وزیرقانون و انصاف زاہد حامد اتفاق رائے سے پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قانون ..
تازہ ترین : 1

وزیرقانون و انصاف زاہد حامد اتفاق رائے سے پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قانون کے چیئرمین منتخب

اپوزیشن جماعتوں کا فوج و عدلیہ سمیت سب کے بلاتفریق احتساب کونئے قانون میں شامل کرنے کا مطالبہ قانون کی تیاری کیلئے سابقہ دور میں احتساب ایکٹ کیلئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) مابین ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات احتساب کمیشن کے بارے میں چیئرمین سینیٹ اور قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی، تحریک انصاف کے پیش بلز پارلیمانی کمیٹی میں پیش کرنے کی ہدایت ،ابتدائی طور پر کمیٹی کے دائرہ اختیار کی منظوری

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2017ء)وزیرقانون و انصاف زاہد حامد کو اتفاق رائے سے پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قانون کا چیئرمین منتخب کرلیا گیا ،اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے نومنتخب چیئرمین کو مبارکباد دی ہے،احتساب کا جامع اور موثر قانون بنے گا اپوزیشن جماعتوں نے بلاتفریق احتساب بشمول فوج و عدلیہ کو اس قانون میں شامل کرنے کا مطالبہ کردیا ،قانون کی تیاری کیلئے سابقہ دور میں احتساب ایکٹ کیلئے پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات احتساب کمیشن کے بارے میں چیئرمین سینیٹ اور قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی، تحریک انصاف کے پیش بلز پارلیمانی کمیٹی میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی گئی،ابتدائی طور پر کمیٹی کے دائرہ اختیار کی منظوری دے دی گئی ہے۔

بدھ کو پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قانون کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس کے آئینی روح میں ہوا۔وزیرمملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے کمیٹی کی چیئرمین شپ کیلئے وزیرقانون زاہد حامد کا نام تجویز کیا۔سینیٹر جاوید عباسی،سینیٹر سعود مجید نے تائید کی، کسی جماعت نے زاہد حامد کو کمیٹی کا سربراہ بنانے کی مخالفت نہیں کی، اس طرح اتفاق رائے سے زاہد حامد چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قانون منتخب ہوگئے ہیں۔

سید نوید قمر،شاہ محمود قریشی اور صاحبزادہ طارق اللہ نے احتساب قانون پر نظر ثانی کیلئے دونوں ایوانوں کی 20رکنی کمیٹی کے قیام کے باوجود نیب قانون میں ترمیم کیلئے آرڈیننس جاری کرنے کی سخت مخالفت کی۔سید نوید قمرنے صدارتی آرڈیننس کو کمیٹی کی توہین قراردیا۔شاہ محمود قریشی نے مطالبہ کیا کہ حکومت آرڈیننس سے دستبردار ہویا کمیٹی کو تحلیل کردیاجائے۔

صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ 20اگست2016کو قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کی طرف سے احستاب بل پیش کرچکے ہیں،حکومت نے بالکل اس جامع بل کو کوئی اہمیت نہیں دی،اب عدالت عظمیٰ کی وجہ سے آرڈیننس لے آئے جب کہ حکومت پلی بارگین سمیت دیگر شقوں پر نظرثانی کا بلز کی صورت میں موقع ملا تھا،ان بلز پر وسیع تر اتفاق رائے موجود ہے۔زاہد حامد نے وضاحت کی کہ سپریم کورٹ پلی بارگین اور رضاکارانہ واپسی سے متعلق نیب ایکٹ کی شق کو معطل کرچکی ہے،حکومت نے اپنے موقف کیلئے یہ آرڈیننس جاری کیا،پارلیمانی کمیٹی کے پاس اپنا مینڈینٹ ہے،ہم نے مجموعی طور پر قانون کا جائزہ لیا،پارلیمانی کمیٹی چاہے تو نیب سے متعلق قانون کو مکمل طور پر تبدیل کرسکتی ہے،پارلیمانی کمیٹی کے دائرہ کار میں توسیع کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے اس کی منظوری حاصل کرلی جائے گی حکومت اس معاملے میں اوپن ہے۔

شاہ محمود قریشی نے سابقہ دور میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی میں مجوزہ احتساب ایکٹ پر ہونے والی بات چیت احتساب کمیشن بارے چیئرمین سینیٹ کااوپن خط جماعت اسلامی،تحریک انصاف کے احتساب بلز کا کمیٹی میں جائزہ لینے کی تجویز دی جسے تسلیم کرلیا گیا۔آفتاب احمد خان شیرپائو نے سب کے بلاامتیاز احتساب بشمول جرنیل اور ججز کو بھی قانون میں شامل کرنے کی تجویز دی اور کہا کہ اس تاثر کو تقویت دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ صرف سیاستدان کرپٹ ہیں،اگر ہم میں ہمت ہے تو بلاتفریق احتساب کا قانون بنالیں۔

فرحت اللہ بابر نے تجویز دی کہ عسکری ادارہ،عدلیہ کو قانون کاحصہ نہ بنایا گیا تو قانون کی اتنی افادیت نہیں ہوگی۔سینیٹر جاوید عباسی،نعیم کشورنے تجویز دی کہ اداروں کے صاف شاف احتساب کو قانون کا حصہ بننا چاہیے۔وزیرمملکت انوشہ رحمان نے کہا کہ گذشتہ ور میں اس وقت کے وزیرقانون و انصاف فاروق ایچ نائیک کیلئے احتساب قانون کیلئے کہ اچھی نیت سے کرپشن کو نظر انداز کردیا جائے اور اسے کرپشن کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے،اس تجویز پر دونوں جماعتوں میں ڈیڈلاک پیدا ہوگیا تھا،مسلم لیگ (ن) نے اصولی طور پر اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا تھا،گذشتہ روز پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قانون کیلئے پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کے قواعد و ضوابط لاگوکرنے کی منظوری دے دی گئی تاہم مجوزہ قانون کی کسی بھی شق پر اتفاق رائے نہ کیا،نصف ارکاین کی حمایت سے اس کی منظوری دی جاسکے گی،اجلاس کیلئے ایک چوتھائی کورم ضروی ہوگا،کوئی بھی رکن کسی اور رکن کو اپنی نمائندگی کیلئے نامزد کرسکے گا اجلاس میں اپوزیشن کی چاروں جماعتوں تحریک انصاف،پیپلزپارٹی،جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے نومنتخب چیئرمین کو مبارکباد دیتے ہوئے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

…(خ م+ا ع )
وقت اشاعت : 11/01/2017 - 18:47:35

اپنی رائے کا اظہار کریں