سپریم کورٹ کا فیصلہ سب کو تسلیم کر نا چاہیے ،ْ سینیٹ اجلاس ملتوی کرنے کا فیصلہ ..
تازہ ترین : 1
سپریم کورٹ کا فیصلہ سب کو تسلیم کر نا چاہیے ،ْ سینیٹ اجلاس ملتوی کرنے ..

سپریم کورٹ کا فیصلہ سب کو تسلیم کر نا چاہیے ،ْ سینیٹ اجلاس ملتوی کرنے کا فیصلہ درست نہیں ،ْراجہ ظفر الحق

پہلے بھی عمران خان سڑکوں پر آئے تو کیاہوا ،ْ اب بھی اپنا شوق پورا کرلیں ،ْنوازشریف سپریم کورٹ کے سامنے بھی سرخرو ہوئے اور 2018 کے انتخابات میں بھی کامیاب ہوں گے ،ْمیڈیا سے گفتگو

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2017ء)سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہاہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سب کو تسلیم کر نا چاہیے ،ْ سینیٹ اجلاس ملتوی کرنے کا فیصلہ درست نہیں ،ْپہلے بھی عمران خان سڑکوں پر آئے تو کیاہوا ،ْ اب بھی اپنا شوق پورا کرلیں ،ْنوازشریف سپریم کورٹ کے سامنے بھی سرخرو ہوئے اور 2018 کے انتخابات میں بھی کامیاب ہوں گے۔

جمعہ کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے اپوزیشن مایوسی کاشکار ہو گئی ہے، ہم پارلیمنٹ میں بات کرنا چاہتے تھے مگر چیئرمین نے اجلاس ملتوی کردیا۔ انہوں نے کہاکہ 2013 ء کے انتخابات میں ایسی ہی بے چینی کے نتیجہ میں پیپلزپارٹی کو شکست کاسامنا کرنا پڑا اور یہ حرکتیں آئندہ بھی ان کی شکست کا باعث بنیں گی۔

انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے سینیٹ میں جے آئی ٹی کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے مگر سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے فیصلے سے واضح کردیا کہ آئین کا آرٹیکل 184 وزیراعظم کو عہدے سے ہٹانے کی اجازت نہیں دیتا ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ عدالت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کاحکم دیا۔ وزیراعظم کے وکلاء بھی اس ٹیم کوجواب دے سکتے ہیں۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ یہاں ایک صاحب نے کہاکہ عدالتیں نواز شریف کے خلاف کبھی فیصلہ نہیں دیں گی۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ بھی سمجھتے ہیں کہ عدالتی فیصلہ نوازشریف کے حق میں ہے ۔وزیر اعظم محمد نواز شریف عدالت میں سرخروہوگئے۔ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہاکہ ضروری نہیں کہ وزیر اعظم مستعفی ہوکرانکوائری ٹیم کے سامنے پیش ہوں ۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پہلے بھی عمران خان سڑکوں پر آئے تو کیاہوا ، وہ اب بھی اپنا شوق پورا کرلیں ۔راجہ ظفر الحق نے کہاکہ سینیٹ میں اکثریتی اپوزیشن نے اپنے ہی منتخب کردہ چیئرمین سینیٹ کی بات سننے سے انکار کردیا اوران کے احکامات کو ہوا میں اڑایا جس پر چیئرمین سینیٹ کو مجبوراً اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کا عدم برداشت کا رویہ آج کی بات نہیں اور نا ہی اس کا تعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہے بلکہ 2013 کے عام انتخابات میں بھی ان کا یہی رویہ ان کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ اوران کی شکست کا باعث بنا۔

راجہ ظفر الحق نے کہاکہ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ جب سپریم کورٹ نے ان کی مرضی اور منشا کے مطابق ان کا من پسند فیصلہ نہیں کیا تو جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم ان کی مرضی کے مطابق کیسے فیصلہ کریگی لیکن سپریم کورٹ کے اکثریتی ججز نے فیصلہ دیا ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں نے عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کو ماننے بھی انکار کردیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو من وعن قبول کریں گے اور اب جے آئی ٹی میں کیس جانے کے بعد ہماری قیادت قانونی ماہرین سے مشاورت کریگی اور آئین اور قانون میں رہتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کریں گے ،ْ ہم اپوزیشن کی طرح نا ہی سپریم کورٹ کے ججز کو گالیاں دیتے ہیں اور ناہی کسی ادارے کی تضحیک کرتے ہیں، نوازشریف سپریم کورٹ کے سامنے بھی سرخرو ہوئے اور 2018 کے انتخابات میں بھی کامیاب ہوں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 21/04/2017 - 17:19:09

اپنی رائے کا اظہار کریں