افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں 2009 میں پاکستان میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کا ملزم ہلاک

امریکی ڈرون حملے نے افغانستان کے سرحدی صوبے پکتیکا میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا ،ْقاری یاسین ماراگیا

منگل 21 مارچ 2017 22:53

افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں 2009 میں پاکستان میں سری لنکن کرکٹ ..
ڈیرا خان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 مارچ2017ء) افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں 2009 میں پاکستان میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کا ملزم ہلاک ہوگیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کے فیصلہ کن آپریشن کے بعد دہشتگردوں نے افغانستان میں اپنی پناہ گاہیں قائم کرلی تھیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع نے کہا کہ امریکی ڈرون حملے نے افغانستان کے سرحدی صوبے پکتیکا میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس میں قاری محمد یاسین عرف استاد اسلم سوار تھے۔

حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملے میں خودکش بمباروں کو تربیت دینے کا ماہر قاری یاسین اور 3 دیگر دہشت گرد ہلاک ہوئے۔حملے کے حوالے سے افغانستان میں موجود امریکی ملٹری حکام کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

(جاری ہے)

پاکستان کے انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے قاری یاسین کے سر کی 20 لاکھ روپے قیمت مقرر کی گئی تھی کیونکہ وہ 2009 میں لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کی بس پر حملے میں ملوث تھا، جس کی منصوبہ بندی مبینہ طور پر کالعدم لشکر جھنگوی نے کی تھی۔

کالعدم لشکر جھنگوی العالمی کے ترجمان علی بن سفیان نے ڈرون حملے میں قاری یاسین کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی۔رپورٹ کے مطابق قاری یاسین سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے میں ملوث ہونے کے علاوہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف، جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) اور لاہور میں داتا دربار میں دہشت گرد حملوں میں بھی ملوث تھا۔رپورٹ میں سیکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پکتیکا میں امریکی ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا کمانڈر امین شاہ محسود بھی مارا گیا ،ْامین شاہ محسود بھی خودکش بمباروں کی تربیت کرتا تھا۔