درانی میڈیا کالونی کا ترقیاتی کام، صحافیوں کی باقی ماندہ اقساط کی ادائیگی ،قبضہ ..
تازہ ترین : 1

درانی میڈیا کالونی کا ترقیاتی کام، صحافیوں کی باقی ماندہ اقساط کی ادائیگی ،قبضہ دینے کا عمل جلد مکمل ہوگا،،مظفر سید ایڈووکیٹ

دہشت گردی کی گزشتہ لہر کے دوران سیکورٹی جوانوں ،معصوم شہریوں کے شانہ بشانہ صحافی برادری نے بھی لازوال ،بے پناہ قربانیاں دیں ،قیام امن کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کئے صوبے میں پائیدار بنیادوں پر امن کا قیام، اداروں کی مضبوطی ،اسلامی اقدار کا فروغ ہماری ترجیحات ہیں ،وزیرخزانہ خیبرپختونخوا

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2017ء)خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ پشاور کی صحافی برادری کو درپیش رہائشی مسائل کے حل کیلئے وزیراعلیٰ پرویزخٹک کی ہدایات کی روشنی میں درانی میڈیا کالونی کا ترقیاتی کام اسی سال مکمل کرنے کے علاوہ صحافیوں کی باقی ماندہ اقساط کی ادائیگی اور انہیں قبضہ دینے کا عمل بھی جلد از جلد مکمل کیا جا رہا ہے جس کیلئے نئے بجٹ میں مزید خاطرخواہ فنڈز مختص کئے جا رہے ہیں اسی طرح کلب کی سالانہ گرانٹ میں اضافے کی درخواست کا بھی ہمدردانہ جائزہ لیا جائے گا وہ اپنے دفتر سول سیکرٹریٹ پشاور میں عالمگیر خان، عزیز بونیری اور سید علی حضرت باچا کی زیر قیادت پشاور پریس کلب اور جرنلسٹس ویلفئیر فائونڈیشن کے وفود سے بات چیت کر رہے تھے مظفر سید ایڈوکیٹ نے ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ اور عوامی مسائل کے حل کے ضمن میں جابر حکمرانوں کے سامنے بھی کلمہ حق کہنے اور بے پناہ جانی و مالی قربانیوں پر صحافی برادری کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یہ بھی اعتراف کیا کہ الیکٹرانک میڈیا کے سبب اب صحافیوں کی ڈیوٹی میں دن رات کا فرق بھی ختم ہو گیا ہے جبکہ پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے ضمن میں انہیں کافی دشواریوں اور نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا ہماری حکومت کو پورا احساس ہے انہوں نے کہا کہ ہماری اتحادی حکومت میڈیا کو قرارواقعی ریاست کا چوتھا ستون سمجھتی ہے اور اسکی مضبوطی کیلئے شروع دن سے ٹھوس اقدامات ہمارے اخلاص کے غماز ہیں انہوں نے کہا کہ پریس کلب کی سالانہ گرانٹ تیس لاکھ روپے تک پہنچانے کے علاوہ کروڑوں روپے کے انڈومنٹ فنڈ کے قیام کا مقصد پریس کلب کو مالی لحاظ سے خودکفیل بنانا ہے تاکہ وہ ہر سال حکومتوں سے مالی معاونت کی درخواستیں کرنے سے بے نیاز ہوں اور کلب کی آمدن اور اخراجات کو ایک نظام کے تحت خودکاربنایا جا سکے انہوں نے صوبے بھر میں جاں بحق اور شہید صحافیوں کے یتیم بچوں اور بیوائوں کی فلاح و بہبود کیلئے جرنلسٹس ویلفئیر فائونڈیشن کے کردار کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ تنظیم کی فلاحی سکیموں کیلئے حکومتی سرپرستی کے ساتھ ساتھ تاجر و صنعتکار برادری اور مخیر شہریوں سے بھی اسکی مالی معاونت کیلئے بات کرینگے وزیراعلیٰ نے گزشتہ سال تنظیم کو دس لاکھ روپے دئیے جبکہ مزید امداد کی حتی الوسع کوشش بھی کی جائے گی تاہم انہوں نے کہا کہ فائونڈیشن کی فلاحی سکیموں کی تفصیلات دی جائیں تو ان میں محکمہ سماجی بہبود اور دیگر اداروں کی شمولیت یقینی بناکر امداد کا دائرہ بھی بڑھایا جا سکتا ہے وزیرخزانہ نے کہا کہ دہشت گردی کی گزشتہ لہر کے دوران سیکورٹی جوانوں اور معصوم شہریوں کے شانہ بشانہ ہماری صحافی برادری نے بھی لازوال اور بے پناہ قربانیاں دیں اور قیام امن کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے صوبے میں پائیدار بنیادوں پر امن کا قیام، اداروں کی مضبوطی اور اسلامی اقدار کا فروغ ہماری ترجیحات ہیں فاٹا، گلگت بلتستان اورافغانستان سمیت پورے جنوبی ایشیاء سے قربت کے باعث یہاں دائمی امن پورے ملک بلکہ خطے کی تقدیر بدلے گا امن غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی جبکہ معاشی سرگرمیوں میں تیزی کا موجب ہے اس مقصد کیلئے ہم دہشت گردی کے اسباب اور جڑیں ختم کرنے کے علاوہ پولیس نظام میں بنیادی اور انقلابی تبدیلیاں لانے میں کوشاں رہے پہلی بار انٹیلی جنس، تفتیش اور انسداد دہشت گردی کے فعال ادارے قائم کئے اسی طرح بڑے شہروں میں خفیہ کیمرے نصب کئے پولیس کی استعداد کار کو بڑھایا گیا افسران کی کمی کو دور کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے ہماری کوشش رہی کہ بد امنی کے واقعات میں نہ تو ہمارے شہری شہید ہوں اور نہ ہی پولیس اور سکیورٹی اہلکار کیونکہ ہم قیمتی جانوں کے مزید ضیاع کے متحمل نہیں ہو سکتے ہم عوام سے کئے گئے ہر وعدہ پورا کررہے ہیں کرپشن کی بیخ کنی کیلئے موثر اقدامات کئے گئے جس کا خاتمہ نیچے سے نہیں بلکہ اوپر سے شروع کیا گیا پولیس یا کسی بھی محکمے میں رشوت اور بد عنوانی کا ذمہ دار اُ س کا سربراہ گردانا گیا تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ٹریفک نظام کی بہتری کیلئے ٹھوس اقدامات کئے گئے حکام پر واضح کیا گیا کہ عوام کو تعلیم، صحت،آبنوشی اور دیگر سماجی خدمات مہیا کرنے والے اداروںمیں تمام ضروری عملہ ، آلات اور دیگر ضروریات ہرصورت موجود اور ان کی کمی ہنگامی بنیادوں پر پوری ہونی چاہئیے ادویات اور اشیائے خوراک میں کوئی ملاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے کرنے والوں کو بڑا مجرم بلکہ قوم دشمن سمجھ کر سزاد ی جائے گی پہلی جماعت سے لیکر میٹرک تک تعلیم مفت و یکساں بنائی گئی تاکہ غریب بھی اپنی صلاحیتوں کے مطابق ڈاکٹر، انجینئر، بیوروکریٹ و حکمران بن سکے غریب کیلئے علاج بھی مفت ہوا صوبائی حکومت نے ہیلتھ انڈومنٹ کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کئے جس میں بتدریج اضافہ اور علاج کی سہولیات بہتر بنائی جاتی رہیں اضلاع کے بعد تحصیل کی سطح پر بھی بڑے ہسپتالوںمیں ایمرجنسی علاج مفت بنایا گیا جبکہ سٹور میں کوئی دوائی دستیاب نہ ہونے کی صورت میں بازار سے خرید کر مریض کو مفت مہیا کرنے کا طریقہ کار اپنایا گیا مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا کہ اگر تمام محکمے صحیح کام کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ عوام مطمئن ہوں اور ہم دن دوگنی رات چوگنی ترقی کریں انہوں نے وفود کو موجودہ صوبائی حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کے سلسلے میں اب تک ہونے والی پیش رفت اور بہتر عوامی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے مختلف محکموں میں متعارف کردہ اصلاحات سے تفصیلی آگاہ کیا جبکہ صحافی وفود نے انہیں سراہتے ہوئے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

وقت اشاعت : 11/01/2017 - 22:47:36

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں