پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قانون ، مجوزہ قومی احتساب کمیشن کے چیئرمین کی اہلیت ..
تازہ ترین : 1

پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قانون ، مجوزہ قومی احتساب کمیشن کے چیئرمین کی اہلیت کے معاملے پراختلافات کا شکار، اپوزیشن جماعت تحریک انصاف نے مشاورت کے لئے وقت مانگ لیا

پی ٹی آئی کی چیئرمین قومی احتساب کمیشن کے معیار کو کھلا چھوڑنے کے حوالے سے پی پی پی کی تجویزکی تائید کمیٹی میں الزامات کی منصفانہ تحقیقات کیلئے ’’آزاد و خودمختار تفتیشی ایجنسی ‘‘ کے قیام اوراحتساب جج کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی پر بھی اتفاق احتساب جج کی تقرری کے مجوزہ طریقہ کار کے تحت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو ہی متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت سے احتساب جج مقرر کیا جاسکے گا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 فروری2017ء)پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قانون میں مجوزہ قومی احتساب کمیشن کے چیئرمین کی اہلیت پراختلافات پیدا ہوگئے،اپوزیشن کی بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے مشاورت کیلئے وقت مانگ لیا ،پاکستان تحریک انصاف نے بھی پاکستان پیپلزپارٹی کی طرح چیئرمین قومی احتساب کمیشن کے معیار کو اوپن چھوڑنے کی تجویز دے دی ،قرض نادہندگان کے مقدمات قومی احتساب کمیشن کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے،کمیٹی میں الزامات کی منصفانہ تحقیقات کیلئے ’’آزاد و خودمختار تفتیشی ایجنسی ‘‘ کے قیام پر بھی اتفاق ہوگیا ہے،احتساب جج کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی پر بھی اتفاق ہوگیا ہے جس کے تحت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو ہی متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت سے احتساب جج مقرر کیا جاسکے گا۔

جمعرا ت کوپارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قانون کااجلاس چیئرمین کمیٹی وزیرقانون و انصاف زاہد حامد کی صدارت میں پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔قومی احتساب کمیشن کی مزید مجوزہ شقوں پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں مسلم لیگ (ن)،پیپلزپارٹی،تحریک انصاف،جماعت اسلامی،ایم کیوایم،اے این پی،مسلم لیگ ق اور دیگر جماعتوں کے دونوں ایوانوں سے نامزد نمائندوں نے شرکت کی۔

زاہد حامد نے کہاکہ نیب کے متبادل قومی احتساب کمیشن کے قیام پر ناصرف مکمل طور پر اتفاق رائے ہوگیا ہے بلکہ اس کمیشن کی تشکیل کیلئے حکومتی کاوشوں کی تمام جماعتوں نے تعریف کی ہے۔انہوں نے کہاکہ چیئرمین قومی احتساب کمیشن کی تقرری کے طریقہ کار پر مشاورت کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی نے وقت مانگ لیا ہے مجوزہ قانون کے تحت اعلیٰ عدلیہ کا صرف حاضر سروس جج ہی چیئرمین قومی احتساب کمیشن مقرر ہوسکتا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے اساہلیت کو کو اوپن چھوڑنے کی تجویز دی ہے یعنی عدلیہ کے علاوہ دیگر شعبوں سے چیئرمین احتساب کمیشن کی تقرری کی تجویز دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ الزامات کی منصفانہ تحقیقات کیلئے آزاد ومختار تفتیشی ایجنسی کی تکشیل پراتفاق رائے ہوگیا ہے،مقدمات کی تحقیقات کا اختیار ایف آئی اے کو نہیں ہوگا بلکہ متذکرہ ایجنسی منصفانہ طریقے سے اس کی تحقیقات کرسکے گی اور اس ایجنسی کے تحت چیف پراسیکیوٹر و اسٹنٹ پراسیکیوٹر کی تقرری ہوسکے گی اور جو ریفرنس کی منظوری حاصل کرکے چالان عدالت میں پیش کرسکیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ سیشن جج ہی احتساب جج ہوسکے گا اس بارے میں چیف جسٹس ہائیکورٹ کی مشاورت لازمی ہوگی۔انہوں نے کہاکہ کمیٹی میں اس بات پر بھی اتفاق رائے ہوگیا ہے کہ بدعنوانی اور بدعنوان عمل کی واضح تشریح کی جائے گی،قرضوں کے حوالے سے نادہندگی کے مقدمات قومی احتساب کمیشن کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے بلکہ اس کیلئے دیگر مالیاتی قوانین کا اطلاق ہوگا۔

زاہد حامد کے مطابق مجوزہ احتساب کمیشن کا قانون تمام اراکین میں تقسیم کردیاگیا ہے اور تمام اراکین نے مسودہ پر مثبت رائے دی ہے اور کہا ہے کہ حکومت نے احتساب کمیشن کے قیام کیلئے اچھی بنیاد رکھی ہے۔شکوہ اور بحث ہوگی سفارشات کو حتمی شکل دیا جائے گا جس میں کرپشن کے مقدمات کے ٹائم فریم کو بھی طے کیا جائے گا۔اس بارے میں تجاویز کا جائزہ لیا جارہاہے کہ احتساب کمیشن کس وقت سے کرپشن مقدمات کا جائزہ لے۔ …(خ م+اع)

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 02/02/2017 - 20:02:22

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :