اسامہ اپنے بیٹے کو القاعدہ کا خلیفہ بنانا چاہتے تھے،امریکی خفیہ ایجنسی

آخری ایام میں بن لادن کمزور القاعدہ اور داعش کے پھیلاؤ پر پریشان رہے،دستاویزات

ہفتہ 21 جنوری 2017 12:14

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 جنوری2017ء) امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی جاری کردہ دستاویزات نے بتایاہے کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو اپنی موت سے کئی ماہ پہلے مسلسل کمزور ہوتی ہوئی القاعدہ اور حریف جہادی گروہ داعش کے پھیلاؤ پر گہری تشویش تھی۔اسامہ بن لادن کی 2011ء میں امریکی اسپیشل فورسز کے آپریشن میں ہلاکت کے بعد، ایبٹ آباد کے بلال ٹاؤن میں واقعہ ان کے مکان سے بڑی تعداد میں دستاویزات قبضہ میں لی گئی تھیں۔

امریکہ کی حکومت نے گذشتہ روز پچاس کے قریب ایسی دستاویزات جاری کی ہیں جو القاعدہ کے راہنما اسامہ بن لادن کی زندگی کے بعض اٴْن پہلوں سے متعلق ہیں جب وہ ایبٹ آباد میں ایک مکان میں روپوش تھے۔ان دستاویزات میں وہ خطوط بھی شامل ہیں جو بن لادن نے دوسرے افراد کے نام لکھے تھے اور ان سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ القاعدہ کے راہنما کی زندگی کے آخری ایام میں ان کی سوچ امریکہ، اس کے مغربی اتحادیوں اور امریکہ کی حامی حکومتوں کے خلاف کارروائیاں کرنے پر مرکوز تھی۔

(جاری ہے)

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک خط میں بن لادن نے گونتانامو بے اور ابو غریب جیل میں مبینہ تشدد کا حوالے دیتے ہوئے لکھا کہ لوگوں نے امریکہ سے کبھی بھی اتنی نفرت نہیں کی جتنی انہیں اب ہے۔شیخ محمود کے نام لکھے گئے ایک خط، جس پر کوئی تاریخ درج نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ہر ایک کو اپنے اختلافات ختم کرتے ہوئے اپنی توجہ بڑے حریف کو ختم کرنے پر مرکوز کرنی چاہیئے تاہم یہ واضح نہیں کہ شیخ محمود کون تھے۔

امریکہ کے انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے جاری کی جانے والی دستاویزات میں ایسے خطوط بھی شامل ہیں جن میں اسامہ بن لادن کی سوچ کے نئے پہلو سامنے آئے ہیں، جب وہ ایبٹ آباد میں ایک مکان میں روپوش تھے۔ان دستاویزات پر کام کرنے والے ایک تجزیہ کار کے مطابق منظر عام پر آنے والی یہ دستاویزات عالمی سیاست کو عدم استحکام سے دو چار کرنے سے متعلق بن لادن کی حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہے،ان دستاویزات کے مطابق بن لادن نے عرب بہار کو ایک عبوری دور قرار دیتے ہوئے عرب دنیا میں انقلاب سے متعلق اپنے نظریے کو فروغ دینے کی ضرورت کے بارے میں لکھا۔

کچھ خطوط سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسامہ بن لادن سکیورٹی کی صورت حال کے بارے میں پوری طرح آگاہ تھے۔ اس تمام عرصے کے دوران وہ ایران کے بارے میں بد اعتمادی کا شکا رہے اور انہوں نے اپنے خاندان کی ایران کے طرف سے کی جانے والی میزبانی کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسے ایک ظالمانہ جیل قرار دیا۔اپنے بیٹوں عثمان اور محمد کے نام لکھے گئے خط میں بن لادن نے انہیں متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ایران کے اسپتالوں میں کسی بھی مشکوک سرگرمی سے آگاہ رہیں۔ اگر وہ آپ کو کوئی ٹیکہ لگائیں تو یہ ایسا ٹیکہ بھی ہو سکتا ہے جس میں کوئی چھوٹی چپ بھی شامل ہو۔یہ پہلی بار نہیں تھا کہ القاعدہ کے راہنما نے اپنے خاندان کے ارکان کے ایران کا دورہ کرنے کے بعد ان کی نقل وحرکت پر نظر رکھے جانے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔گذشتہ سال جاری ہونے والی دستاویزات میں شامل ایک خط میں بھی بن لادن نے اس تشویش کا اظہار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ کے دانت کے علاج کے دوران کوئی ایسا آلہ نصب کر دیا گیا ہو گا، اگرچہ مبینہ طور پر ایسا کرنے کا الزام انہوں نے امریکہ پر عائد کیا تھا۔

اپنی بہن ام عبد الرحمان کے نام لکھے گئے خط میں بن لادن نے اس امید کا اظہار کیا وہ بہت جلد ان سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے لکھا کہ ذرائع ابلاغ میں جاری ہونے والی اوباما کی تقریر میں کہا گیا ہے کہ وہ چھ ماہ کے بعد امریکہ سے اپنی فورسز کو واپس بلا لیں گے۔

متعلقہ عنوان :