رواں سال ترقی کی شرح 5.3 فیصد رہی، مینوفیکچرنگ میں شرح نمو 5.3 فیصد رہی، ملک کی معیشت ..
تازہ ترین : 1
رواں سال ترقی کی شرح 5.3 فیصد رہی، مینوفیکچرنگ میں شرح نمو 5.3 فیصد رہی، ..

رواں سال ترقی کی شرح 5.3 فیصد رہی، مینوفیکچرنگ میں شرح نمو 5.3 فیصد رہی، ملک کی معیشت کا حجم 300 ارب تک بڑھا ،ْاحسن اقبال

آئندہ مالی سال کیلئے شرح نمو 6 فیصد مقرر کی گئی ہے، آئندہ مالی سال میں 8 سے 10ہزار میگاواٹ بجلی کے اضافہ کا امکان ہے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ساڑھے 12 ارب روپے کی لاگت سے منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، آئندہ بجٹ میں ساڑھے 12 ارب روپے کی لاگت سے پورے ملک میں انرجی فار آل کا منصوبہ شروع کیا جائیگا ،ْ سی پیک کے منصوبہ جات کیلئے 180 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، ریلویز کیلئے 43 ارب ،نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کیلئے 320 ارب رکھے گئے ہیں ،ْ فاٹا کا بجٹ 21 ارب سے بڑھا کر ساڑھے 24 ارب کر دیا گیا ہے جس سے کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا میں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا پاکستان کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر یونیورسٹیوں میں اولمپکس کے مقابلوں کا انعقاد کیا جائیگا ،ْ نوجوانوں کے مابین مختلف کھیلوں کے مقابلے کرائے جائینگے ،ْبلوچستان اور کشمیر میں ریڈیو پاکستان کے نظام کو اپ گریڈ کیا جائے گا ،ْوفاقی وزیر کی میڈیا کو بریفنگ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2017ء)وفاقی وزیر منصوبہ بندی ،ْترقی واصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ رواں سال ترقی کی شرح 5.3 فیصد رہی، مینوفیکچرنگ میں شرح نمو 5.3 فیصد رہی، ملک کی معیشت کا حجم 300 ارب تک بڑھا ہے، آئندہ مالی سال کیلئے شرح نمو 6 فیصد مقرر کی گئی ہے، آئندہ مالی سال میں 8 سے 10ہزار میگاواٹ بجلی کے اضافہ کا امکان ہے، صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ساڑھے 12 ارب روپے کی لاگت سے منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، آئندہ بجٹ میں ساڑھے 12 ارب روپے کی لاگت سے پورے ملک میں انرجی فار آل کا منصوبہ شروع کیا جائیگا ،ْ سی پیک کے منصوبہ جات کیلئے 180 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، ریلویز کیلئے 43 ارب روپے اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کیلئے 320 ارب روپے رکھے گئے ہیں ،ْ فاٹا کا بجٹ 21 ارب سے بڑھا کر ساڑھے 24 ارب کر دیا گیا ہے جس سے کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا میں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا ،ْ پاکستان کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر یونیورسٹیوں میں اولمپکس کے مقابلوں کا انعقاد کیا جائیگا ،ْ نوجوانوں کے مابین مختلف کھیلوں کے مقابلے کرائے جائیں گے ،ْبلوچستان اور کشمیر میں ریڈیو پاکستان کے نظام کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔

جمعہ کو قومی اقتصادی کونسل اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں ملک کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کیلئے 17 ارب پی ایس ڈی پی میں مختص کئے ہیں، بلوچستان میں شاہراہوں اور پانی کے منصوبہ پر یہ بجٹ خرچ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال 2017-18ء میں 31 منصوبے گوادر کی ترقی کیلئے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے گلگت، آزاد کشمیر اور فاٹا کا مقدمہ قومی اقتصادی کونسل میں لڑا، وزیراعظم نے آزاد کشمیر کے بجٹ میں 12 ارب سے 22 ارب کرنے کی ہدایت کی ہے، آزاد کشمیر کی عوام سے وزیر اعظم نے جو وعدہ کیا اسے پورا کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کا بجٹ 9 ارب سے 15 ارب کر دیا گیا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ فاٹا کا بجٹ 21 ارب سے بڑھا کر ساڑھے 24 ارب کر دیا گیا ہے جس سے کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا میں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا اور شہریوں کے مسائل میں کمی آئے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا کی ترقی کیلئے مؤثر حکمت عملی اپنائی گئی ہے تاکہ یہاں کے لوگوں کی فلاح و بہبود میں اضافہ کیا جا سکے۔ انہوںنے کہا کہ سماجی شعبہ میں بجٹ کو 90 ارب سے 153 ارب کر دیا گیا ہے، ایچ ای سی کے بجٹ میں ترجیحی بنیادوں پر اضافہ کیا ہے، ایچ ای سی کا بجٹ 21 ارب سے بڑھا کر ساڑھے 35 ارب کر دیا گیا ہے تاکہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا میں لانا چاہتے تھے، آج پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا ای لانسنگ کا ملک بن گیا ہے، ایک لاکھ جوانوں کو ای پی آر سسٹم کی تربیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ساڑھے 12 ارب روپے کی لاگت سے پورے ملک میں انرجی فار آل کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، ایسے علاقے جہاں بجلی نہیں ہے ان جگہوں تک بجلی فراہم کی جائے گی، حکومت بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیلئے جامع نظام کے تحت کام کر رہی ہے تاکہ بجلی کی قلت پر قابو پا کر اس سہولت سے مستفید کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ساڑھے 12 ارب روپے کی لاگت سے منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبہ جات کیلئے 180 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کھچی کینال کا منصوبہ رواں سال مکمل ہو گا جس سے 55 ہزار ایکڑ زمین سیراب ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں میں ترقیاتی کاموں میں تیزی لانے کیلئے ڈویلپمنٹ بجٹ کو 1112 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریلویز کیلئے 43 ارب روپے اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کیلئے 320 ارب روپے رکھے گئے ہیںانہوں نے کہا کہ رواں سال سٹارٹ اپ پاکستان پروگرام شروع کر نے لگے ہیں، اس کیلئے ایڈونچر کیپیٹل فنڈ قائم کیا جائے گا، نوجوانوں کو ڈیجیٹل دور کا منی سپر پاور بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک میں کینسر کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر اٹامک انرجی کیلئے بجٹ میں خطیر رقم مختص کی ہیں جس سے پورے ملک کی سطح پر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اپنے کینسر کے تمام ہسپتال اپ گریڈ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں کھیلوں کیلئے 2 ارب مختص کئے ہیں، ملک میں تمام آسٹر ٹرف تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر یونیورسٹیوں میں اولمپکس کے مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا اور نوجوانوں کے مابین مختلف کھیلوں کے مقابلے کرائے جائیں گے، اس حوالہ سے جامع حکمت عملی پر کام کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ قومی زبان کے فروغ اور آگاہی کیلئے ملک بھر میں اکادمی ادبیات کے مراکز قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور کشمیر میں ریڈیو پاکستان کے نظام کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ زراعت میں ترقی کی شرح 3.5 فیصد رہی ہے، آئندہ سال کیلئے زراعت میں گروتھ ریٹ 3.5 سے بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں اس بار ریکارڈ بنانے کا اعزاز ملا ہے، پاکستان میں جو سرمایہ کاری ہونی چاہئے تھی ماضی میں ایسا نہیں ہوا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 19/05/2017 - 19:33:40

اپنی رائے کا اظہار کریں