ادارہ شماریات منصفانہ مردم شماری کو یقینی بنائے،عبد المجید آرائیں
تازہ ترین : 1

ادارہ شماریات منصفانہ مردم شماری کو یقینی بنائے،عبد المجید آرائیں

حیدر آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مارچ2017ء)مرکزی تنظیم آرائیاں پاکستان کے سرپرست اعلیٰ عبد المجید آرائیں نے کہا ہے کہ مردم شماری میں کسی قسم کی بے قاعدگی برداشت نہیں کریں گے ادارہ شماریات منصفانہ مردم شماری کو یقینی بنائے سندھ کے عوام مردم شماری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اوراگر کسی جگہ عملے کی کوتاہی نظر آئے تو اس کی نشاندہی کی جائے تاکہ ایسے عناصر کو فوری طور پر ناپاک سازشوں سے روکا جاسکے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گلشن ذیل پاک سوسائٹی میں انجمن آرائیاں حیدرآباد ڈویژن کے سابق آرگنائزر محمد صفدر آرائیں کی جانب سے مرکزی تنظیم آرائیاں میں شمولیت کے حوالے سے عبد المجید آرائیں کے اعزاز میں دیئے گئے عشایئے کے دوران شرکاء سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر چوہدری ظفر اللہ آرائیں ایڈووکیٹ ، امتیازعلی آرائیں ، ڈاکٹر شفیق ا ٓرائیں ، چوہدری محمد جمیل ، محمد علیم ایڈووکیٹ ․ذیشان آرائین․افتخار آرائیں اور آرائیں برادری کے معززین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ، عبدا لمجید آرائیں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت اپنے جائز حصے کے حصول کے لئے آرائیں برادری سمیت تمام زبانیں بولنے والے سندھ کے مستقل باشندے مردم شماری کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے اہلخانہ کا اندراج کروائیں، انہوں نے کہا کہ سندھ میں آباد آرائیں چاہے وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں وہ مادری زبان کے خانے میں اپنی اپنی مادری زبان لکھوائیں ، مردم شماری کے دوران پنسل سے کوائف کا اندراج باعث تشویش ہے ادارہ شماریات ان خامیوں پر قابو پا کر منصفانہ مردم شماری کو یقینی بنائے ،ماضی میں مفاد پرست عناصر نے برادری کو فلاح و بہبود کے نام پر بیوقوف بنا کر کافی نقصان پہنچایا ہے اس وقت بھی ہم نے اس حوالے سے لوگوں کو آگاہ کیا تھا لیکن اب برادری کے لوگ بھی ہماری بات کی تائید کررہے ہیں جو کہ خوش آئند بات ہے اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ برادری کے لوگ مفاد پرستوں کو پہنچان چکے ہیں مرکزی تنظیم آرائیاں میں مفاد پرستوں اور لٹیروں کی کوئی جگہ نہیں ہم ماضی کے اختلافات بھلا کر ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر برادری کی فلاح و بہبود کے لئے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آگئے بڑھیں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 20/03/2017 - 21:41:17

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں