تحریک انصاف سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے بالاتر ہوکراحتساب کے حوالے سے موثرقانون سازی ..
تازہ ترین : 1

تحریک انصاف سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے بالاتر ہوکراحتساب کے حوالے سے موثرقانون سازی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے، ،احتساب کیلئے پہلے بنائے گئے قوانین کرپشن روکنے میں ناکام رہے ، کرپشن کا ناسور گلی،محلے میں بحث کی شکل اختیار کرچکا ہے ، پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں حکومت سے نیب آرڈیننس سے دست برداری کا مطالبہ کیاگیا ، حکومت اس سے متفق نہیں ،نیب بحیثیت ادارہ کرپشن ختم کرنے میں ناکام رہا ہے

تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2017ء)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے بالاتر ہوکراحتساب کے حوالے سے موثرقانون بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے،جس پر سب کا اعتماد ہو،احتساب کیلئے اس سے قبل جو قوانین بنائے گئے وہ کرپشن روکنے میں ناکام ہوئے اور کرپشن ایک ناسور بن کر گلی،محلے میں بحث کی شکل اختیار کرچکی ہے،نیب کے قانون کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں مطالبہ کیا کہ حکومت نیب آرڈیننس سے دست بردار ہو لیکن حکومت نے اتفاق نہیں کیا،نیب بحیثیت ادارہ کرپشن ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

بدھ کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ آج نیب کے قانون کے حوالے سے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین کے انتخاب کے ساتھ ساتھ کمیٹی کے رولز کا فیصلہ کیا گیا،18ویں ترمیم کیلئے جو کمیٹی بنائی گئی تھی موجودہ کمیٹی کی بھی اتنی ہی حیثیت ہے،اس سے قبل1947اور 1999میں احتساب کے حوالے سے قوانین بنائے گئے لیکن وہ کرپشن روکنے میں ناکام رہے،کرپشن بتدریج بڑھتی گئی اور آج ایک ناسور بن چکی ہے،سپریم کورٹ میں پانامہ کرپسن کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہورہی ہے،کرپشن کے موضوع پر ہر گلی کوچے میں بحث ہورہی ہے،آج کے اجلاس میں سید نویدقمر،فرحت اللہ بابر،آفتاب شیرپائو اور صاحبزادہ طارق اللہ نے میرے موقف کی حمایت کی ہے جب نیب کے قانون کیلئے پارلیمانی کمیٹی بن چکی ہے تو حکومت کو نیب آرڈیننس لانے کی کیا ضرورت تھی،نیب بحیثیت ادارہ کرپشن روکنے میں ناکام ہوگیا ہے،اس حوالے سے سپریم کورٹ کی آبزرویشن سب کے سامنے ہے،نیب آزادانہ کام کرنے میں ناکام رہا اور یہ حکومتوں کے ماتحت ہے اور اثر لیتا ہے،نیب کو خودمختار ادارہ بنانے کیلئے نیا قانون بنانا ہوگا،آج کے اجلاس میں مطالبہ کیا کہ حکومت نیب آرڈیننس واپس لے اور دست بردار ہو اور اتفاق رائے سے موثر قانون بنایا جائے،کمیٹی کے ٹرم آف ریفرنس وسیع کیا جائے،گذشہ مدت کے دوران نیب قانون کے حوالے سے کمیٹی میں کام ہوا اور پی ٹی آئی کا احتساب کے حوالے سے بل اور جماعت اسلامی کا بل بھی اگلے اجلاس میں ارکان کو لینے کافیصلہ کیا گیا ہے،چیئرمین سینیٹ کا عوام کو لکھا گیا خط میں ارکان کو دیا جائے گا تاکہ استفادہ کیا جاسکے،تحریک انصاف سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے بالاتر ہو کر یکساں احتساب کیلئے موثر قانون بنانے کیلئے اپنا کردار اداکرے گی۔

…(خ م+وخ)

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/01/2017 - 18:47:36

اپنی رائے کا اظہار کریں