حکومت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کیلئے درختوں کی اہمیت سے آگاہ ہے ،ْوزیر ..
تازہ ترین : 1

حکومت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کیلئے درختوں کی اہمیت سے آگاہ ہے ،ْوزیر اعظم

آنے والی نسلوں کیلئے سرسبز مستقبل کو یقینی بنانے کیلئے گرین پاکستان پروگرام شروع کر دیا گیا ہے، پوری قوم مل کر کام کرے ،ْبیان

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مارچ2017ء)وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کیلئے درختوں کی اہمیت سے آگاہ ہے، آنے والی نسلوں کیلئے سرسبز مستقبل کو یقینی بنانے کیلئے گرین پاکستان پروگرام شروع کر دیا گیا ہے، ساری قوم اس سلسلے میں مل کر کام کرے۔ جنگلات کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت درختوں کی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی کیلئے اہمیت سے واقف ہے، پاکستان پہلے ہی پیرس ایگریمنٹ کی توثیق کر چکا ہے جس کے تحت پاکستان ٹیکنالوجی فریم ورک اور استعداد کار میں اضافہ کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی نہ صرف ہمارے حال کو متاثر کر رہی ہے بلکہ یہ ہماری آئندہ نسلوں پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب کرے گی، اس لئے اگر ہم نے آج اس کے اثرات سے نمٹنے کیلئے کام نہ کیا تو ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل خطرے میں ہو گا۔ نواز شریف نے کہا کہ ہماری حکومت نے ملک کی آئندہ نسلوں کے سرسبز مستقبل کیلئے ملک بھر میں گرین پاکستان پروگرام شروع کیا ہے جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا مقابلہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم گرین سیکٹر پالیسی ریفارمز اور جنگلات کے رقبہ میں اضافہ کے ذریعے پاکستان کو دنیا میں ماحولیاتی لحاظ سے صف اول کے ایک ذمہ دار ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہیں جنگلات کے عالمی دن کے موقع پر اس امر کا اظہار کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ وفاقی حکومت نے تمام صوبوں، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا میں جنگلات کیلئے گرین پاکستان فنڈ کی پہلی قسط کے طور پر 55 کروڑ 30 لاکھ روپے جاری کر دیئے ہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے قوم پر زور دیا کہ گرین پاکستان کیلئے مل کر کام کیا جائے جس میں درختوں، جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کو مادر وطن کا انتہائی قیمتی سرمایہ قرار دیا گیا ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 20/03/2017 - 22:00:58

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں