنے کا اختیار تھا اور پاکستان کو وہاں نا جانے اک اختیار بھی تھا اور پاکستانی وزیر اعظم کو اقوام متحدہ میں جاکر کلبھوشن کا معاملہ اٹھانے کا بھی اختیار تھا پاکستانی وزارت خارجہ (جو کہ ہے ہی نہیں) انکے ذریعہ سے بھی ہر اہم ملک میں کلبھوشن کا معاملہ اٹھائے جانے کا اختیار بھی پاکستان کو تھا لیکن یہاں صرف پاکستانی عوزم پر اختیار چلتا ہے

    اس رائے کا جواب دیں

اپنی رائے کا اظہار کریں