بلاتفریق کارروائی نہ ہونے کے باعث دہشت گرد بار بار حملہ آور ہوتے ہیں ، کالعدم ..
تازہ ترین : 1
بلاتفریق کارروائی نہ ہونے کے باعث  دہشت گرد بار بار حملہ آور ہوتے ہیں ..

بلاتفریق کارروائی نہ ہونے کے باعث دہشت گرد بار بار حملہ آور ہوتے ہیں ، کالعدم دہشت گرد گروہوں اور کالعدم فرقہ وارانہ تنظیموں میں فرق نہیں کرنا چاہیے، ضیاء دور میں بوئے گئے بیج کا نتیجہ ہم آج بھگت رہے ہیں کچھ کالعدم تنظیمیں رفاہی اداروں کے روپ میں بھی سرگرم ہیں ،اس سے حکومت کے خلوص کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں، اچھے مدارس پر کوئی اعتراض نہیں‘ ہمارا اعتراض کالعدم تنظیموں پر ہے جنہوں نے فرقہ وارانہ قتل و غارت کی ، دہشتگردوں کے سہولت کار اشرافیہ میں شامل ہیں،دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ان کا کھوج لگانا بہت ضروری ہے

اپوزیشن سینیٹرز سحر کامران ،تاج حیدر ، طاہر مشہدی ، مولانا تنویر تھانوی اور دیگر کی وفاقی وزیر داخلہ کے بیان پر تنقید رفاہی کام کرنے والوں میں کچھ عناصر کی وجہ سے سب کو نشانہ نہیں بنایا جاسکتا،عبدالقیوم سابق حکومت میں آنیاں جانیاں کرنے والے لوگ تھے‘موجود ہ حکومت کام کر رہی ہے، نہال ہاشمی وزیر داخلہ کے مشکل حالات میں ادا کئے گئے کردار کو سراہا جانا چاہیے، سلیم ضیاء

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مارچ2017ء) سینیٹ میں اپوزیشن ارکان نے وفاقی وزیر داخلہ کے دہشتگردوں اور فرقہ وارانہ تنظیموں کے حوالے سے دیئے گئے بیان پر تنقید کر تے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد بار بار حملہ آور ہوتے ہیں کیونکہ ان کے خلاف بلا تفریق کارروائی نہیں کی جاتی‘ کالعدم دہشت گرد گروہوں اور کالعدم فرقہ وارانہ تنظیموں میں فرق نہیں کرنا چاہیے، ضیاء الحق کے دور میں جو بیج بوئے گئے اس کا نتیجہ ہم بھگت رہے ہیں کچھ کالعدم تنظیمیں رفاہی اداروں کے روپ میں بھی سرگرم ہیں جس سے حکومت کے خلوص کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں، اچھے مدارس پر کوئی اعتراض نہیں‘ ہمارا اعتراض کالعدم تنظیموں پر ہے جنہوں نے فرقہ وارانہ قتل و غارت کی ہے، دہشتگردوں کے سہولت کار اشرافیہ میں شامل ہیں،دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ان کا کھوج لگانا بہت ضروری ہے۔

پیر کو سینیٹ میں اپوزیشن ارکان کی جانب سے دس جنوری 2017ء کو وزیر داخلہ کی جانب سے ایوان بالا میںدیئے گئے بیان جس میں انہوں نے ملک میں کالعدم دہشتگرد گروہوں اور کالعدم فرقہ وارانہ تنظیموں کے درمیان فرق کھینچا‘ پر بحث کیلئے تحریک پیش کی گئی جس میںبحث کا آغاز کرتے ہوئے سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ وزیر داخلہ کی ملاقاتیں کالعدم تنظیموں کے رہنمائوں سے ہوئیں جس کی وہ مختلف توجیہات پیش کرتے ہیں۔

دہشت گرد بار بار حملہ آور ہوتے ہیں کیونکہ ان کے خلاف بلا تفریق کارروائی نہیں کی جاتی‘ کالعدم دہشت گرد گروہوں اور کالعدم فرقہ وارانہ تنظیموں میں فرق نہیں کرنا چاہیے۔ بعض تنظیمیں اب بھی کام کر رہی ہیں۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ دوسرے ملکوں میں دخل اندازی کرنے کے لئے پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کا فلسفہ کار فرما ہے۔ ضیاء الحق کے دور میں جو بیج بوئے گئے اس کا نتیجہ ہم بھگت رہے ہیں۔

پرائیویٹ مسلح گروپوں کو پاکستانی سرزمین پر کام کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ تنظیمیں رفاہی اداروں کے روپ میں بھی سرگرم ہیں۔ حکومت کے خلوص کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ سینیٹر میاں عتیق شیخ نے بتایا کہ ہمارے دشمن ملک کے اندر بھی ہیں اور باہر بھی‘ جونا گڑھ‘ حیدرآباد اور بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کے نمائندوں کی نشستیں بھی اس ایوان میں مختص کرنے کے لئے قرارداد پیش کرنی چاہیے جس طرح بھارت کی اسمبلی میں کی گئی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف قوم متحد ہے۔ سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ دہشت گرد ملک کے دشمن ہیں۔ رفاہی کام کرنے والوں میں کچھ عناصر کی وجہ سے سب کو نشانہ نہیں بنایا جاسکتا۔چوہدری تنویر نے کہا کہ تنقید کرنا حکومت کا حق ہے لیکن آج اس ملک میں پی ایس ایل ہوتی ہے‘ سابق دور میں کسی کی جان و مال محفوظ نہیں تھی‘ ملک میں کوئی بزنس مین آنے کے لئے تیار نہیں تھا‘ سفارتکار چند ہوٹلوں کے علاوہ کسی جگہ جا نہیں سکتے تھے۔

دہشتگردی کی لعنت کو کافی حد تک کم کردیا گیا ہے۔ یہ ذہن میں نہیں رکھنا چاہیے کہ مذہبی جماعتیں یا مدارس دہشتگردی میں ملوث ہیں۔ جو لوگ ملک کی خدمت کر رہے ہیں ان کو سراہنا چاہیے۔ سینیٹر کرنل (ر) سید طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ اچھے مدارس پر کوئی اعتراض نہیں‘ ہمارا اعتراض کالعدم تنظیموں پر ہے جنہوں نے فرقہ وارانہ قتل و غارت کی ہے۔ کالعدم تنظیموں کے لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

سینیٹر مولانا تنویر الحق تھانوی نے کہا کہ دہشتگردوں کے سہولت کار اشرافیہ میں شامل ہیں۔ ان کا کھوج لگانا بھی ضروری ہے۔ جو بھی ان کے سہولت کار ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سہولت کاروں کے بارے میں بے شک ان کیمرہ بریفنگ دی جائے۔ ان کو بے اثر کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشتگردی میں کمی آئی ہے اس کے لئے جس جس نے بھی کردار ادا کیا ہے ان کو سراہتے ہیں۔

سینیٹر سلیم ضیاء نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں سیاسی قوت فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی‘ وزیر داخلہ نے جس طرح مشکل حالات میں اپنا کردار ادا کیا ہے اس کو سراہا جانا چاہیے۔ حالات اس قدر خراب تھے کہ لوگ عید کی نماز پڑھنے بھی نہیں نکلتے تھے‘ اب کراچی اور سندھ میں بھی امن ہے۔ سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا کہ سابق حکومت میں آنیاں جانیاں کرنے والے لوگ تھے‘ آج حکومت کام کر رہی ہے۔ کچھ لوگوں کو چوہدری نثار سے مسئلہ ہے‘ ان پر تنقید ضرور کریں لیکن اختلاف برائے اختلاف نہ کریں‘ تعمیری بحث ہونی چاہیے۔(رڈ)
وقت اشاعت : 20/03/2017 - 19:38:44

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں