قومی کانفرنس کا اقوام متحدہ سے تمام مذاہب کے احترام کا عالمی قانون بنانے کا مطالبہ ..
تازہ ترین : 1

قومی کانفرنس کا اقوام متحدہ سے تمام مذاہب کے احترام کا عالمی قانون بنانے کا مطالبہ ،بین المذااہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے 6 نکاتی سفارشات کی متفقہ منظوری

پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت انتہا پسندی، فرقہ پرستی اور دہشت گردی جیسی خرابیاں مسلسل کم ہورہی ہیں ، ان معاملات پر مزید موثر کردار اداکرنے کی ضرورت ہے، اس مقصد کیلئے داخلی سطح پر مختلف مذاہب اور مسالک کے درمیان غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کو نہایت دانشمندی سے دور کرنا ہوگا، کانفرنس کے متفقہ اعلامیہ میں بین المذ اہب ہم آہنگی اور انسانی وقار کو مجروح کرنے کے ہر اقدام سے بیزاری اور اظہارمذمت

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 فروری2017ء)قومی کانفرنس برائے بین المذ اہب ہم آہنگی نے مذاہب میں دوریاں ختم کرنے کے لئے اقوام متحدہ سے تمام مذاہب کے احترام کا عالمی قانون بنانے کا مطالبہ کردیا ، بین المذااہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے چھ نکات پر مشتمل سفارشات کی متفقہ طور پر منظوری دیتے ہوئے ان کو جاری کردیا گیا ہے ۔ جمعرات کوقومی کانفرنس برائے بین المذااہب ہم آہنگی وزیر مذہبی امورو بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف کی صدارت میں اسلام آباد میں ہوئی ۔

متفقہ اعلامیہ میں بین المذااہب ہم آہنگی کے لئے وفاقی حکومت کی کاوشوں کی تعریف کی گئی ہے واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان پرامن بقائے باہمی اور انسانی مساوات پر مبنی روایات کے حوالے سے شاندار ریکارڈ رکھتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت انتہا پسندی، فرقہ پرستی اور دہشت گردی جیسی خرابیاں مسلسل کم ہورہی ہیں۔ ان معاملات پر مزید موثر کردار اداکرنے کی ضرورت ہے اس مقصد کے لئے داخلی سطح پر مختلف مذاہب اور مسالک کے درمیان غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کو نہایت دانشمندی سے دور کرنا ہوگا۔

معاشرے میںبے اعتمادی تصادم اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے مختلف طبقات میں باہمی تعاون اور مفاہمت کی اشد ضرورت ہے۔ قومی کانفرنس برائے بین المذااہب ہم آہنگی کے متفقہ اعلامیہ میں بین المذااہب ہم آہنگی اور انسانی وقار کو مجروح کرنے کے ہر اقدام سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مذمت کی گئی ہے۔سفارشات میں قومی امن سلامتی کے یقینی حصول اور مزاہب میں دوریاں ختم کرنے کے لئے ہر سطح پر ،، بین المذااہب ہم آہنگی مکالمے ،، کا کہا گیا ہے ۔

اقوام متحدہ پر واضح کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کو کسی خاص مذہب سے جوڑنے کے بجائے اس کی بنیادی وجوہات اور اسباب کو تعین کر کے ان کا تدارک کیا جائے تاکہ پوری دنیا میں عدل و مساوات اور استحکام کو فروغ ملے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں،، بین المذااہب ہم آہنگی مکالمے ،، کے تحت فکری تربیت کا اہتمام کریں مقامی سطح پر ،، بین المذااہب ہم آہنگی کمیٹیوں کو مضبوط کیا جائے تمام مسالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو اپنے دینی مراکز کی دعوت دیں اقوام متحدہ تمام مزاہب کے مقدسات کے احترام کے لئے قانون سازی کرے اور اس معاملے میں بغیر کسی تاخیر کے پیش رفت کی جائے۔…(اع)

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 02/02/2017 - 20:02:23

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :