دہشت گردی کیخلاف کامیابیوں کا کریڈٹ سب لینے آجاتے ہیں مگر ناکامی پر انگلیاں وزارت ..
تازہ ترین : 1

دہشت گردی کیخلاف کامیابیوں کا کریڈٹ سب لینے آجاتے ہیں مگر ناکامی پر انگلیاں وزارت داخلہ کی طرف اٹھتی ہیں، دہشتگردی کے نیٹ ورک اب سرحد پار ہیں، کسی دہشت گرد تنظیم کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت ہے نہ ہی کسی ایسی تنظیم کا ہیڈ کوارٹرز پاکستان میں ہے ، دہشت گردوں کے پیرو کاروں اور کارکنوں پرکیخلاف کارروائی کیلئے کوئی قانون نہیں ‘ فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں کے رہنما تنظیم کے کالعدم ہونے کے بعد اسی طرح قانونی کارروائی کا سامنا کرتے ہیں میری ایک غیر ارادی ملاقات پر بہت شور کیا گیا‘ وہی شخص سابق دور حکومت میں صدر اور وزراء سے ملتاتھا تب توکوئی نہیں بولا‘ دہشت گرودی کیخلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ، سلامتی کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کاسینیٹ میں سینیٹر سحر کامران اور دیگر اپوزیشن ارکان کی تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئے خطاب

دہشت گردی کیخلاف کامیابیوں کا کریڈٹ سب لینے آجاتے ہیں مگر ناکامی پر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مارچ2017ء) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کیخلاف کامیابیوں کا کریڈٹ لینے سب آجاتے ہیں مگر ناکامی پر انگلیاں وزارت داخلہ کی جانب اٹھتی ہیں، دہشتگردی کے نیٹ ورک اب سرحد پار ہیں، کسی دہشت گرد تنظیم کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت ہے نہ ہی کسی دہشت گرد تنظیم کا ہیڈ کوارٹر اب پاکستان میں ہے ،ملک میں دہشت گردوں کے پیرو کاروں اور کارکنوں پرکیخلاف کارروائی کیلئے کوئی قانون نہیں ،‘ فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں ملوث کالعدم تنظیموں کے رہنما تنظیم کے کالعدم ہونے کے بعد اسی طرح قانونی کارروائی کا سامنا کرتے ہیں جس طرح دہشتگرد‘میری ایک غیر ارادی ملاقات پر بہت شور کیا گیا‘ وہی شخص سابق دور حکومت میں صدر اور وزراء سے ملتاتھا تب توکوئی نہیں بولا‘ دہشت گرودی کیخلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے‘ سیکیورٹی کے مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

وہ پیر کو سینیٹ میں سینیٹر سحر کامران اور دیگر اپوزیشن ارکان کی تحریک پر بحث سمیٹ رہے تھے ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اس ایوان میں دیئے گئے میرے گزشتہ بیان کے بعد اس بیان کو ایوان کے باہر نئے نئے معنی پہنائے گئے جس دن میں نے یہ بیان دیا تھا بہتر ہوتا اسی دن وضاحت مانگ لیتے۔ میں چیئرمین سینٹ سے یہ کہتا ہوں کہ ہمیں حقائق اور دلیل کے ساتھ سچ بولنا چاہیے‘ ایوان میں جو بات ہو اس کا ایوان میں جواب آنا چاہیے۔

اپنے بیان کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں اس لئے خود ایوان میں آیا ہوں۔ میرے سابقہ بیان کی کاپی اس ایوان میں تقسیم کی جائے اگر میں نے یہ کہا ہے کہ دہشت گردوں سے نرمی برتنی چاہیے تو جوابدہ ہوں‘ میں نے کسی کو کمتر دہشتگرد نہیں کہا۔ میں نے دونوں ایوانوں میں کھل کر کہا کہ سیکیورٹی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کراچی کی صورتحال کے حوالے سے 28 اگست 2013ء کے اخبارات نکال لیں‘ ڈاکٹر فاروق ستار نے کیا مطالبہ کیا۔

بعد ازاں میں نے وزیراعلیٰ سندھ کو کپتان کہا‘ رینجرز ہیڈ کوارٹرز‘ گورنر‘ سینئر سیاسی رہنمائوں‘ وزیراعلیٰ سمیت سب سے ملاقاتیں کیں۔ میں نے سی ایم سے کہا کہ یہ صوبائی مسئلہ ہے۔ سب کریڈٹ آپ کا ہے۔ قائم علی شاہ پر بہت دبائو تھا لیکن انہوں نے عمدہ کام کیا۔ فیصلے وفاقی حکومت نے کئے‘ وزارت داخلہ کا بنیادی کردار تھا لیکن افواج پاکستان‘ سول آرمڈ فورسز‘ انٹیلی جنس ایجنسیاں‘ عوام‘ پولیس اور صوبائی حکومتیں سب ساتھ نہ ہوتیں تو صورتحال بہتر نہ ہوتی۔

پانچ سے چھ دھماکے روزانہ ہوتے تھے‘ دھماکہ نہ ہونا بڑی خبر ہوتی تھی۔ اب مہینوں‘ ہفتوں دھماکے نہیں ہوتے‘ شمالی وزیرستان سے دہشت گرد حملے ہوتے تھے۔ کیوں کسی نے کارروائی نہیں کی‘ دہشتگردی کے نیٹ ورک اب سرحد پار ہیں۔ ان کے سہولت کار اور ہیلپرز کے خلاف بھی کارروائی ہوئی ہے۔ ہزاروں لوگوں کو پکڑا گیا ہے۔ کئی کے خلاف کیسز بنے‘ کئی پر ہماری نظر ہے۔

سیکیورٹی کی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے۔ کسی دہشت گرد تنظیم کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔جو بھی دہشت گردی میں ملوث ہے اس کو پکڑا جائے گا یا ختم کیا جائے گا۔ کسی دہشت گرد تنظیم کا ہیڈ کوارٹر اب پاکستان میں نہیں ہے‘ پہلے شمالی وزیرستان میں ان کے ہیڈ کوارٹرز تھے۔ فرقہ وارانہ سرگرمی میں ملوث تنظیموںکے رہنما تو کالعدم ہو جاتے ہیں وہ بھی اسی طرح کیس بھگتتے ہیں جس طرح دہشت گرد لیکن ان کے ورکرز اور پیروکاروں جن پر الزام نہیں ہوتا ان کے خلاف کارروائی کے لئے قانون نہیں ہے۔

کیونکہ وہ دہشتگردی میں ملوث نہیں ہوتے۔ یہاں کہا گیا میں جماعتوں سے ملتا ہوں‘ جن سے میں ملا وہ جے یو آئی (ف) ‘ جے یو آئی (س) اور جماعت اسلامی کے رہنمائوں کے ساتھ آئے۔ سابقہ حکومتوں کے وزراء سے جب وہ ملتے رہے تب تو شور نہیں ہوا۔ اس وقت کے صدر سے بھی ایک صاحب ملے ان کی تصاویر بھی موجود ہیں تب تو کسی نے بات نہیں کی۔ ایک صاحب نے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا تب کسی نے کارروائی نہیں کی۔

ایک غیر ارادی ملاقات میں اگر وہ آگئے اور خاموش بیٹھے رہے تو اس پر شور کیا گیا۔ دہشتگرد تنظیم کی تو کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن فرقہ وارانہ سرگرمی میں ملوث لوگوں کے حوالے سے قانون میں فرق ہے۔ دونوں ایوانوں میں نیا قانون لانے کے لئے ذمہ داری متعلقہ اداروں کو دی ہے تاکہ دہشتگرد فرقہ وارانہ تنظیموں کے خلاف ضروری کارروائی ہوسکے۔جب حکومت کسی کو کالعدم تنظیم ڈیکلیئر کرتی ہے تو اس کا ایک طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے‘ اس تنظیم کو اپیل کا حق بھی ہے۔

ایک فرقہ وارانہ تنظیم کا کیس ابھی بھی چل رہا ہے۔ معاملہ ہائیکورٹ میں ہے‘ میں نے کبھی کسی صوبائی حکومت پر تنقید نہیں کی۔ تمام اداروں کو مل کر کام کرنا چاہیے اور پاکستان کو درپیش زندگی اور موت کے مسئلے پر مل کر پیش رفت کرنی چاہیے۔ (رڈ)

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 20/03/2017 - 19:38:32

اپنی رائے کا اظہار کریں