وزیراعظم کے استعفیٰ کیلئے احتجاج کی دھمکی،عمران خان کا 28اپریل کو اسلام آباد ..
تازہ ترین : 1
وزیراعظم کے استعفیٰ کیلئے احتجاج کی دھمکی،عمران خان کا 28اپریل کو اسلام ..

وزیراعظم کے استعفیٰ کیلئے احتجاج کی دھمکی،عمران خان کا 28اپریل کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کا اعلان

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2017ء) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 28اپریل جمعہ کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کے استعفیٰ کیلئے سڑکوں پر آئیں گے، پاناما لیکس کیس کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کا کوئی فائدہ نہیں،وزیراعظم کے ماتحت جے آئی ٹی کا کوئی فائدہ نہیں،سپریم کورٹ کہتی ہے کہ پاکستان میں انصاف کے ادارے مفلوج ہوچکے ہیں، پھر نوازشریف کے وزیراعظم ہوتے ہوئے یہ ادارے شفاف تحقیقات کیسے کر سکتے ہیں،دو ججز نے وزیراعظم کو نااہل کرنے کا کہا ہے،سمجھ نہیں آتا مٹھائیاں کس بات پر بانٹیں گئیں،انہیں شرم آنی چاہیے،سپریم کورٹ نے قطری خط مسترد کردیا، وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے پر تمام اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں، وزیراعظم اخلاقی قوت سے حکومت کرتا ہے، ڈیوڈ کیمرون نے اخلاقی بنیاد پر عہدے سے استعفا دیا، ہمارے وزیراعظم رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں،پاکستان میں سالانہ دس ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہے، (ن) لیگ کے ممبران کو خود وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا۔

وہ جمعہ کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے وزیرا عظم سے متعلق تاریخی ریمارکس دیئے، دنیا میں کسی بھی ملک میں ایسا فیصلہآتا تو حکمراں پارٹی خود وزیراعظم سے استعفا لیتی، ن لیگ کس منہ سے عوام کے سامنے جائیگی۔عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز نے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کا کہا، دو ججز نے کہا کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں ہیں، سپریم کورٹ نے قطری کا خط رد کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ الزامات کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی جائے، نوازشریف کے وزیراعظم ہوتے ہوئے ادارے کیسے تحقیقات کرسکتے ہیں ، اگر ان اداروں نے تحقیقات کرنی ہوتی تو اب تک ہوچکی ہوتی۔عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم اخلاقی قوت سے حکومت کرتا ہے، ڈیوڈ کیمرون نے اخلاقی بنیاد پر عہدے سے استعفا دیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام اپوزیشن کو ساتھ چلنے کی دعوت دی ہے، عدالت نے نیلسن اور نیسکول کے بینیفشری اونر کا پتا چلانے کا کہا ہے، جے آئی ٹی کے معاملے پر ابھی ہم مشاورت کرینگے، جے آئی ٹی صرف اسی وقت کامیاب ہوگی جب نوازشریف وزیراعظم نہ ہو۔

چیئرمین تحریک انصاف نے آئندہ جمعہ کو وفاقی دارالحکومت میں جلسے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے استعفیٰ کیلئے سڑکوں پر آئیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پاناما لیکس کیس کی تحقیقات کیلئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے قیام کو غیر سود مند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوازشریف کے ماتحت جے آئی ٹی کا کوئی فائدہ نہیں نوازشریف کیوزیراعظم ہوتے ہوئے کیا یہ ادارے انویسٹی گیشن کرسکتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ان کا قطری خط سپریم کورٹ نے رد کردیا عدالت نے ہمارے الزامات پر جے آئی ٹی بنائی ہے وزیراعظم جمہوریت میں اخلاقی قوت سے حکومت کرتا ہے دنیا میں کسی ملک میں ایسا فیصلہ آتا توحکمراں پارٹی خود وزیر اعظم سے استعفا لیتی۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ ایک طرف سپریم کورٹ کہتی ہے کہ پاکستان میں انصاف کے ادارے مفلوج ہوچکے ہیں، تو کیا یہ ادارے نواز شریف کے وزیراعظم ہوتے ہوئے ان کے خلاف تحقیقات کرسکتے ہیں کیا ہماری طرف سے استعفیٰ کی یہ ڈیمانڈ غلط ہی ،اداروں نے کام کرنا ہوتا تو نوازشریف کب کے پکڑے جا چکے ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ دو ججز نے وزیراعظم کو نااہل کرنے کا کہا ہے،سمجھ نہیں آتا مٹھائیاں کس بات پر بانٹیں گئیں،شرم آنی چاہیے،میں پٹیشنر تھا ، اسمبلی میں مجھے تو کم از کم بولنے دیتے،وزیراعظم رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں،پاکستان میں سالانہ دس ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہے۔
وقت اشاعت : 21/04/2017 - 14:52:49

اپنی رائے کا اظہار کریں