خلیجی پانیوں میں ایران کی بحری اشتعال انگیزی کی سازشیں جاری
تازہ ترین : 1
خلیجی پانیوں میں ایران کی بحری اشتعال انگیزی کی سازشیں جاری

خلیجی پانیوں میں ایران کی بحری اشتعال انگیزی کی سازشیں جاری

نیول فورس کے گروپ 45 کے زیر انتظام ’نقدی‘ بحری بیڑا اور ’تنب‘ نامی بحری جہاز خلیج عدن اور باب المندب روانہ کرنے کا اعلان جب سے یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کیخلاف آپریشن شروع ہوا تب سے ایران نے خطے میں اشتعال انگیزی میں اضافہ کردیا

تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مارچ2017ء)ایران کی طرف سے خلیجی پانیوں میں بحری اشتعال انگیزی کی سازشیں جاری ہیں۔ اسی ضمن میں ایران نے اپنا ایک بحری بیڑا اور جنگی بحری جہاز خلیج عدن روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق ایران کی طرف سے بحری اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیول فورس کے گروپ 45 کے زیر انتظام ’نقدی‘ بحری بیڑا اور ’تنب‘ نامی بحری جہاز خلیج عدن اور باب المندب روانہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ایران کی طرف سے اپنے بحری بیڑے کو خلیج عدن ایک ایسے وقت میں متحرک کرنے کا اعلان کیا ہے جب دوسری جانب عالمی سمندر میں ایرانی اور امریکی بحری جنگی جہازوں کے درمیان کشیدگی کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق مال بردار ایرانی جہازوں کی سلامتی کے لیے ایران نے بحریہ کا ایک نیا دستہ باب المندب اور خلیج عدن روانہ کیا ہے۔

جب یہ اعلان سامنے آیا تو اس وقت ایرانی بحری جنگی جہاز اور بحری بیڑا سلطنت اومان کے پانیوں سے گذر رہا تھا۔ایرانی جنگی جہازوں کی طرف سے خلیج عدن کی طرف پیش قدمی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دوسری طرف فلوریڈا کے ساحل پر امریکی بحریہ تین مار چ سے فوجی مشقوں میں مصروف ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ان مشقوں کا مقصد خلیجی پانیوں میں ایرانی بحری جہازوں کی طرف سے لاحق خطرات کی روک تھام کرنا اور ایرانی خطرات سے نمٹنا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ’کلہاڑے کا وار‘ کے عنوان سے جاری امریکی بحریہ کی مشقوں میں مشین گنوں سے لیس 35 جنگی کشتیاں، جنگی ہیلی کاپٹر اور سیکڑوں فوجی حصہ لے رہے ہیں۔خیال رہے کہ جب سے سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف ’فیصلہ کن طوفان‘ آپریشن شروع ہوا ہے تب سے ایران نے خطے میں اپنی بحری اشتعال انگیزی میں اضافہ کردیا ہے۔
وقت اشاعت : 15/03/2017 - 12:17:02

متعلقہ عنوان :

قارئین کی رائے :

  • علی ساجد زیدی کی رائے : 16/03/2017 - 17:27:27

    یہ جنگ ایران اور سعودی عرب کی نہیں ہے بلکہ دو نضریات اور عقیدوں کی جنگ ہے۔ سعودی عرب نے سر زمین حجاز پر انگریزوں سے مل کر قبضہ کیا ہوا ہے اور حجاز کی اصل آبادی سعودیوں کے اس قبضے کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ سعودی عرب میں سعودیوںں کو وہاں کی لوکل آبادی پسند نہیں کرتی۔ یمنی عوام بھی سعودیوں کے خلاف ہیں کیونکہ سعودیوں نے یمن کے تین بڑے صوبوں پر ناجائیز قبضہ کیا ہوا ہے جس میں ںجران کا صوبہ قابل ذکر ہے۔ اب سعودیوں کو ڈر ہے کہ اگر یمنیوں نے اپنے علاقے پر قبضہ کرلیا تو پھر پورے سعودی عرب میںں نجدیوں کے خلاف بغاوت ہوجائیگی اور سعودی نجدیوں کو اپنا وجود سنبھالنا مشکل ہو جائیگا۔۔ ایران کیونکہ حوتی قبائیل کی مدد کررہا ہے اس لئے مغربی میڈیا اس کے خلاف جھوٹا پراپوگنڈہ کر رہا ہے

    اس رائے کا جواب دیں

اپنی رائے کا اظہار کریں