سرگرم سوشل میڈیا انسانی حقوق محافظین کی،جلد باحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے،پاکستان ..
تازہ ترین : 1

سرگرم سوشل میڈیا انسانی حقوق محافظین کی،جلد باحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے،پاکستان ہیومن رائٹس ڈیفینڈرز نیٹ ورک

اسلام آباد /لاہور /پشاور /کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2017ء)پاکستان ہیومن رائٹس ڈیفینڈرز نیٹ ورک نے انسانی حقوق محافظین کو پیش آنے والے مشکل حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ،قریب پانچ سوشل میڈیا ایکٹیووسٹ کی گمشدگی کے واقعات کی مذمت کی ہے۔یہ تمام بلاگرز،سوشل میڈیا پر جمہوری قدروں اور انسانی حقوق کے بلا تعصب ،رنگ،نسل،مذہب،جنس یا عقیدہ کے فروغ کے لئے کام کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔

اس قسم کے بلاجواز حراست میں لئے جانے کے واقعات آئین پاکستان کے آرٹیکل برائے شفاف سماعت کے حق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔ نیٹ ورک نے بدھ کے روز جاری کئے جانے والے میڈیا بیان میں جنوری کے پہلے ہفتہ میں ملک کے مختلف حصوں سے غائب ہونے والے سرگرم انسانی حقوق محافظین ،سلمان حیدر،ثمر عباس،وقاص گورایہ اور عاصم سعید کی بحفاظت اور فوری بازیابی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

نیٹ ورک اراکین کا کہنا تھاکہ چونکہ کسی بھی حکومتی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے ایسے کسی بھی واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی،لہذا ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ ان گمشدہ افراد کی فی الفور بازیابی یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے۔نیٹ ورک نے یہ تجویز بھی دی کہ حکومت کی طرف سے ان افراد کے خاندانوں کو اس حوالے سے اعتماد میں لیا جاناچاہئے اور انہیں حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا جائے۔

نیٹ ورک کی کنوینر مس تنویر جہاں کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ افراد کسی غیر قانونی کام کے مرتکب پائے گئے ہیں تو ان کے خلاف مقدمات درج کر کے عدالت میں ان مقدمات کی شفاف طریقہ سے سماعت کی جائے۔پاکستان ہیومن رائٹس ڈیفینڈرز نیٹ ورک کی کنوینر محترمہ تنویر جہاں اور کمیٹی اراکین ،پیٹر جیکب،بشریٰ خالق ،منزہ ہاشمی،علی پل،جان مینگل ،قمر نسیم اور ذوالفقار کا مزید کہنا تھا کہ جبری گمشدگی کے واقعات سے پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی ہو رہی ہے،حال ہی میں ہونے والے ان واقعات سے مزید بدنامی اور عالمی سطح پر پاکستان کی تنہائی میں اضافہ ہو گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے واقعات کے ذمہ دارن کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے موثر حکومتی اقدامات اٹھائے جائیں۔نیٹ ورک کے اراکین نے زور دیا کہ پائیدار اور موثر جمہوریت کے لئے ضروری ہے کہ ریاست کے تمام شعبہ جات انسانی حقوق کے موثر تحفظ اور ان حقوق کی فراہمی کے لئے کوشاں انسانی حقوق محافظین کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/01/2017 - 22:27:15

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں